
تحریر: بشارت کھوکھر
بعض شخصیات کے حوالے سے ایک تخیل اور تصور دل ودماغ میں مضبوط ہو جاتا ہے، جو اکثر ان شخصیات سے ملنے پر ٹوٹ جاتا ہے، یہ بات میرے ساتھ ممتاز پشتو ادیب وشاعر ، صحافی اور ٹی وی پریزنٹیٹر برادر سردار یوسفزئی کے حوالے سے ہوئی ایک اور دوست اور پشتو کی معروف ادبی شخصیت محترم عبد الحمید زاھد نے بتایا کہ اسلام آباد میں پشتو ادبی سوسائٹی کے مدیر المکان اور یہاں ہونے والی ہر ادبی تقریب کے روح رواں سردار یوسفزئی سے ملاقات کرنی ہے تو میرے ذہن میں ایک ایسی شخصیت کا تصور ایک ایسے مست ملنگ اور تارک دنیا قسم کا بنا جس اور اوڑھنا بچھونا کتابیں اور سوچنا بولنا نظریاتی و انقلابی نظریات ہوں، بڑھے بال اور بے ترتیب لباس ہو اور ہر وقت اپنے نظریات کے پرچار پر سامعین کو شب لئے ہو ، مگر جب ملاقات ہوئی تو سردار میرے تصور کے برعکس نکلا، ایک خوش لباس و خوش گفتار بلند سوچ اور دراز قد کا خوبرو نوجوان میرے سامنے تھا، جس کی شخصیت کے سحر نے اپنا گرویدہ بنالیا، بلا شبہ سردار یوسفزئی صحافت اور ادب کے میدان میں ایک باوقار اور معتبر نام ہیں۔ وہ ایک حق گو، بااصول اور نڈر صحافی کے طور پر پہچانے جاتے ہیں جنہوں نے ہمیشہ سچائی، دیانت اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کو اپنی صحافتی زندگی کا بنیادی اصول بنایا ہے۔ صحافت کے مختلف شعبوں میں ان کی خدمات نمایاں رہی ہیں اور انہوں نے ٹی وی، ریڈیو، اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور معاشرے کی صحیح رہنمائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
سردار یوسفزئی نہ صرف ایک ذمہ دار صحافی ہیں بلکہ ایک سنجیدہ، بافکر اور مقصدی شاعر و ادیب بھی ہیں۔ ان کی شاعری میں معاشرتی شعور، فکری گہرائی، انسانی احساسات اور قومی و ثقافتی اقدار کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کی شاعری محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ فکر، شعور اور پیغام کا حسین امتزاج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری اہلِ ادب اور عام قارئین دونوں میں یکساں مقبول ہے اور لوگ اسے شوق سے سنتے اور پڑھتے ہیں۔
ادبی میدان میں ان کی خدمات پشتو ادب کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان کی کئی شعری کتب شائع ہو چکی ہیں جبکہ متعدد مسودات ابھی اشاعت کے مراحل میں ہیں۔ ان کا ادبی کام پشتو زبان و ادب کے فروغ اور نئی نسل میں ادبی شعور پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
سردار یوسفزئی ادبی اور صحافتی سرگرمیوں میں بہت زیادہ متحرک ہیں۔ وہ اسلام آباد اور راولپنڈی کی سب سے پہلے اور چالیس سال سے مسلسل فعال ادبی تنظیم پشتو ادبی سوسائٹی اسلام آباد کے سیکرٹری جنرل بھی ہیں، جہاں وہ پشتو زبان و ادب کے فروغ کے لیے مختلف ادبی نشستوں، مشاعروں اور فکری محفلوں کا انعقاد کرتے رہے ہیں۔ ان کی قیادت میں اس ادبی تنظیم نے بے شمار ادبی شخصیات کو ایک پلیٹ فارم فراہم کیا اور ادب کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔
صحافتی برادری میں بھی ان کی خدمات قابلِ قدر ہیں۔ وہ اس وقت پختون جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے نائب صدر کے طور پر ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں اور پختون صحافیوں کے حقوق، اتحاد اور پیشہ ورانہ ترقی کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ ان کی قیادت، سنجیدگی اور مثبت سوچ کی وجہ سے صحافتی حلقوں میں انہیں قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
اب سردار یوسفزئی نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے انتخابات 2026–27 میں گورننگ باڈی ممبر کے امیدوار ہیں۔ صحافتی برادری میں ان کی طویل خدمات، تجربہ، دیانت اور مضبوط کردار انہیں اس عہدے کے لیے ایک بہترین امیدوار بناتے ہیں۔ اگر وہ کامیاب ہوتے ہیں تو یقیناً گورننگ باڈی میں ایک مضبوط، باوقار اور موثر آواز ثابت ہوں گے اور صحافیوں کے مسائل کے حل اور پختون برادری کی حقیقی نمائندگی کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔ نیشنل پریس کلب میں اپنی خدمات کے باعث طویل عرصہ سے بر سر اقتدار جرنلسٹ پینل نے اس بارے سردار یوسفزئی کو اپنے پینل کا حصہ بنا کر نہ صرف مردم شناسی کا مظاہرہ کیا ہے بلکہ اپنے پینل کا وزن بھی بڑھایا ہے، امید ہے کہ اپنی متحرک فطرت اور خلوصِ نیت کی وجہ سے سردار یوسفزئی صحافی برادری کے سچے خادم اور کھرے ترجمان ثابت ہونگے،
