امجد ہادی یوسفزئی

“پاکستان میں لیجنڈ بننے کے لیے مرنا ضروری ہے” یہ جملہ معروف گلوکار عاطف اسلم سے منسوب ہے، اور اس میں تلخ حقیقت کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں فنونِ لطیفہ سے وابستہ شخصیات کو عموماً ان کی زندگی میں وہ مقام اور عزت نہیں دی جاتی جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ فنکار اپنی عمر بھر کی جدوجہد کے باوجود گمنامی یا بے قدری کا شکار رہتے ہیں اور وفات کے بعد انہیں اعزازات، تقریبات اور تعریفی مضامین سے نوازا جاتا ہے۔

تاہم اس عمومی رویے کے برعکس پشتو فلم انڈسٹری کے بانی ہدایت کار عزیز تبسم ان خوش نصیب فنکاروں میں شامل ہیں جنہیں زندگی ہی میں نہ صرف صدارتی اعزاز سے نوازا گیا بلکہ حال ہی میں سرکاری سطح پر ایک شاندار تقریب میں انہیں خراجِ تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یہ اقدام اس اعتبار سے بھی قابلِ ستائش ہے کہ اس نے اس روایت کو کسی حد تک توڑا جس کے تحت ہم اپنے محسنوں کو دیر سے پہچانتے ہیں۔

1970ء میں جب پاکستانی سینما مختلف چیلنجز سے دوچار تھا، ایسے میں پہلی کامیاب پشتو فلم “یوسف خان شیربانو” کی ہدایت کاری کرتے ہوئے عزیز تبسم نے نہ صرف ایک فلم بنائی بلکہ ایک پوری صنعت کی بنیاد رکھ دی۔ اس فلم نے پشتو زبان کو سلور اسکرین پر ایک مضبوط شناخت دی اور علاقائی سینما کو قومی دھارے میں جگہ دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پروفیسر حنیف خلیل کے مطابق اس فلم پر تقریباً تین لاکھ روپے لاگت آئی، مگر اس نے چالیس لاکھ روپے کا بزنس کیا جو اُس دور میں ایک غیر معمولی کامیابی تھی۔ فلم مسلسل 55 ہفتوں تک سینما گھروں میں چلتی رہی اور اس کی کامیابی نے یہ ثابت کر دیا کہ علاقائی زبانوں میں بننے والی فلمیں بھی عوامی سطح پر بھرپور پذیرائی حاصل کر سکتی ہیں۔

“ٹریبیوٹ ٹو دی آئیکون دیٹ شیپڈ پشتو فلم انڈسٹری” کے عنوان سے تقریب نشتر ہال میں منعقد ہوئی، جس کا اہتمام خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی، عالمی پشتو جرگہ اور کلرز آف لائف نے مشترکہ طور پر کیا۔ تقریب میں مقامی فنکاروں، ادیبوں، فلمی شخصیات اور شائقین کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور عزیز تبسم کی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

تقریب کے دوران عزیز تبسم کی ہدایت کاری میں بننے والی سپرہٹ فلموں کے ویڈیو کلپس پروجیکٹر پر دکھائے گئے، جنہوں نے حاضرین کو 1970ء کی دہائی کے سنہری دور میں واپس پہنچا دیا۔ ایک مختصر دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی جس میں ان کے فنی سفر، مشکلات اور کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا۔ “آدم خان درخانئی” کے مقبول گانے پر نادیہ خان اور یوسف خان کی پرفارمنس نے محفل کو گرما دیا، جبکہ استاد خیال محمد کے صاحبزادے فیصل خیال اور ہدایت اللہ کے پوتے مشال خان نے لائیو گلوکاری سے تقریب کو یادگار بنا دیا۔ عزیز تبسم کی فلموں کے پوسٹروں کی نمائش بھی توجہ کا مرکز رہی، جس نے حاضرین کو پشتو فلم انڈسٹری کے سنہرے دور کی یاد تازہ کرا دی۔

تقریب میں ماضی کے معروف فلمی ستاروں آصف خان، امان خان، جمیل بابر اور عجب گل نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ عالمی سطح پر بھی سینما کلچر کو چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم بیرونِ ملک فلمساز جدید ٹیکنالوجی اور عصری تقاضوں کو اپناتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ افسوس کہ پاکستان میں فلمی صنعت وقت کے ساتھ خود کو ہم آہنگ نہ کر سکی، جس کے نتیجے میں آج یہ صنعت تقریباً زوال کا شکار ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ عزیز تبسم نے ایسے دور میں پشتو فلم انڈسٹری کی خدمت کی جب نہ جدید کیمرے تھے، نہ تکنیکی سہولیات، اور نہ ہی بڑے بجٹ دستیاب تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے 42 سپرہٹ پشتو اور آٹھ اردو فلمیں بنا کر ایک مثال قائم کی۔ انہوں نے نہ صرف معیاری فلمیں تخلیق کیں بلکہ بدر منیر، بیدار بخت، یاسمین خان اور نعمت سرحدی جیسے لیجنڈ فنکاروں کو متعارف کرایا۔

80 سالہ عزیز تبسم نے تقریب میں خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی اور ادبی شخصیات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے کام کو سراہا جانا ان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ ان کی آنکھوں میں تشکر اور اطمینان کی جھلک اس بات کی گواہ تھی کہ زندگی میں اعترافِ خدمات کسی بھی اعزاز سے بڑھ کر ہوتا ہے۔

یہ تقریب محض ایک شخص کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع نہیں تھی بلکہ یہ اس بات کا اعلان بھی تھی کہ ہمیں اپنے فنکاروں کو زندہ رہتے ہوئے عزت دینا سیکھنا ہوگا۔ اگر ہم واقعی اپنی ثقافت، زبان اور فنونِ لطیفہ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں اپنے تخلیق کاروں کی حوصلہ افزائی ان کی زندگی میں کرنی چاہیے تاکہ “لیجنڈ” بننے کے لیے موت شرط نہ رہے۔ عاطف اسلم کا جملہ اپنی جگہ ایک تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے، مگر عزیز تبسم کے اعزاز میں منعقد ہونے والی یہ تقریب امید کی ایک روشن کرن ہے۔ شاید ہم آہستہ آہستہ سیکھ رہے ہیں کہ قومیں اپنے ہیروز کو زندہ رکھ کر ترقی کرتی ہیں، نہ کہ انہیں کھو دینے کے بعد یاد کر کے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے