رکشہ ڈرائیور یونین پشاور کے صدر باز محمد اور جنرل سیکرٹری عزت خان نے مشترکہ اخباری بیان میں حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سبز ہیلمٹ والوں نے پورے پشاور کو اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے، جس کے باعث رکشہ چلانے والوں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موٹر سائیکل قانونی طور پر پرائیویٹ گاڑی ہے جبکہ رکشہ کمرشل سواری ہے، مگر اس کے باوجود دو سیٹر موٹر سائیکلیں غیر قانونی طور پر سواری اٹھا رہی ہیں۔ ان کی رجسٹریشن میں واضح لکھا ہوتا ہے کہ یہ صرف گھریلو استعمال کے لیے ہیں، کمرشل استعمال جرم ہے، مگر ان سبز ہیلمٹ والوں نے قانون کا مذاق بنا دیا ہے۔رکشہ یونین رہنماؤں کا کہنا تھا کہ یہ موٹر سائیکل سوار نہ ٹوکن دیتے ہیں، نہ پاسنگ کرواتے ہیں، نہ ان کے پاس پرمٹ ہوتے ہیں، جبکہ دوسری طرف رکشہ ڈرائیور ہر قسم کے ٹیکس ادا کرتے ہیں — سی این جی، فٹنس سرٹیفکیٹ، ٹوکن اور دیگر ٹیکسز۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک رکشہ کی قیمت چار سے پانچ لاکھ روپے ہے، جبکہ ایک رکشہ ڈرائیور اسی رقم میں چھ سے سات موٹر سائیکلیں خرید سکتا ہے۔ اگر حکومت ان سبز ہیلمٹ والوں سے ٹیکس وصول نہیں کر سکتی تو پھر رکشہ ڈرائیوروں سے بھی ٹیکس معاف کیا جائے۔باز محمد اور عزت خان نے کہا کہ سبز ہیلمٹ سروس کی وجہ سے صرف رکشہ ڈرائیور نہیں، بلکہ ان سے جڑے کاروبار جیسے مکینک، شو میکر، ڈینٹر، ٹاپ میکر اور پارٹس فروش سب متاثر ہو کر بے روزگار ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب محنت کش طبقے سے روزگار چھینا جائے گا تو وہ ناچار غلط راستوں پر جانے پر مجبور ہو گا۔رکشہ یونین رہنماؤں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ غیر قانونی گرین ہیلمٹ سروسز کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، تاکہ ہزاروں رکشہ ڈرائیوروں اور ان کے خاندانوں کو فاقوں سے بچایا جا سکے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے