
یہ معاملہ بظاہر ایک گھریلو تنازع دکھائی دیتا ہے، مگر جب اس کی تہہ میں جایا جائے تو یہ کہانی ایک ایسے سماجی سانحے میں بدل جاتی ہے جہاں الزام، سچ، جذبات، غیرت، جائیداد اور مذہب سب آپس میں الجھ کر ایک خوفناک صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ نائلہ نامی خاتون، جو چار بچوں کی ماں ہے، اچانک ایک ایسی بحث کا مرکز بن گئی جس نے پورے معاشرے کو دو حصوں میں بانٹ دیا۔
یہ کہانی اس وقت شدت اختیار کرتی ہے جب نائلہ کے بڑے بیٹے آشر، جس کی عمر تقریباً سولہ سال بتائی جاتی ہے، اپنی ماں پر سنگین الزامات عائد کرتا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کی ماں کے محلے کے ایک درزی کے ساتھ تعلقات تھے، وہ ویڈیو کالز پر بات کرتی تھی، اس سے ملتی تھی اور کئی بار گھر چھوڑ کر چلی گئی۔ یہ الزامات صرف ایک بچے کے نہیں تھے بلکہ پورے محلے کی زبان پر آ گئے۔
اسی دوران ایک اور خوفناک دعویٰ سامنے آیا کہ نائلہ نے اپنے ہی بیٹے پر بدکرداری کا الزام لگا دیا ہے۔ کہا گیا کہ اس نے عدالت میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس کا بیٹا رات کو اس کے ساتھ غلط حرکات کرتا ہے۔ یہ الزام اتنا سنگین تھا کہ سننے والے کے لیے اس پر یقین کرنا بھی مشکل ہو گیا۔
بیٹے نے اس الزام کو سراسر جھوٹ قرار دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ماں کی عزت کرتا ہے، اس کی کفالت کرتا رہا، اسے واپس گھر لاتا رہا اور اپنی چھوٹی بہن کے اخراجات تک اٹھاتا رہا۔ اس کے مطابق ماں کے رویے اور معاشرتی طعنوں نے اس کی زندگی اجیرن بنا دی، یہاں تک کہ اس نے تعلیم اور کام چھوڑ دیا۔
سسرال والوں کی جانب سے بھی نائلہ کے خلاف سخت بیانات سامنے آئے۔ ساس، نند، دیورانی اور دیگر رشتہ داروں کا کہنا تھا کہ نائلہ نے سولہ سالہ شادی میں گھر کو کبھی سکون نصیب نہیں ہونے دیا اور بار بار گھر چھوڑ کر جاتی رہی۔
اس پورے تنازع میں ایک مرلے کے گھر کا معاملہ مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔ یہ گھر قانونی طور پر نائلہ کے نام تھا، جس کی بنیاد پر عدالت نے فیصلہ دیا کہ اس پر حق اسی کا ہے۔ مگر اسی جائیداد نے رشتوں کو مزید تلخ بنا دیا۔
پولیس کی مداخلت ہوئی، مقدمات درج ہوئے اور خاندان کو گھر سے نکال دیا گیا۔ معاملہ سوشل میڈیا تک پہنچا تو نائلہ کو شدید تنقید، گالیوں اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ اس کی کردار کشی دن رات کی جانے لگی۔
بعد ازاں نائلہ خود سامنے آئی اور اس نے مکمل طور پر مختلف کہانی بیان کی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نے کبھی اپنے بیٹے پر کوئی الزام نہیں لگایا اور یہ باتیں اس کے خلاف من گھڑت انداز میں پھیلائی گئیں
نائلہ نے دعویٰ کیا کہ اس کے شوہر نے اسے طلاق دی تھی اور بعد میں دوبارہ رجوع کے لیے حلالہ کا راستہ نکالنے کی کوشش کی گئی۔ اس مقصد کے لیے علی حسن نامی شخص کو درمیان میں لایا گیا اور نکاح کروایا گیا۔
اس نکاح کے پیچھے مبینہ طور پر مالی لین دین کی باتیں بھی سامنے آئیں، جس نے اس پورے عمل کو مزید مشکوک بنا دیا۔ بعد میں یہی نکاح ایک نئے تنازع کا سبب بن گیا اور نائلہ مزید بدنامی کا شکار ہو گئی۔
علی حسن کے بیانات نے کہانی کو ایک نیا رخ دیا۔ اس نے نائلہ کے شوہر کے کردار پر سوالات اٹھائے اور دعویٰ کیا کہ نائلہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھی اور ازدواجی زندگی سے مطمئن نہیں تھی۔ ان تمام متضاد بیانات کے بعد یہ طے کرنا مشکل ہو گیا کہ سچ کہاں ہے۔ ہر فریق اپنی جگہ مظلوم دکھائی دیتا ہے اور ہر کردار پر کسی نہ کسی حد تک سوالیہ نشان موجود ہے۔
اس کیس کا سب سے دلخراش پہلو وہ منظر تھا جب عدالت میں نائلہ کے بڑے بیٹے نے غصے میں اپنی ماں کو تھپڑ مار دیا۔ یہ لمحہ صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی اخلاقی شکست کی علامت بن گیا۔
قانون نے تو اپنا راستہ اختیار کیا اور جائیداد کے حوالے سے فیصلہ سنا دیا، مگر یہ فیصلہ ان جذباتی زخموں کا مداوا نہ کر سکا جو اس خاندان کو لگ چکے تھے۔ سب سے زیادہ نقصان بچوں کا ہوا، جنہیں بڑوں کے جھگڑوں میں استعمال کیا گیا۔ نفرت، الزامات اور مسلسل ذہنی دباؤ نے ان کی سوچ اور مستقبل کو شدید متاثر کیا۔
یہ واقعہ اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ جب گھریلو مسائل میں جائیداد اور نام نہاد غیرت شامل ہو جائے تو معاملہ حل ہونے کے بجائے بگڑ جاتا ہے۔
حساس مذہبی معاملات کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنا بھی اس کہانی کا ایک تاریک پہلو ہے، جس نے نہ صرف نائلہ بلکہ پورے خاندان کو بدنامی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔
سوشل میڈیا نے اس کیس کو مزید پیچیدہ بنا دیا، جہاں تحقیق کے بغیر فیصلے صادر کیے گئے اور ایک عورت کو مجرم ثابت کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی گئی۔
میرے نظر میں اس کہانی کو دیکھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ابتدائی طور پر جو الزامات بیٹے کی زبان سے سنے گئے، وہ مکمل طور پر فطری نہیں لگتے بلکہ کسی حد تک اسے ایک مخصوص بیانیہ دہرانے پر مجبور کیا گیا محسوس ہوتا ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ سچ ان تمام بیانات کے درمیان کہیں موجود ہو، مگر اتنا واضح ہے کہ اس تنازع میں کسی ایک فریق کو مکمل طور پر قصوروار ٹھہرانا خود ایک ناانصافی ہوگی۔
یہ کیس ہمیں یاد دلاتا ہے کہ گھریلو معاملات کو تماشہ بنانے کے بجائے انہیں سمجھداری، تحقیق اور تحمل کے ساتھ دیکھنا چاہیے، کیونکہ جب رشتے عدالتوں اور سوشل میڈیا کے کٹہرے میں کھڑے ہو جائیں تو سب سے زیادہ نقصان انسانیت کا ہوتا ہے۔
یہ صرف نائلہ، آشر یا ایک مرلے کے گھر کی نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کے اس رویے کی عکاسی ہے جہاں شور سچ پر غالب آ جاتا ہے اور جذبات انصاف کی جگہ لے لیتے ہیں۔
![]()