محمد عابد
مغربی دنیا خود کو عورتوں کے حقوق، آزادی اور مساوات کا عالمی چیمپئن ثابت کرنے میں کبھی پیچھے نہیں رہی۔ ترقی پذیر اور اسلامی ممالک کو آئے دن لیکچرز دیے جاتے ہیں کہ عورت کو آزادی دی جائے، اسے خودمختار بنایا جائے اور روایات سے نکالا جائے۔ مگر جب ہم خود مغربی معاشروں کے اندر جھانکتے ہیں تو ایک تلخ اور شرمناک حقیقت سامنے آتی ہے وہی معاشرے جہاں حقوقِ نسواں کے نعرے بلند ہوتے ہیں، وہاں عورتیں اور کم عمر لڑکیاں بدترین استحصال کا شکار ہو رہی ہیں۔
Jeffrey Epstein اسکینڈل محض ایک فرد کا جرم نہیں تھا بلکہ ایک پورے تہذیبی دعوے کی شکست تھی۔ کم عمر لڑکیوں کی جنسی اسمگلنگ، طاقتور مردوں کی سرپرستی، اور ریاستی اداروں کی مجرمانہ غفلت یہ سب کچھ دنیا کے ان ممالک میں ہوا جو خود کو انسانی حقوق کا محافظ کہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر عورت مغرب میں اتنی ہی محفوظ اور بااختیار ہے تو پھر ایسے جرائم برسوں تک کیسے چھپے رہے؟
مغربی نظام میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ قانون کاغذ پر تو مضبوط ہے، مگر اخلاقی بنیادیں کھوکھلی ہو چکی ہیں۔ آزادی کو بے مہار بنا دیا گیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عورت کو تحفظ دینے کے بجائے اسے ایک کمزور شے بنا کر طاقتور طبقے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ 2008 میں ایپسٹین کو ملنے والا شرمناک قانونی ریلیف اور بعد ازاں جیل میں اس کی پراسرار موت اس بات کا ثبوت ہے کہ مغرب میں بھی انصاف سب کے لیے برابر نہیں۔
ایپسٹین کی ساتھی Ghislaine Maxwell کو سزا ملنا یقیناً ایک مثبت پیش رفت تھی، مگر یہ سزا اُس اجتماعی جرم کا مداوا نہیں کر سکتی جس میں طاقتور خاموش رہے، ادارے سوئے رہے اور متاثرہ لڑکیاں انصاف کے لیے ترستی رہیں۔
اس کے برعکس، اسلام عورت کے حقوق کو محض نعروں اور مہمات کے ذریعے نہیں بلکہ ایک مضبوط اخلاقی و قانونی فریم ورک کے ذریعے محفوظ کرتا ہے۔ قرآن واضح طور پر انسان کی عزت و حرمت کو بنیاد بناتا ہے:
“وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ”
(ہم نے بنی آدم کو عزت دی) سورۃ الاسراء
اسلام میں عورت کو عزت ماں کی صورت میں دی گئی، جس کے قدموں تلے جنت رکھی گئی؛ بیٹی کو رحمت کہا گیا؛ اور بیوی کو سکون و شراکت کا ذریعہ قرار دیا گیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے لیے بہتر ہو”
یہ تعلیمات عورت کو استحصال سے نہیں بلکہ تحفظ، احترام اور ذمہ داری کے دائرے میں رکھتی ہیں۔ اسلامی تاریخ میں کوئی ایسا منظم، ریاستی سرپرستی یافتہ اسکینڈل نہیں ملتا جو کم عمر لڑکیوں کے استحصال کو جائز یا نظرانداز کرتا ہو۔ جہاں کہیں انفرادی جرائم ہوئے، وہ اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی تھے، نہ کہ ان کا نتیجہ۔
اصل فرق یہی ہے:
مغرب عورت کو آزادی کے نام پر تنہا چھوڑ دیتا ہے، جبکہ اسلام اسے خاندان، معاشرہ اور قانون کی اجتماعی حفاظت فراہم کرتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ عورتوں کے حقوق پر درس دینے سے پہلے مغربی دنیا اپنے گریبان میں جھانکے۔ حقیقی حقوق وہ نہیں جو کانفرنسوں میں بیان ہوں، بلکہ وہ ہیں جو عورت کو طاقتور کے ظلم سے بچا سکیں۔ عورت کا احترام کسی تہذیب کے نعروں سے نہیں بلکہ اس کے عملی کردار سے ناپا جاتا ہے اور اس کسوٹی پر مغرب کو خود احتسابی کی اشد ضرورت ہے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے