پشاور: پشاور کے نواحی علاقے ماشو گگر، بڈھ بیر سے تعلق رکھنے والے عزیر زیب ولد جہانزیب خان اور فلک زیب خان نے علاقہ مشران کے ہمراہ پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنی خاندانی زمین کو مبینہ طور پر افغان مہاجر قبضہ مافیا سے بچانے کے لیے صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔
پریس کانفرنس میں ان کے ہمراہ علاقہ مشران حاجی جاوید، ملک کامران، حاجی اصف اور ملک اسد بھی موجود تھے۔ عزیر زیب نے بتایا کہ ان کی تقریباً سات جریب خاندانی زمین موضع خود ریزی، تھانہ پبی کے حدود میں گورنمنٹ ڈگری کالج پبی کے قریب واقع ہے، جس پر بااثر افغان مہاجرین اور ان کا قریبی رشتہ دار فہیم اللہ ولد سلیم خان سکنہ ڈاگ بے سود گڑھی جبارخان تحصیل پبی مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے سٹامپ پیپرز کے ذریعے فروخت کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس زمین سے متعلق مقدمات اس وقت پشاور اور نوشہرہ کی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، اس کے باوجود بعض افراد قانون کو نظر انداز کرتے ہوئے زمین کو اونے پونے داموں فروخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے متعلقہ تھانوں اور دیگر اداروں کو بھی آگاہ کیا جا چکا ہے لیکن تاحال کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔
عزیر زیب نے مزید الزام عائد کیا کہ جب انہوں نے قانونی طریقے سے اپنا حق مانگنے اور کارروائی کی کوشش کی تو انہیں مبینہ طور پر قتل اور اغوا کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق زمین کے تمام قانونی ریکارڈ اور دستاویزات ان کے پاس موجود ہیں اور وہ زمینوں کی تقسیم کے لیے عدالت سے رجوع کر چکے ہیں۔
انہوں نے صوبائی حکومت، محکمہ ریونیو، پولیس کے اعلیٰ حکام، ڈسٹرکٹ سیٹلمنٹ ایریا انچارج، لینڈ ریونیو حکام، متعلقہ تحصیلدار اور چیف سیکرٹری سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر سٹامپ پیپرز پر فروخت کی جانے والی زمین کی غیر قانونی منتقلی کو روکا جائے اور زمین انہیں واپس دلائی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مبینہ طور پر ملوث افغان مہاجرین اور فہیم اللہ کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے