آٹھ مارچ کو دنیا بھر میں "عالمی یومِ خواتین” منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض تقاریب، تقاریر اور سوشل میڈیا پر پیغامات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ ہمیں اپنے معاشرے کے رویّوں اور اقدار کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس دن کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہم عورت کے مقام، اس کے حقوق اور اس کے ساتھ ہونے والے رویّوں پر غور کریں۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ہمارے معاشرے میں عورت کو وہ عزت، احترام اور حقوق حاصل ہیں جن کی تعلیم ہمیں اسلام دیتا ہے؟ اس سوال کا جواب دوسروں سے پوچھنے کے بجائے ہر فرد کو اپنے دل میں تلاش کرنا چاہیے۔

جب کسی گھر میں بیٹی پیدا ہوتی ہے تو کیا واقعی اس خوشی کو اسی طرح منایا جاتا ہے جیسے بیٹے کی پیدائش پر منایا جاتا ہے؟ اگر ہم سچائی کے ساتھ اپنے اردگرد کے ماحول کو دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ بہت سے گھروں میں بیٹی کی پیدائش کو آج بھی خوشی کے بجائے بوجھ یا پریشانی سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ بیٹی کی آمد دراصل ایک نعمت اور رحمت ہوتی ہے جو گھر میں محبت، نرمی اور شفقت کا ماحول پیدا کرتی ہے۔ معاشرے کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب بیٹی کی پیدائش کو بھی اسی خوشی اور فخر کے ساتھ قبول کیا جائے جیسے بیٹے کی پیدائش کو کیا جاتا ہے۔

اسلام نے بیٹی کو رحمت قرار دیا ہے اور اس کی پرورش کو عظیم نیکی بتایا ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ عملی طور پر بہت سے معاشروں میں بیٹی کی پیدائش کو اب بھی ایک مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ سوچ نہ صرف انسانی ہمدردی کے خلاف ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی منافی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بیٹی خاندان کے لئے محبت، خدمت اور قربانی کی علامت ہوتی ہے اور وہ اپنے والدین کے لئے بے پناہ رحمت کا سبب بنتی ہے۔

ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ کتنے لوگ اپنی بہن اور بیٹی کو وراثت میں ان کا جائز حصہ دیتے ہیں؟ اسلام نے عورت کے لئے وراثت میں واضح اور مقررہ حصہ رکھا ہے تاکہ اس کے مالی حقوق محفوظ رہیں۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بہت سی خواتین کو ان کے اس بنیادی حق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ بعض اوقات خاندانی دباؤ، سماجی روایتیں یا لالچ کی وجہ سے عورت کو خاموشی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔

یہ رویہ صرف ایک معاشرتی ناانصافی نہیں بلکہ ایک مذہبی حق کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے قرآن میں عورت کے لئے وراثت کا حق واضح طور پر مقرر کر دیا ہے تو کسی انسان کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اس حق کو چھین لے یا اسے نظر انداز کرے۔ ایک انصاف پسند معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں ہر فرد کو اس کا حق بلا تفریق دیا جائے۔

تعلیم کے معاملے میں بھی ہمیں خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ کتنے لوگ اپنی بیٹیوں کو بیٹوں کی طرح تعلیم دلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے بعض خاندانوں میں بیٹے کی تعلیم کو سرمایہ کاری اور مستقبل کی ضمانت سمجھا جاتا ہے جبکہ بیٹی کی تعلیم کو غیر ضروری سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ سوچ معاشرے کی ترقی کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ تعلیم صرف مرد کا حق نہیں بلکہ عورت کا بھی بنیادی حق ہے۔ ایک تعلیم یافتہ عورت نہ صرف اپنی زندگی کو بہتر طریقے سے گزار سکتی ہے بلکہ وہ ایک بہتر ماں، بہتر استاد اور بہتر معاشرتی رہنما بھی بن سکتی ہے۔ تعلیم یافتہ عورت پورے خاندان کی تربیت اور ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

بیٹی کی شادی کے وقت بھی اکثر اس کی رائے کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ بہت سے معاملات میں خاندان کے بڑے افراد خود ہی فیصلہ کر لیتے ہیں اور لڑکی کو صرف اس فیصلے کو قبول کرنے کے لئے کہا جاتا ہے۔ حالانکہ اسلام نے نکاح کے معاملے میں عورت کی رضامندی کو بنیادی شرط قرار دیا ہے۔

یہ رویہ عورت کی شخصیت اور اس کے جذبات کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ شادی انسان کی زندگی کا ایک نہایت اہم اور حساس فیصلہ ہوتا ہے اور اس میں لڑکی کی رائے اور پسند کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ ایک خوشگوار ازدواجی زندگی اسی وقت ممکن ہے جب دونوں افراد اپنی مرضی اور رضامندی سے اس رشتے میں بندھیں۔

ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ بہت سے گھروں میں خواتین کو سب کے بعد کھانا دیا جاتا ہے یا وہ بچی ہوئی غذا پر گزارہ کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ یہ روایت کئی جگہوں پر اب بھی موجود ہے اور اسے ایک معمول کی بات سمجھ لیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ رویہ عورت کی عزت اور وقار کے خلاف ہے۔

اسلام نے مرد اور عورت دونوں کو برابر عزت اور احترام دینے کا درس دیا ہے۔ گھر کے نظام میں عورت کو کمتر یا کم اہم سمجھنا دراصل ہماری غلط سوچ اور فرسودہ روایات کا نتیجہ ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہونی چاہئیں۔

ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کتنے گھروں میں شوہر اپنی بیوی کو ایک مکمل انسان کے طور پر دیکھتا ہے۔ بہت سی خواتین اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گھر اور خاندان کی خدمت میں گزار دیتی ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں وہ عزت اور قدر نہیں ملتی جس کی وہ حقدار ہوتی ہیں۔

بیوی صرف گھر کے کام کرنے والی نہیں بلکہ شوہر کی شریکِ حیات اور زندگی کی ساتھی ہوتی ہے۔ اسلام میں میاں بیوی کے تعلق کو محبت، احترام، اعتماد اور باہمی تعاون کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے۔ ایک کامیاب خاندان اسی وقت وجود میں آتا ہے جب دونوں ایک دوسرے کا احترام کریں۔

کئی خواتین شادی کے بعد عملی طور پر تنہائی اور بے اختیاری کی زندگی گزارتی ہیں۔ وہ گھر میں موجود تو ہوتی ہیں مگر اہم فیصلوں میں ان کی رائے یا آواز کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ یہ صورتحال ایک خاموش ظلم کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

یہ طرزِ عمل کسی بھی صحت مند معاشرے کی علامت نہیں ہو سکتا۔ ایک مضبوط اور متوازن خاندان اسی وقت تشکیل پاتا ہے جب اس میں موجود ہر فرد کو عزت، اعتماد اور اظہارِ رائے کا حق دیا جائے۔

اسلام نے عورت کے سفر کے حوالے سے بھی اس کی حفاظت اور عزت کو مدنظر رکھا ہے۔ اس کا مقصد عورت کو محدود کرنا نہیں بلکہ اس کے تحفظ اور احترام کو یقینی بنانا ہے تاکہ وہ معاشرے میں باعزت اور محفوظ زندگی گزار سکے۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بعض لوگ مذہب کے نام پر عورت کے حقوق کو محدود کر دیتے ہیں جبکہ حقیقت میں اسلام نے عورت کو وہ مقام اور احترام دیا ہے جو اس سے پہلے کسی معاشرے میں نہیں تھا۔

اسلامی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ عورت کو عزت، وراثت، تعلیم اور رائے کا حق دیا گیا۔ اگر ہم ابتدائی اسلامی معاشرے کو دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ خواتین تجارت، تعلیم، سماجی خدمات اور دینی معاملات میں بھی فعال کردار ادا کرتی تھیں۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ہم نے ان اصولوں کو بھلا دیا اور اپنی سماجی روایات کو دین سے زیادہ اہمیت دینا شروع کر دی۔

اگر ہم واقعی ایک بہتر اور منصفانہ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی سوچ اور اپنے رویّوں میں بنیادی تبدیلی لانا ہوگی۔ عورت کو کمزور، بے اختیار یا کمتر سمجھنے کے بجائے اسے معاشرے کا ایک باعزت اور بااختیار فرد تسلیم کرنا ہوگا۔ جب تک گھر کے اندر عورت کو عزت اور اعتماد نہیں ملے گا تب تک معاشرہ مجموعی طور پر ترقی نہیں کر سکتا۔

آٹھ مارچ صرف تقاریر، بیانات اور سوشل میڈیا پر پیغامات کا دن نہیں بلکہ یہ سنجیدہ خود احتسابی کا دن ہے۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم واقعی اپنی روزمرہ زندگی میں عورت کے حقوق کا احترام کرتے ہیں یا صرف الفاظ کی حد تک ان کی حمایت کرتے ہیں۔ اگر ہمارے عمل ہمارے دعوؤں سے مختلف ہیں تو ہمیں اپنی اصلاح کی ضرورت ہے۔

اگر ہم اسلام کی اصل اور حقیقی تعلیمات کو سمجھ لیں اور انہیں اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا لیں تو یقیناً ہمارا معاشرہ زیادہ منصفانہ، باوقار اور پرامن بن سکتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں عورت کو عزت، تعلیم، تحفظ اور فیصلہ سازی میں برابر کی حیثیت حاصل ہو، وہی حقیقی معنوں میں ایک مہذب اور ترقی یافتہ معاشرہ کہلانے کا حق رکھتا ہے۔

کیا ہم صرف عورتوں کے حقوق کے بارے میں باتیں کرتے رہیں گے یا واقعی ان حقوق کو عملی طور پر نافذ کرنے کے لئے سنجیدہ اور ٹھوس قدم بھی اٹھائیں گے۔ اگر ہم واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے گھروں سے اس کا آغاز کرنا ہوگا۔ جب ہر گھر میں بیٹی کو رحمت، بہن کو حق اور بیوی کو عزت ملے گی تبھی ہمارا معاشرہ انصاف، محبت اور برابری کی حقیقی مثال بن سکے گا۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے