




خیال مت شاہ آفریدی
ضلع خیبر کی وادی تیراہ ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال اور عسکری تناؤ کی زد میں ہے۔ سو رکنی خیبر قبائلی جرگہ، جس کا راقم الحروف بھی ایک ممبر رہا جبکہ ضلع بھر کے ملکان، قومی مشران اور سیاسی نمائندے بھی اس میں شامل تھے، 13 اکتوبر کو تیراہ روانہ ہوا۔ یہ جرگہ تیراہ میدان کے پہاڑی اور حساس مقام پر تحریکِ طالبان پاکستان کے نور ولی محسود گروپ کے کمانڈر عبداللہ غازی اور اس کے ساتھیوں سے مذاکرات کے لیے پہنچا۔ یہ جرگہ اس وقت تشکیل دیا گیا جب قلعہ بالا حصار میں انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور نارتھ نے ضلع بھر کے مشران کو بلا کر ان کے سامنے تین دوٹوک آپشن رکھے: پہلا یہ کہ تیراہ کے عوام اپنے علاقے خالی کریں تاکہ حکومت عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کر سکے، دوسرا یہ کہ مقامی لوگ شدت پسندوں کو خود بے دخل کریں، اور تیسرا یہ کہ عوام حکومت کے ساتھ مل کر ممکنہ آپریشن میں تعاون کریں تاکہ بے گناہ لوگ نقصان سے محفوظ رہیں۔

مشران نے براہِ راست تصادم کے بجائے ثالثی کا راستہ اختیار کیا اور حکومت و طالبان کے درمیان مذاکراتی عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی مقصد کے لیے ایک سو رکنی جرگہ تشکیل دیا گیا جس میں ضلع خیبر کی تینوں تحصیلوں باڑہ، جمرود اور لنڈی کوتل کے قومی، سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کو شامل کیا گیا۔ یہی جرگہ بعد ازاں مختلف مکاتبِ فکر کے نمائندوں پر مشتمل وفد کی شکل میں تیراہ پہنچا۔ ضلع خیبر کے مذاکراتی جرگہ کی اس پہلی نشست میں تحریکِ طالبان پاکستان کے نور ولی محسود گروپ کے نمائندے، کمانڈر عبداللہ غازی اور ابوذر آفریدی شریک ہوئے۔ دیگر مسلح گروہ جیسے لشکرِ اسلام، جماعت الاحرار اور حافظ گل بہادر گروپ مذاکراتی عمل میں شامل نہیں ہوئے، جس کے پسِ پردہ کچھ وجوہات بتائی جا رہی ہیں۔
ان گروپوں نے براہِ راست تو قبائلی جرگہ کو موقف پیش نہیں کیا مگر اپنے ذرائع سے مؤقف پہنچایا کہ وادی تیراہ کی اصل زمین اور اثر و رسوخ انہی کے پاس ہے، لہٰذا وہ ٹی ٹی پی نور ولی محسود گروپ کے ساتھ ہونے والے کسی یکطرفہ مذاکرات کو تسلیم نہیں کرتے۔
تحریکِ طالبان پاکستان نے قبائلی جرگہ کے سامنے دو بنیادی مطالبات رکھے: پہلا پاکستان میں شرعی نظام کے نفاذ کا مطالبہ اور اپنی طویل مسلح جدوجہد کو تسلیم کرنے کا تقاضا، دوسرا فاٹا میں 2001 سے پہلے والی صورتحال کی بحالی، یعنی قبائلی علاقوں میں ان کی تنظیموں کو آزادانہ سرگرمیوں کی اجازت۔ مذاکرات تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہے اور جرگہ اس نتیجے پر پہنچا کہ طالبان کے مطالبات حکومت کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ تاہم فائر بندی کا مطالبہ جرگہ نے پیش نہیں کیا جبکہ عارضی فائر بندی، جو صرف مذاکرات کے لیے تیراہ کے عمائدین نے مانگی تھی، اسی رات ختم ہوگئی جس کے بعد وادی میں غیر یقینی فضا مزید گہری ہوگئی۔
تیراہ کے عوام ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔ وہ نہ ہجرت کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی کسی عسکری تصادم کا حصہ بننے کے خواہشمند ہیں۔ دوسری جانب ان دنوں مقامی لوگ بھنگ کی فصل کے آخری مراحل میں ہیں اور انہیں مالی نقصان کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ نقل مکانی کرتے ہیں تو واپسی کی کوئی گارنٹی نہیں، اس لیے وہ خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔
وادی تیراہ میں سیکیورٹی کی صورتحال تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ پہاڑی چوکیوں پر حملے معمول بن چکے ہیں۔ مقامی آبادی یہ سوال اٹھا رہی ہے کہ ریاستی اداروں کی موجودگی کے باوجود عسکریت پسندوں کے لیے کارروائیاں اس قدر آسان کیوں ہیں؟ بعض حلقے سمجھتے ہیں کہ شدت پسندوں کو کہیں نہ کہیں سے سہولتیں مل رہی ہیں جنہیں بند ہونا چاہیے۔
تیراہ اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ یہاں کے عوام امن چاہتے ہیں مگر کسی عارضی یا نمائشی سمجھوتے کے بجائے ایک دیرپا حل کی امید رکھتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ محض ضلع خیبر تک محدود مذاکرات کے بجائے پورے فاٹا کے لیے ایک بڑا مذاکراتی جرگہ تشکیل دے، تاکہ تمام فریقین کو اعتماد میں لے کر ایک جامع امن منصوبہ ترتیب دیا جا سکے۔ ساتھ ہی افغان حکومت پر سفارتی دباؤ بڑھایا جائے تاکہ سرحد پار مداخلت اور جنگی کارروائیوں کو روکا جا سکے۔ افغانستان کے ساتھ فعال مذاکرات کے ذریعے بارڈر کراس آپریشنز، مداخلت اور مسلح تصادم ختم کر کے دہشت گردی کے خاتمے میں بین الاقوامی و علاقائی سطح پر مؤثر کردار ادا کیا جائے۔ تبھی تیراہ اور فاٹا کے دیگر متاثرہ علاقوں میں پائیدار امن اور مقامی آبادی کی بحالی ممکن ہو سکے گی۔
![]()