فیز 1، 2 اور 3 کی تنگ گلیوں میں 1970 ماڈل لاریوں کی دوڑ، غیر منظور شدہ نقشہ اور آلودگی پر شہریوں کا سخت ردعمل

امجد ہادی یوسفزئی

حیات آباد کے رہائشیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ فاروَرڈ پبلک اسکول رنگ روڈ حیات آباد کی عمارت کا نقشہ تاحال پی ڈی اے سے باقاعدہ منظور شدہ نہیں، جس کے باوجود سرگرمیاں جاری ہیں۔ شہریوں کے مطابق متعلقہ حکام کی مبینہ غفلت کے باعث علاقے میں قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔

مکینوں کا کہنا ہے کہ فیز 1، فیز 2 اور فیز 3 کی تنگ اور گنجان رہائشی گلیوں میں 1970 ماڈل کی اضافی لمبائی والی پرانی لاری نما بسیں بدستور چل رہی ہیں، جو قانونی طور پر ممنوع ہونے کے باوجود روکی نہیں جا رہیں۔ ان بسوں کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ تکنیکی اور میکانکی طور پر ناکارہ ہیں اور ان سے اٹھنے والا سیاہ دھواں ماحول کو آلودہ کر کے صحت عامہ کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔

شہریوں نے مزید الزام لگایا ہے کہ بسوں کی تیز رفتاری معمول بن چکی ہے، جس کے باعث بچوں اور بزرگوں کی جانیں دائو پر لگی ہوئی ہیں اور کسی بھی وقت بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقامی انتظامیہ، جو ایک مبینہ طور پر نااہل پرنسپل کی سربراہی میں کام کر رہی ہے، صورتحال کو کنٹرول کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔

رہائشیوں کے مطابق پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی بیوٹیفکیشن مہم بھی متاثر ہو رہی ہے۔ درخت، پھول، فٹ پاتھ اور اسٹریٹ لائٹس تیزی سے خراب ہو رہے ہیں جبکہ دیکھ بھال کا مؤثر نظام دکھائی نہیں دیتا۔

اہل علاقہ نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف فوری اور شفاف انکوائری کر کے ذمہ داران کا تعین کیا جائے تاکہ پُرامن رہائشیوں اور بچوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے