پشاور: خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت کی ٹرائبل تحصیل سب ڈویژن بیٹنی کے عوام نے گیس رائلٹی سے محرومی اور ماحولیاتی آلودگی کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں کی توجہ اس سنگین مسئلے کی جانب مبذول کرائی ہے۔ بیٹنی قومی جرگہ کے جنرل سیکرٹری اور جمعیت علمائے اسلام کی مرکزی ایگزیکٹو کونسل کے رکن مولانا محمد عمر اشرفی نے بیٹنی کے عمائدین کے ہمراہ پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ علاقے میں او جی ڈی سی ایل کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر گیس اور معدنیات کی تلاش کے لیے ڈرلنگ جاری ہے، تاہم اس دوران نکلنے والا زہریلا فضلہ مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کے بجائے آبادی والے علاقوں میں پھینکا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زہریلے فضلے کے باعث علاقے میں مختلف بیماریاں پھیل رہی ہیں جبکہ زرعی زمینیں بنجر ہوتی جا رہی ہیں، جو مقامی آبادی کے لیے روزگار کا واحد ذریعہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سب ڈویژن بیٹنی قدرتی معدنیات اور گیس کے وسیع ذخائر رکھتا ہے، اس کے باوجود مقامی عوام کو آئینی حق ہونے کے باوجود گیس رائلٹی سے محروم رکھا گیا ہے۔
مولانا محمد عمر اشرفی نے بتایا کہ گزشتہ چالیس روز سے بزرگوں، خواتین اور بچوں سمیت علاقہ مکین سراپا احتجاج ہیں، مگر صوبائی اور وفاقی حکومت کی جانب سے کوئی عملی اقدام سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری زمینوں پر ڈرلنگ ہو رہی ہے لیکن ہمیں نہ رائلٹی دی جا رہی ہے اور نہ ہی ہماری آواز سنی جا رہی ہے، جو سراسر ناانصافی ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران بیٹنی کے عمائدین ریٹائرڈ صوبیدار ستان احمد، ملک حاجی میرا خان، ملک عمل جان، ملک اول خان، ملک مشال خان، ملک عمر جان اور ملک فدا محمد نے بھی اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ او جی ڈی سی ایل کی جانب سے بعض غیر متعلقہ افراد کو رائلٹی کی ادائیگی ماورائے قانون اور آئین کے خلاف ہے۔
عمائدین نے مزید بتایا کہ اسسٹنٹ کمشنر، ٹی ایم اے اور تحصیل چیئرمین کی جانب سے صوبائی حکومت کو رائلٹی کے حوالے سے خط و کتابت بھی کی گئی، تاہم فائل آگے نہ بڑھ سکی، جس سے حکومتی سنجیدگی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بیٹنی قوم کو ان کا جائز حق نہ دیا گیا تو وہ ہر صورت پُرامن احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے۔
بیٹنی قومی جرگہ اور سیاسی جماعتوں نے مطالبہ کیا کہ آئین و قانون کی بالادستی کو یقینی بناتے ہوئے مقامی افراد کو فوری طور پر گیس رائلٹی دی جائے، رائلٹی کی تقسیم میں بیٹنی قوم کے اصل سٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے اور حاصل ہونے والے وسائل سے علاقے میں ہسپتال، تعلیمی ادارے اور بنیادی انفراسٹرکچر تعمیر کیا جائے۔
![]()