فیاض شاداب سے
پشاور پریس کلب میں نومنتخب کابینہ کی حلف برداری تقریب منعقد ہوئی جہاں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کابینہ کے ارکان سے حلف لیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے اور جمہوری نظام میں اس کا کردار نہایت اہم ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے صحافیوں نے مشکل حالات میں فرائض انجام دیے اور قربانیاں دیں، جنہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت صحافی برادری کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے گی۔
خطاب کے دوران انہوں نے سابق وزیر اعظم Imran Khan کی صحت کا معاملہ بھی اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت پر اسلام آباد میں پُرامن دھرنا دیا گیا، تاہم اس معاملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو ان کے معالجین سے ملاقات کی اجازت دی جائے کیونکہ یہ بنیادی حق ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر اس معاملے پر احتجاج کی کال دی گئی تو کارکنوں کو روکنا ممکن نہیں ہوگا، مگر اب بھی ترجیح یہی ہے کہ مسئلہ آئینی اور قانونی دائرے میں حل ہو۔
صوبائی مالی معاملات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاق خیبرپختونخوا کا مقروض ہے اور صوبے کے بقایاجات ادا نہیں کیے جا رہے۔ ان کے مطابق یہ رقم صوبے کے عوام کا حق ہے جس کے لیے ہر سطح پر آواز اٹھائی جائے گی۔
انہوں نے پنجاب حکومت کی جانب سے مہنگا طیارہ خریدنے کے اقدام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں ایسی ترجیحات پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب عوامی فلاح کے منصوبوں پر اعتراض کیا جاتا ہے تو اسی پیمانے کو ہر جگہ لاگو ہونا چاہیے۔
تقریب کے اختتام پر وزیر اعلیٰ نے نومنتخب کابینہ کو مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ صحافی برادری آئندہ بھی عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

پشاور پریس کلب کی حلف برداری تقریب، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا خطابپشاور پریس کلب میں نومنتخب کابینہ کی حلف برداری تقریب منعقد ہوئی جہاں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کابینہ کے ارکان سے حلف لیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے اور جمہوری نظام میں اس کا کردار نہایت اہم ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے صحافیوں نے مشکل حالات میں فرائض انجام دیے اور قربانیاں دیں، جنہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت صحافی برادری کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے گی۔خطاب کے دوران انہوں نے سابق وزیر اعظم Imran Khan کی صحت کا معاملہ بھی اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت پر اسلام آباد میں پُرامن دھرنا دیا گیا، تاہم اس معاملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو ان کے معالجین سے ملاقات کی اجازت دی جائے کیونکہ یہ بنیادی حق ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر اس معاملے پر احتجاج کی کال دی گئی تو کارکنوں کو روکنا ممکن نہیں ہوگا، مگر اب بھی ترجیح یہی ہے کہ مسئلہ آئینی اور قانونی دائرے میں حل ہو۔صوبائی مالی معاملات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاق خیبرپختونخوا کا مقروض ہے اور صوبے کے بقایاجات ادا نہیں کیے جا رہے۔ ان کے مطابق یہ رقم صوبے کے عوام کا حق ہے جس کے لیے ہر سطح پر آواز اٹھائی جائے گی۔انہوں نے پنجاب حکومت کی جانب سے مہنگا طیارہ خریدنے کے اقدام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں ایسی ترجیحات پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب عوامی فلاح کے منصوبوں پر اعتراض کیا جاتا ہے تو اسی پیمانے کو ہر جگہ لاگو ہونا چاہیے۔تقریب کے اختتام پر وزیر اعلیٰ نے نومنتخب کابینہ کو مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ صحافی برادری آئندہ بھی عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے