

باڑہ (نمائندہ خیال مت شاہ آفریدی سے)وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے باڑہ میں منعقدہ تاریخی امن جرگے میں دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع میں قبائلی مشران اور عوام کی مرضی کے بغیر کوئی آپریشن نہیں ہو سکتا، کسی کا باپ بھی قبائل کی مرضی کے بغیر فیصلہ مسلط نہیں کر سکتا۔جرگے میں فاٹا بھر کے عمائدین، مشران، ارکانِ اسمبلی اور بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔اجلاس میں حالیہ بدامنی، ممکنہ فوجی کارروائیوں اور سیاسی و معاشی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنے دھواں دار خطاب میں کہا کہ "قبائل محبِ وطن شہری ہیں، جنہوں نے ہمیشہ پاکستان کے دفاع اور امن کے لیے قربانیاں دی ہیں، مگر افسوس کہ ماضی میں انہیں بار بار قربانی کا بکرا بنایا گیا۔
"انہوں نے انکشاف کیا کہ 2018 میں خیبر کے علاقے کلیئر قرار دیے گئے تھے، مگر ریاستی اداروں نے دوبارہ دہشت گردی کو فروغ دیا۔ان کا کہنا تھا کہ اب قبائل مزید خون خرابے یا مصنوعی آپریشنز کی اجازت نہیں دیں گے۔وزیرِ اعلیٰ نے وفاق سے مطالبہ کیا کہ ضم اضلاع کے وعدہ کردہ سالانہ 100 ارب روپے (پانچ سالہ 500 ارب روپے) فوری طور پر جاری کیے جائیں، اور خیبر پختونخوا کے 2300 ارب روپے بقایاجات بھی صوبے کو واپس دیے جائیں۔انہوں نے زور دیا کہ این ایف سی ایوارڈ میں قبائلی اضلاع کے لیے علیحدہ حصہ مختص کیا جائے تاکہ ان علاقوں کی ترقی ممکن ہو سکے۔سہیل آفریدی نے کہا، "ہم اپنے عوام کے وسائل اور حقوق کسی سے بھیک نہیں مانگیں گے، بلکہ آئینی طور پر حاصل کریں گے۔”انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے قبائل کو وہ شناخت دی جو ماضی میں کسی نے نہیں دی، اور پی ٹی آئی قبائل کے عزت و حقوق کے تحفظ کے لیے ہر قیمت پر ڈٹی رہے گی۔جرگے میں اقبال آفریدی، سینیٹر نورالحق قادری، عبدالغنی آفریدی اور سینیٹر مرزا محمد آفریدی نے بھی خطاب کیا۔انہوں نے وزیرِ اعلیٰ کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ "جب تک قبائل فیصلہ نہ کریں، کوئی آپریشن نہیں ہو سکتا۔ ہمارا وطن ہمارا ہے، ہم خود امن قائم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔”خطاب کرنے والے عمائدین نے واضح پیغام دیا کہ قبائل کسی بیرونی ایجنڈے یا ریاستی جبر کا حصہ نہیں بنیں گے۔انہوں نے موجودہ وفاقی حکمرانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "عطا تارڑ اور ان کے حواریوں نے قبائل کی توہین کی ہے، جس کا حساب لیا جائے گا۔”آخر میں مقررین نے وزیرِ اعلیٰ کو مشورہ دیا کہ جذباتی فیصلوں سے گریز کیا جائے اور جرگہ و مذاکرات کے عمل کو ترجیح دی جائے، کیونکہ ماضی میں بات چیت کے فقدان نے ملک کو آدھا کر دیا۔انہوں نے کہا، "ہم نے مذاکرات نہ ہونے کی وجہ سے بنگلہ دیش کھو دیا، اب ہمیں ماضی سے سبق سیکھنا ہوگا۔”
![]()