پشاور(امجد ہادی یوسفزئی) ہیلویتاس اور سویس سولیڈیرٹی کے تعاون سے پشاور میں واقع حبیبہ بیوٹی سیلون اینڈ اکیڈمی میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جہاں بیوٹیشن اور سلائی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والی 50 تربیت یافتہ بچیوں میں ٹول کٹس تقسیم کی گئیں۔ تقریب کا مقصد خواتین کو فنی مہارتوں کے ذریعے باعزت روزگار فراہم کرنا اور انہیں معاشی طور پر خودمختار بنانا تھا

تقریب میں محکمہ محنت کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سعد الرحمٰن، چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کی نمائندہ ڈاکٹر نایاب، محکمہ داخلہ کے حسیب خان، سینئر صحافی امجد ہادی یوسفزئی، مختلف پارٹنر اداروں کے نمائندوں، اساتذہ، پراجیکٹ ٹیم اور طلبہ نے شرکت کی۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد ادارے کے پرنسپل ڈاکٹر ساجد اللہ نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔

اپنے خطاب میں ڈاکٹر ساجد اللہ نے کہا کہ فنی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت خواتین کو خود کفیل بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ ان کے مطابق معاشی طور پر مضبوط خواتین نہ صرف اپنے خاندان کی معاون بنتی ہیں بلکہ معاشرتی ترقی میں بھی مثبت کردار ادا کرتی ہیں۔

محکمہ محنت کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سعد الرحمٰن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ محنت مزدوروں اور مالکان کے درمیان تعلقات کو قانونی دائرہ کار میں منظم کرتا ہے، اس لیے تربیت حاصل کرنے والی بچیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے پیشہ ورانہ حقوق اور ذمہ داریوں سے مکمل آگاہی رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہنر مند خواتین ملکی معیشت میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں اگر انہیں مناسب مواقع اور رہنمائی فراہم کی جائے۔

چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کی نمائندہ ڈاکٹر نایاب نے ہیلویتاس کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارہ کمیونٹی ڈویلپمنٹ اور بچوں و خواتین کے تحفظ کے شعبوں میں قابلِ قدر کام انجام دے رہا ہے۔ ان کے مطابق خواتین کی فنی تربیت سماجی استحکام اور گھریلو معاشی بہتری کے لیے ناگزیر ہے۔

اس موقع پر پراجیکٹ منیجر شازیہ حنا نے منصوبے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ پروگرام کے تحت بچیوں کو عملی مہارتیں سکھائی گئی ہیں تاکہ وہ روزگار کے قابل بن سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹول کٹس کی فراہمی کا مقصد تربیت مکمل کرنے والی خواتین کو فوری طور پر عملی کام شروع کرنے کے قابل بنانا ہے۔

تقریب میں شریک تربیت یافتہ بچیوں نے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام نے ان کی زندگی میں مثبت تبدیلی پیدا کی ہے۔ ان کے مطابق تربیت اور ضروری آلات کی فراہمی سے اب وہ گھریلو سطح پر یا پیشہ ورانہ انداز میں کام شروع کرکے اپنی آمدن حاصل کر سکیں گی۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت کا تناسب اب بھی خطے کے کئی ممالک کے مقابلے میں کم ہے، جبکہ فنی تربیت کے پروگرام خواتین کو معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ تصور کیے جاتے ہیں۔ سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات نہ صرف خواتین کو بااختیار بناتے ہیں بلکہ غربت میں کمی اور خاندانی استحکام میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔

تقریب کے اختتام پر بیوٹیشن اور سلائی ٹریڈ سے تعلق رکھنے والی 50 بچیوں میں ٹول کٹس تقسیم کی گئیں۔ شرکاء نے اس اقدام کو خواتین کے روشن مستقبل کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ فنی تربیت اور خواتین کی فلاح و بہبود کے ایسے پروگراموں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے۔

منتظمین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی خواتین اور بچیوں کی فنی تربیت، روزگار اور سماجی تحفظ کے لیے اس نوعیت کی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں گی تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین کو خودمختار اور بااختیار بنایا جا سکے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے