
ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کے اثرات عالمی معیشت کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سٹاک مارکیٹ پر بھی نمایاں طور پر ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ کاروباری ہفتے کے پہلے روز پاکستان سٹاک ایکسچینج میں شدید مندی دیکھنے میں آئی جس کے باعث سرمایہ کاروں میں تشویش اور بے یقینی کی فضا پیدا ہو گئی۔
کاروبار کے آغاز کے ساتھ ہی مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ بڑھ گیا، جس کے نتیجے میں ہنڈرڈ انڈیکس میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران پاکستان سٹاک ایکسچینج کا ہنڈرڈ انڈیکس تقریباً 9 ہزار 780 پوائنٹس گر کر ایک لاکھ 47 ہزار 715 پوائنٹس کی سطح تک آ گیا۔
مارکیٹ میں اچانک آنے والی اس تیز گراوٹ کے باعث انتظامیہ نے احتیاطی اقدام کے طور پر ٹریڈنگ کو ایک گھنٹے کے لیے عارضی طور پر معطل کر دیا۔ بعد ازاں جب کاروبار دوبارہ شروع ہوا تو مندی کا رجحان مزید شدت اختیار کر گیا اور فروخت کے دباؤ میں اضافے کے باعث ہنڈرڈ انڈیکس میں مجموعی طور پر 13 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس طرح انڈیکس گر کر ایک لاکھ 44 ہزار 119 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ کاروباری ہفتے کے آخری روز پاکستان سٹاک ایکسچینج مثبت رجحان کے ساتھ بند ہوئی تھی اور ہنڈرڈ انڈیکس ایک لاکھ 57 ہزار 496 پوائنٹس کی سطح پر اختتام پذیر ہوا تھا۔ تاہم مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی نئی کشیدگی نے مارکیٹ کے رجحان کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی سٹاک مارکیٹس پر بھی پڑ رہے ہیں۔ بیشتر ایشیائی مارکیٹس میں نمایاں مندی دیکھی گئی ہے۔ جاپان کے اہم انڈیکس نکئی میں تقریباً 7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں بھی لگ بھگ 7 فیصد تک گراوٹ سامنے آئی۔
اسی طرح ہانگ کانگ کی سٹاک مارکیٹ میں ہینگ سینگ انڈیکس ڈھائی فیصد سے زائد نیچے آ گیا جبکہ بھارت کے نفٹی انڈیکس میں بھی تقریباً 3 فیصد کمی دیکھی گئی۔
خبر رساں اداروں کے مطابق یورپی سٹاک مارکیٹس بھی اس صورتحال سے متاثر ہوئی ہیں جہاں جرمنی، برطانیہ اور یورو سٹاکس انڈیکس میں ایک فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اسی طرح امریکی سٹاک مارکیٹ میں بھی مجموعی طور پر تقریباً ایک فیصد مندی دیکھی گئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو عالمی مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت دیگر معیشتوں پر بھی مرتب ہوں گے۔
![]()