پشاور: آل گورنمنٹ ایمپلائیز گرینڈ الائنس (اگیگا) اور آل گورنمنٹ ایمپلائیز کوآرڈینیشن کونسل خیبر پختونخوا نے 10 فروری کو سرکاری ملازمین کے لیے "یومِ سیاہ” قرار دیتے ہوئے مطالبات کی عدم منظوری کی صورت میں عیدالفطر کے بعد صوبہ بھر میں احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان پشاور پریس کلب میں منعقدہ ایک پرہجوم پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا۔
صوبائی صدر اگیگا خیبر پختونخوا پروفیسر عبدالحمید آفریدی نے کہا کہ 10 فروری وہ دن ہے جب اسلام آباد میں اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے سرکاری ملازمین پر تشدد کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اسی مناسبت سے ہر سال 10 فروری کو یومِ سیاہ منایا جائے گا۔ سیکیورٹی صورتحال اور تیراہ کے متاثرین کے پیش نظر اس بار احتجاج موخر کیا گیا، تاہم حکومت سے سنجیدہ مذاکرات کی امید رکھی گئی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاق کی طرز پر صوبائی حکومت بھی پنشن کا پرانا نظام بحال کرے اور 2011 اور 2015 کے الاؤنسز کو بحال کیا جائے۔ اگیگا رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وفاقی بجٹ 2025 میں اعلان کردہ 30 فیصد ڈسپیرٹی ریڈکشن الاؤنس صوبے میں بھی دیا جائے، جبکہ 15 فیصد پرانے اسکیل پر دیے گئے الاؤنس کو مسترد کرتے ہوئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔
پریس کانفرنس میں جی پی فنڈ کے سابقہ طریقہ کار کی بحالی، سی پی فنڈ کے نوٹیفکیشن کی واپسی، یکم جولائی 2022 کے بعد بھرتی ملازمین کی ریگولرائزیشن، اساتذہ کی اپ گریڈیشن پر فوری عمل درآمد اور کلاس فور ملازمین کی ختم شدہ آسامیوں کی بحالی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ بلدیاتی ملازمین کی تنخواہیں اکاؤنٹ فور سے ادا کرنے، آئی ٹی اساتذہ و ملازمین اور ڈی پی ایز کو سروس اسٹرکچر دینے، لائبریرین کی نئی آسامیاں تخلیق کرنے اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں بی پی ایس 6 آپریٹر کی پوسٹ بحال کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
اگیگا قیادت نے کہا کہ ریسرچرز، پروفیسرز اور اساتذہ کو 50 فیصد ٹیکس ریبیٹ دیا جائے اور یوٹیلیٹی الاؤنس اٹیچڈ ڈیپارٹمنٹس تک توسیع کیا جائے۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز کی اپ گریڈیشن اور سروس اسٹرکچر، کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی اور واٹر اینڈ سینیٹیشن کمپنیوں کے کیڈر ملازمین کے لیے قانون سازی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
رہنماؤں نے تعلیمی اداروں کی آؤٹ سورسنگ، بورڈ آف گورنرز کے قیام اور ناتجربہ کار امتحانی عملے کی بھرتی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اساتذہ امتحانی ڈیوٹیوں اور پیپر مارکنگ کا بائیکاٹ بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مہنگائی کے تناظر میں ہاؤس رینٹ، کنونس الاؤنس کو کم از کم 15 ہزار روپے اور میڈیکل الاؤنس میں اضافے کا مطالبہ بھی کیا۔
اگیگا نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے سنجیدگی نہ دکھائی تو عیدالفطر کے بعد تعلیمی اداروں کی بندش، ہسپتالوں کی او پی ڈی کا بائیکاٹ، قلم چھوڑ ہڑتال، ریلیاں، تالہ بندیاں اور صوبائی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔
پریس کانفرنس میں اگیگا اور کوآرڈینیشن کونسل کے مرکزی و صوبائی قائدین اور مختلف تنظیموں کے نمائندگان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے