نیویارک(محمد مبین، ویب ڈیسک) نیویارک میں ایک سیاسی زلزلہ! 34 سالہ زوہران مامدانی نے امریکی سیاست کی تاریخ پلٹ دی — ایک عام قانون ساز سے اٹھ کر دنیا کے سب سے بڑے شہر کے پہلے مسلمان میئر بن گئے۔

رات گئے جب نتائج سامنے آئے، نیویارک کی فضاؤں میں شور مچ گیا۔ “ہم جیت گئے!” — مامدانی کے یہ الفاظ پورے امریکہ میں گونج اٹھے۔

سی بی ایس کے مطابق مامدانی نے 10 لاکھ سے زائد ووٹ لے کر سابق گورنر اینڈریو کومو اور ریپبلکن امیدوار کرٹس سلیوا کو شکست دے دی۔ یہ صرف ایک الیکشن نہیں، ایک انقلاب تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے آخری لمحوں میں مداخلت کرتے ہوئے مامدانی کو “یہود مخالف” کہا — مگر عوام نے نفرت پر امید کو چن لیا۔

یوگنڈا میں بھارتی نژاد خاندان میں پیدا ہونے والے مامدانی نے 7 برس کی عمر میں امریکہ کا رخ کیا اور 2018 میں شہریت حاصل کی۔ آج وہ امریکی خواب کی نئی تعبیر بن گئے ہیں۔فتح کے جشن میں بالی وڈ کا گانا “دھوم مچالے” بجتا رہا، جب مامدانی نے اعلان کیا:

“اب نیویارک وہ شہر نہیں جہاں اسلاموفوبیا بیچ کر الیکشن جیتا جائے گا!”

انہوں نے ٹرمپ کو براہِ راست مخاطب کیا:

“ڈونلڈ ٹرمپ… آواز اونچی کرو!”

یہ لمحہ صرف نیویارک کے لیے نہیں، پوری دنیا کے لیے ایک پیغام بن گیا — کہ تبدیلی آچکی ہے!بل کلنٹن، ہیلری، اوباما اور برنی سینڈرز سب نے مبارکباد دی۔ سینڈرز نے کہا:

“یہ امریکی تاریخ کی سب سے بڑی سیاسی اپ سیٹس میں سے ایک ہے!”

اسی رات ایک اور تاریخ رقم ہوئی — غزالہ ہاشمی نے ورجینیا میں جیت کر امریکہ کی پہلی مسلم خاتون لیفٹیننٹ گورنر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔امریکی سیاست کے اس ڈرامائی موڑ پر ایک بات واضح ہو گئی:یہ نئی نسل کی جیت ہے، یہ امید کی جیت ہے — اور شاید، ایک نئے امریکہ کی شروعات۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے