ملک کے بگڑے نظام کے خلاف ایک نئی انقلابی صدا بلند!امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے مردان میں فضلاء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا —> “اب وقت آ گیا ہے، چہرے نہیں بلکہ پورا نظام بدلنا ہوگا!”انہوں نے انکشاف کیا کہ صرف دو فیصد اشرافیہ نے اٹھانوے فیصد عوام کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ ملک کا معاشی، عدالتی اور پولیس ڈھانچہ بوسیدہ ہو چکا ہے، جس میں بنیادی سرجری کی ضرورت ہے۔ “مینارِ پاکستان کے سائے تلے طوفان اٹھنے والا ہے”حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا کہ نومبر میں لاہور کے مینارِ پاکستان پر ہونے والا تین روزہ اجتماعِ عام ایک نئے انقلاب کی شروعات ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یہ اجتماع ملک کے سیاسی خلا کو پُر کرے گا، تقسیم ختم کرے گا، اور حقیقی تبدیلی کا آغاز بنے گا!“علما اُٹھ کھڑے ہوں، وقت آ گیا ہے!”امیر جماعت اسلامی نے علما سے پرجوش اپیل کرتے ہوئے کہا:> “اقامتِ دین کی جدوجہد تیز کریں، فرقوں سے بالاتر ہو جائیں — قوم آپ کی راہ تک رہی ہے!”انہوں نے کہا کہ آج کے علما کو جدید دنیا، لبرل ازم، سیکولرازم اور سرمایہ دارانہ نظام کے ہتھکنڈوں کو سمجھنا ہوگا، کیونکہ اب جنگ صرف منبروں پر نہیں، دماغوں میں لڑی جا رہی ہے! “مغرب بدل رہا ہے — اسلام کے لیے نئی زمین تیار ہے!”حافظ نعیم نے مغرب میں فلسطین کے حق میں بڑھتی آواز کو اسلامی نظام کے احیاء کی نوید قرار دیا۔انہوں نے کہا:> “یہ حماس اور اہلِ غزہ کی قربانیوں کا ثمر ہے — اب وقت ہے کہ ہم اسلام کے عادلانہ نظام کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔ امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ملک پر مسلط حکمران مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں،عوام ان سے چھٹکارا چاہتے ہیں،اور اب صرف جماعت اسلامی وہ قوت ہے جو عوام کو راستہ دکھا سکتی ہے۔کانفرنس سے عبدالواسع، مفتی امتیاز مروت، غلام رسول، اور مولانا صفی اللہ نے بھی خطاب کیا۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے