
پشاور (مدثر زیب سے)
یومِ اظہارِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر جماعت اسلامی ضلع پشاور کے زیرِاہتمام امیر جماعت اسلامی پاکستان انجینئر حافظ نعیم الرحمن کی کال پر ایک بڑے کشمیر مارچ کا انعقاد کیا گیا۔ مارچ ہشتنگری چوک سے شروع ہو کر مین جی ٹی روڈ کے راستے اشرف روڈ تک پہنچا، جس میں خواتین، بچوں اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
کشمیر مارچ سے قبل پولیس اسٹیشن ہشتنگری کے سامنے منعقدہ اجتماع سے جماعت اسلامی خیبر پختونخوا وسطی کے امیر عبدالواسع، ضلعی امیر بحراللہ خان ایڈوکیٹ، سابق صوبائی وزیر حافظ حشمت خان، کاشف اعظم خلیل، جماعت اسلامی حلقہ خواتین کی سابق اراکین قومی و صوبائی اسمبلی بلقیس حسین اور عنایت بیگم، امیر شہر حافظ حمید اللہ ایڈوکیٹ، پاکستان بزنس فورم کے صدر خالد گل مہمند، سرحد چیمبر آف کامرس کے رہنما خالد منصور اور جماعت اسلامی یوتھ پشاور کے صدر اسامہ امیر نے خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر اس وقت عملی طور پر دنیا کی سب سے بڑی جیل کا منظر پیش کر رہا ہے، جہاں خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہنے والی بھارتی حکومت نے نو لاکھ سے زائد قابض افواج کے ذریعے گزشتہ 78 برسوں سے نہتے کشمیری عوام پر ظلم و جبر مسلط کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج نے بندوق کے زور پر کشمیری عوام سے ان کا پیدائشی اور آئینی حقِ آزادی چھین رکھا ہے۔
خطاب کرنے والوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر اقوام متحدہ سمیت عالمی فورمز نے متعدد قراردادیں منظور کیں، مگر بھارت مسلسل ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان پر عمل درآمد سے انکاری ہے۔ مقررین کے مطابق کالے قوانین، آرٹیکل 370 اور 35-A کے خاتمے کے بعد مسلمانوں کو بے دخل کر کے ان کی جائیدادیں سرکاری تحویل میں لی جا رہی ہیں اور بھارت کے دیگر علاقوں سے غیر مقامی افراد کو آباد کر کے مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مقررین نے بتایا کہ اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں جبکہ 11 ہزار سے زائد کشمیری آج بھی بھارتی عقوبت خانوں اور ٹارچر سیلز میں بدترین تشدد کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود بھارت کشمیری عوام کے جذبۂ آزادی کو دبانے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام آج بھی پاکستان سے الحاق کے خواہاں ہیں اور بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔
آخر میں مقررین نے مطالبہ کیا کہ پاکستانی حکمران کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے عالمی سطح پر مؤثر اور تعمیری کردار ادا کریں اور اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی ادارے اپنی منظور شدہ قراردادوں پر فوری عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔
![]()