
صوبائی دارالحکومت میں ڈینگی وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز پر قابو پانے کے لیے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سھیل آفریدی نے فوری اقدامات کا حکم دے دیا۔ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر ممبر صوبائی اسمبلی و انچارج وزیر اعلیٰ شکایات سیل سمیع اللہ کی سربراہی میں ایک تحقیقی و نگرانی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو تین روز کے اندر رپورٹ وزیر اعلیٰ کو پیش کرے گی۔کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ڈینگی کے پھیلاؤ کے عوامل کا تفصیلی جائزہ لے اور جہاں کہیں غفلت یا کوتاہی پائی جائے، ذمہ داران کی نشاندہی کرے۔تحصیل سطح پر ٹیموں کی تشکیلڈینگی کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے تحصیل کی سطح پر خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جن کی نگرانی اسسٹنٹ کمشنرز کریں گے۔ان ٹیموں میں محکمہ صحت، ڈبلیو ایس ایس پی، ماہرینِ حشرات الارض، بلدیاتی اداروں کے اہلکار اور عوامی نمائندے شامل ہوں گے۔20 حساس یونین کونسلز میں ایمرجنسی نافذپشاور کے 20 یونین کونسلز کو حساس قرار دے کر ان علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ ہر یونین کونسل کے لیے الگ ٹیمیں اور مائکرو پلان تیار کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔اس کے ساتھ ہی تمام سرکاری ہسپتالوں میں ڈینگی مریضوں کے لیے خصوصی بیڈز مختص کرنے کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔روزانہ دورے اور کڑی نگرانیڈپٹی کمشنر پشاور کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر دو اوقات میں حساس علاقوں کے دورے کریں جبکہ کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے بھی خود متاثرہ علاقوں کے روزانہ دوروں کا اعلان کیا ہے۔گرینڈ کوارڈینیشن اجلاسوزیر اعلیٰ کی ہدایات پر کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی زیر صدارت ایک گرینڈ کوارڈینیشن اجلاس منعقد ہوا جس میں پشاور ڈویژن کے پانچوں اضلاع — پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، قبائلی ضلع مہمند اور ضلع خیبر کے ڈپٹی کمشنرز، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز، بلدیاتی حکام، ماہرین حشرات الارض اور منتخب عوامی نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں ڈینگی وائرس کے پھیلاؤ، اب تک کے تدارکی اقدامات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔کمشنر ریاض محسود کے ہنگامی احکاماتاجلاس سے خطاب میں کمشنر ریاض محسود نے کہا کہ ڈینگی پر قابو پانے کے لیے تمام وسائل ہنگامی بنیادوں پر بروئے کار لائے جائیں۔انہوں نے ہدایت دی کہ پشاور بھر میں باقاعدہ وقفوں سے اینٹی ڈینگی اسپرے یقینی بنایا جائے، عوامی آگاہی مہم میں مزید تیزی لائی جائے اور منتخب نمائندوں کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھا جائے۔کمشنر ریاض محسود نے اعلان کیا کہ وہ روزانہ اچانک دورے کریں گے تاکہ عملی کارکردگی کا خود جائزہ لے سکیں اور غفلت برتنے والوں کے خلاف فوری کارروائی ممکن ہو۔
![]()