
پشاور (نمائندہ خیبرنامہ) — جماعت اسلامی کے سابق امیدوار قومی اسمبلی طارق متین نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ عوام کے ساتھ ظلم کی انتہا ہے۔ حکومتی پالیسیاں عوام کو زندہ درگور کر رہی ہیں، اور اگر یہی طرزِ عمل جاری رہا تو حکومت کو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ شہباز حکومت اندرونِ ملک جابرانہ وصولیوں اور بیرونِ ملک کشکول کا استعارہ بن چکی ہے۔ حکومت اپنے وعدوں کے برخلاف عوام پر آئے روز مہنگائی کے بم گرا رہی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات اور اشیائے خوردونوش کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں نے عوام سے جینے کا حق چھین لیا ہے۔
طارق متین کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات میں معمولی کمی سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن اضافے سے مہنگائی کا طوفان آجاتا ہے۔ جب تک ملک پر آئی ایم ایف کے غلام مسلط رہیں گے، ملک تباہی کی طرف بڑھتا رہے گا۔
انہوں نے اپوزیشن پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن اپنی الجھنوں سے باہر سوچنے میں ناکام ہے، جس کی وجہ سے عوام پس رہے ہیں۔ عوام کو مسائل کی چکی میں پیسنے کے بجائے حکومت، وزراء اور ادارے قومی خزانے پر عیاشیاں بند کریں۔
طارق متین نے کہا کہ وزیرِ اعظم آئی ایم ایف کے اشاروں پر چلتے ہوئے جھوٹ بولنے اور سبز باغ دکھانے کے بجائے حقیقی معنوں میں عوام کو ریلیف فراہم کریں۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ظلم کے اس نظام کے خلاف جماعت اسلامی کی "بدل دو نظام” تحریک کا ساتھ دیں، کیونکہ 21 تا 23 نومبر کا اجتماعِ عام ظلم کے نظام کے خاتمے کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
![]()