
امجد ہادی یوسفزئی
پاکستان تیزی سے ایک ایسے معاشرے میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے جہاں ریاستی ترجیحات کا مرکز عوام نہیں بلکہ اشرافیہ کی آسائشیں بن چکی ہیں۔ ایک طرف حکمران طبقہ، بیوروکریسی اور بااثر طبقات اربوں روپے کی مراعات، سرکاری پروٹوکول، لگژری گاڑیوں اور شاہانہ طرزِ زندگی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف مہنگائی کا سارا بوجھ غریب اور متوسط طبقے کے کندھوں پر ڈال دیا گیا ہے۔
پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ ہوشربا اضافہ اس تلخ حقیقت کو مزید نمایاں کرتا ہے کہ حکومت کی معاشی پالیسیاں نہ صرف ناکام ہو چکی ہیں بلکہ ان میں عوامی مفاد کی جھلک تک دکھائی نہیں دیتی۔ پاکستان میں پیٹرول صرف گاڑی چلانے کا ایندھن نہیں بلکہ معیشت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ جیسے ہی پیٹرول مہنگا ہوتا ہے، ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ جاتے ہیں، اشیائے خورونوش مہنگی ہو جاتی ہیں، صنعتوں کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کا براہِ راست اثر عام آدمی کی جیب پر پڑتا ہے۔ یوں مہنگائی کی ایک ایسی لہر جنم لیتی ہے جو معاشرے کے کمزور طبقات کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔
بدقسمتی سے حکومتیں ہمیشہ آسان راستہ اختیار کرتی آئی ہیں۔ جب بھی بجٹ خسارہ بڑھتا ہے یا مالی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے عوام پر ٹیکسوں اور قیمتوں کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسوں کے ذریعے حکومت فوری ریونیو تو حاصل کر لیتی ہے، لیکن اس کے نتیجے میں عوام کی قوتِ خرید مزید کمزور ہو جاتی ہے اور معاشی سرگرمیاں سست پڑنے لگتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ملک کے تمام مسائل کا حل صرف عوام کی جیبیں خالی کرنا ہی رہ گیا ہے؟
پاکستان کی معیشت پر ایک بڑا بوجھ وہ بے شمار مراعات ہیں جو حکمران طبقے کو حاصل ہیں۔ سرکاری گاڑیاں، مفت ایندھن، غیر ضروری پروٹوکول، قیمتی رہائش گاہیں، غیر ملکی دورے اور دیگر شاہانہ اخراجات عوام کے ٹیکسوں سے ادا کیے جاتے ہیں۔ جب ایک عام شہری مہنگائی، بے روزگاری اور کم تنخواہوں کے باعث بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہو تو ایسے میں اشرافیہ کی یہ عیاشیاں عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف محسوس ہوتی ہیں۔
پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ دراصل اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ حکومت کے پاس معیشت کو سنبھالنے کے لیے کوئی جامع اور دیرپا حکمتِ عملی موجود نہیں۔ ہر بحران کا حل وقتی اقدامات میں تلاش کیا جاتا ہے۔ قرض لے کر معیشت چلانا، ٹیکسوں میں اضافہ کرنا اور قیمتیں بڑھانا ایسے عارضی نسخے ہیں جو وقتی ریلیف تو دے سکتے ہیں لیکن طویل مدت میں معیشت کو مزید کمزور کر دیتے ہیں۔
معیشت کی حقیقی ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب پیداوار بڑھے، صنعتیں مستحکم ہوں، برآمدات میں اضافہ ہو اور سرمایہ کاری کا ماحول بہتر ہو۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں معاشی منصوبہ بندی اکثر سیاسی مصلحتوں اور قلیل مدتی فیصلوں کی نذر ہو جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ملک بار بار معاشی بحرانوں کے گرداب میں پھنس جاتا ہے۔
اس وقت پاکستان کا متوسط اور غریب طبقہ شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ ایک مزدور یا تنخواہ دار طبقے کا فرد اپنی محدود آمدنی میں گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ آٹا، چینی، دالیں، سبزیاں، بجلی، گیس اور پیٹرول — ہر چیز کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے جبکہ آمدنی میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو رہا۔ یہ صورتحال نہ صرف معاشی مشکلات کو بڑھاتی ہے بلکہ معاشرے میں بے چینی، مایوسی اور عدم استحکام کو بھی جنم دیتی ہے۔
اگر حکومت واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے اشرافیہ کی مراعات میں نمایاں کمی لانا ہوگی۔ وزراء، مشیروں اور اعلیٰ سرکاری افسران کو ملنے والی غیر ضروری سہولیات ختم کی جائیں اور سرکاری اخراجات کو محدود کیا جائے۔ اس سے نہ صرف اربوں روپے کی بچت ممکن ہے بلکہ عوام کے اندر اعتماد بھی پیدا ہوگا کہ قربانی صرف ان سے نہیں بلکہ حکمران طبقہ بھی اس میں شریک ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں ٹیکس کا بوجھ زیادہ تر تنخواہ دار اور متوسط طبقے پر ہے جبکہ بڑے سرمایہ دار، جاگیردار اور بااثر طبقات اکثر ٹیکس کے دائرے سے باہر رہتے ہیں۔ ایک منصفانہ اور شفاف ٹیکس نظام ہی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کر سکتا ہے۔
حکومت کو صنعت، زراعت اور چھوٹے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ مقامی پیداوار میں اضافہ ہو اور درآمدات پر انحصار کم کیا جا سکے۔ اسی طرح توانائی کے متبادل ذرائع، خصوصاً شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر سنجیدگی سے سرمایہ کاری کرنا ہوگی تاکہ مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہو سکے۔
پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات کا بگاڑ ہے۔ جب تک حکمران طبقہ اپنی مراعات کم کرنے اور حقیقی معاشی اصلاحات کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا، تب تک مہنگائی کا بوجھ عوام پر ہی پڑتا رہے گا۔ عوام کو قربانی دینے کا سبق دینے سے پہلے ضروری ہے کہ حکمران خود مثال قائم کریں، ورنہ یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا جائے گا کہ پاکستان میں دو الگ دنیائیں آباد ہیں ـ ایک اشرافیہ کی اور دوسری عام لوگوں کی۔
![]()