سردار یوسفزئی — ایک نڈر صحافی، سنجیدہ شاعر اور باوقار رہنماتحریر: بشارت کھوکھربعض شخصیات کے حوالے سے ایک تخیل اور تصور دل ودماغ میں مضبوط ہو جاتا ہے، جو اکثر ان شخصیات سے ملنے پر ٹوٹ جاتا ہے، یہ بات میرے ساتھ ممتاز پشتو ادیب وشاعر ، صحافی اور ٹی وی پریزنٹیٹر برادر سردار یوسفزئی کے حوالے سے ہوئی ایک اور دوست اور پشتو کی معروف ادبی شخصیت محترم عبد الحمید زاھد نے بتایا کہ اسلام آباد میں پشتو ادبی سوسائٹی کے مدیر المکان اور یہاں ہونے والی ہر ادبی تقریب کے روح رواں سردار یوسفزئی سے ملاقات کرنی ہے تو میرے ذہن میں ایک ایسی شخصیت کا تصور ایک ایسے مست ملنگ اور تارک دنیا قسم کا بنا جس اور اوڑھنا بچھونا کتابیں اور سوچنا بولنا نظریاتی و انقلابی نظریات ہوں، بڑھے بال اور بے ترتیب لباس ہو اور ہر وقت اپنے نظریات کے پرچار پر سامعین کو شب لئے ہو ، مگر جب ملاقات ہوئی تو سردار میرے تصور کے برعکس نکلا، ایک خوش لباس و خوش گفتار بلند سوچ اور دراز قد کا خوبرو نوجوان میرے سامنے تھا، جس کی شخصیت کے سحر نے اپنا گرویدہ بنالیا، بلا شبہ سردار یوسفزئی صحافت اور ادب کے میدان میں ایک باوقار اور معتبر نام ہیں۔ وہ ایک حق گو، بااصول اور نڈر صحافی کے طور پر پہچانے جاتے ہیں جنہوں نے ہمیشہ سچائی، دیانت اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کو اپنی صحافتی زندگی کا بنیادی اصول بنایا ہے۔ صحافت کے مختلف شعبوں میں ان کی خدمات نمایاں رہی ہیں اور انہوں نے ٹی وی، ریڈیو، اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور معاشرے کی صحیح رہنمائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔سردار یوسفزئی نہ صرف ایک ذمہ دار صحافی ہیں بلکہ ایک سنجیدہ، بافکر اور مقصدی شاعر و ادیب بھی ہیں۔ ان کی شاعری میں معاشرتی شعور، فکری گہرائی، انسانی احساسات اور قومی و ثقافتی اقدار کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کی شاعری محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ فکر، شعور اور پیغام کا حسین امتزاج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری اہلِ ادب اور عام قارئین دونوں میں یکساں مقبول ہے اور لوگ اسے شوق سے سنتے اور پڑھتے ہیں۔ادبی میدان میں ان کی خدمات پشتو ادب کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان کی کئی شعری کتب شائع ہو چکی ہیں جبکہ متعدد مسودات ابھی اشاعت کے مراحل میں ہیں۔ ان کا ادبی کام پشتو زبان و ادب کے فروغ اور نئی نسل میں ادبی شعور پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔سردار یوسفزئی ادبی اور صحافتی سرگرمیوں میں بہت زیادہ متحرک ہیں۔ وہ اسلام آباد اور راولپنڈی کی سب سے پہلے اور چالیس سال سے مسلسل فعال ادبی تنظیم پشتو ادبی سوسائٹی اسلام آباد کے سیکرٹری جنرل بھی ہیں، جہاں وہ پشتو زبان و ادب کے فروغ کے لیے مختلف ادبی نشستوں، مشاعروں اور فکری محفلوں کا انعقاد کرتے رہے ہیں۔ ان کی قیادت میں اس ادبی تنظیم نے بے شمار ادبی شخصیات کو ایک پلیٹ فارم فراہم کیا اور ادب کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔صحافتی برادری میں بھی ان کی خدمات قابلِ قدر ہیں۔ وہ اس وقت پختون جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے نائب صدر کے طور پر ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں اور پختون صحافیوں کے حقوق، اتحاد اور پیشہ ورانہ ترقی کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ ان کی قیادت، سنجیدگی اور مثبت سوچ کی وجہ سے صحافتی حلقوں میں انہیں قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔اب سردار یوسفزئی نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے انتخابات 2026–27 میں گورننگ باڈی ممبر کے امیدوار ہیں۔ صحافتی برادری میں ان کی طویل خدمات، تجربہ، دیانت اور مضبوط کردار انہیں اس عہدے کے لیے ایک بہترین امیدوار بناتے ہیں۔ اگر وہ کامیاب ہوتے ہیں تو یقیناً گورننگ باڈی میں ایک مضبوط، باوقار اور موثر آواز ثابت ہوں گے اور صحافیوں کے مسائل کے حل اور پختون برادری کی حقیقی نمائندگی کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔ نیشنل پریس کلب میں اپنی خدمات کے باعث طویل عرصہ سے بر سر اقتدار جرنلسٹ پینل نے اس بارے سردار یوسفزئی کو اپنے پینل کا حصہ بنا کر نہ صرف مردم شناسی کا مظاہرہ کیا ہے بلکہ اپنے پینل کا وزن بھی بڑھایا ہے، امید ہے کہ اپنی متحرک فطرت اور خلوصِ نیت کی وجہ سے سردار یوسفزئی صحافی برادری کے سچے خادم اور کھرے ترجمان ثابت ہونگے،
![]()