
تحریر: سردار یوسفزئی نائب صدر پختون جرنلسٹس ایسوسی ایشن اسلام اباد
فائزہ اشتیاق کا تعلق ضلع مردان تحصیل رستم،کے گاوں کوترپان زاہد اباد سے ہے۔ وہ ان باصلاحیت، باہمت اور باوقار طالبات میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نے محنت، مستقل مزاجی اور خود اعتمادی کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کو منوایا۔ اس وقت وہ پاکستان کے معتبر اور ممتاز تعلیمی ادارے نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) سے مکاترونکس انجینئرنگ میں بیچلر ڈگری حاصل کر رہی ہیں، جو ان کے بلند حوصلوں، فکری پختگی اور روشن مستقبل کی واضح عکاسی کرتا ہے۔
فائزہ اشتیاق کے تعلیمی سفر کا آغاز اے پی ایس اے سی ایس مردان سے ہوا، جہاں انہوں نے ساتویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ اسی دوران انہوں نے گرلز کیڈٹ کالج مردان (GCCM) کے داخلہ امتحان میں شرکت کی اور اپنی ذہانت و صلاحیت کی بنیاد پر نمایاں کامیابی حاصل کی۔ 8 اپریل 2018 کو انہوں نے گرلز کیڈٹ کالج مردان میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی، جہاں نظم و ضبط، کردار سازی اور معیاری تعلیم کے ماحول نے ان کی شخصیت کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی ادارے سے انہوں نے میٹرک اور ایف ایس سی کی تعلیم مکمل کی۔ فائزہ اشتیاق نے میٹرک میں 1100 میں سے 1094 نمبرز حاصل کئے ۔
فائزہ اشتیاق نے ایف ایس سی (پری انجینئرنگ) میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن مردان کے تحت اوّل پوزیشن حاصل کی اور 1100 میں سے 1022 نمبرز حاصل کئے۔ یہ شاندار کامیابی نہ صرف ان کی غیر معمولی ذہانت اور انتھک محنت کا ثبوت ہے بلکہ اساتذہ، والدین اور تعلیمی ادارے کے لیے بھی باعثِ فخر ہے۔ یہ اعزاز ان کی تعلیمی یکسوئی اور مقصد سے وابستگی کو واضح طور پر اجاگر کرتا ہے۔
فائزہ اشتیاق کی طرح اُن کے خاندان کے دیگر بچے بچیاں بھی صلاحیت، ذہانت اور محنت کی روشن مثال ہیں۔ اس کی بہن اقصی اشتیاق اور بھائی تنویر احمد اور وسیم احمد بھی ماشاءاللہ علمی و فکری اعتبار سے نہایت قابل اور باصلاحیت ہیں۔ یہ سب اپنے اپنے تعلیمی اداروں میں امتیازی حیثیت کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور اپنی محنت، لگن اور نظم و ضبط کے ذریعے کامیابی کی نئی منازل طے کر رہے ہیں۔ یہ خاندان مجموعی طور پر علم دوستی، مثبت سوچ اور اعلیٰ اقدار کا حسین امتزاج ہے جو نئی نسل کے لیے ایک قابلِ تقلید نمونہ پیش کر رہا ہے۔
تعلیم کے ساتھ ساتھ فائزہ اشتیاق نے ہمہ جہت شخصیت کی تعمیر پر بھی خصوصی توجہ دی۔ وہ ایک باعزم اور سرگرم تائیکوانڈو ایتھلیٹ رہیں اور قومی سطح سمیت متعدد اہم مقابلوں میں اپنے ادارے کی نمائندگی کی۔ کھیلوں کے میدان میں ان کی فعال شرکت نے ان میں نظم و ضبط، ثابت قدمی، خود اعتمادی اور ٹیم ورک جیسی صفات کو مزید مضبوط کیا، جو عملی زندگی میں کامیابی کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہیں۔
فائزہ اشتیاق ایک ایسے علمی اور فلاحی خانوادے سے تعلق رکھتی ہیں جس کی خدمات علاقائی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جاتی ہیں۔ وہ علاقہ سودھم کے ایک بڑے زمیندار اور معروف ماہرِ تعلیم مرحوم شیراکبر خان صاحب کی پوتی ہیں، جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم کی روشنی پھیلانے کے لیے وقف کی تھی۔ ان کا خواب تھا کہ علاقہ سودھم بالخصوص امن، روشنی اور ترقی کا گہوارہ بنے اور معاشرے میں شعور، تعلیم اور خدمتِ خلق کا فروغ ہو۔
مرحوم شیراکبر خان صاحب نے اپنے بھائی ممتاز علی خان (بطور سپیشل سیکرٹری کامرس گریڈ 22 میں ریٹائر ہوئے، کسٹم گروپ) کے تعاون سے اہلیانِ علاقہ کی سہولت اور بہتر علاج معالجہ کے لیے ایک ہسپتال قائم کیا، جو انسانیت کی خدمت کا ایک روشن مینار ثابت ہوا۔ اس ادارے کا مقصد صرف علاج فراہم کرنا نہیں تھا بلکہ غریب اور مستحق افراد کو بلا امتیاز طبی سہولیات مہیا کرنا تھا، تاکہ کوئی بھی شخص وسائل کی کمی کے باعث علاج سے محروم نہ رہے۔ آج بھی یہ ہسپتال علاقے میں صحت، اعتماد اور فلاح کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
مرحوم کے اس فلاحی مشن کو ان کے صاحبزادے اشفاق احمد اور اشتیاق احمد پوری ذمہ داری، دیانت اور خلوص کے ساتھ تاحال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہسپتال میں مختلف بیماریوں کا مفت علاج کیا جا رہا ہے، جس سے روزانہ درجنوں خاندان مستفید ہو رہے ہیں۔ یہ ادارہ محض ایک طبی مرکز نہیں بلکہ خدمتِ خلق، ایثار اور سماجی ذمہ داری کی عملی تصویر ہے۔
اسی خانوادے کے ایک نمایاں فرد شیراکبر صاحب کے چھوٹے بیٹے جہانگیر عالم خان ایڈوکیٹ ہیں، جو ہائی کورٹ کے مانے ہوئے وکیل، سیاسی طور پر زیرک و مدبر شخصیت اور عوامی نیشنل پارٹی رستم کے تحصیل صدر ہیں۔ وہ عوامی خدمت، ہمدردی اور سماجی فلاح کے جذبے سے سرشار انسان ہیں۔ اسی طرح شیراکبر صاحب کے بھتیجے زاہد حسین علاقے کے معززین میں شمار ہوتے ہیں، جو اصلاحِ معاشرہ اور سماجی ہم آہنگی کے حوالے سے نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
فائزہ اشتیاق کے والدِ جناب اشتیاق احمد ایک ممتاز کاروباری شخصیت ہیں جو اپنی محنت، دیانت اور بصیرت کی بدولت کاروباری دنیا میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ وہ نہ صرف معاشی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرتے ہیں بلکہ خدمتِ خلق کے میدان میں بھی پیش پیش رہتے ہیں، جہاں اپنے بھائیوں اشفاق احمد اور جھانگیر عالم ایڈوکیٹ کے ساتھ مل کر فلاحی و سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ اشتیاق احمد ایک سچے تعلیم دوست انسان ہیں جو نئی نسل کو علم، شعور اور بہتر مستقبل کی راہ پر گامزن دیکھنے کے خواہاں ہیں، اور اسی سوچ کے تحت تعلیم کے فروغ کو معاشرتی ترقی کی بنیاد سمجھتے ہیں۔
ایسے علمی، سماجی اور فلاحی ماحول میں پرورش پانے والی فائزہ اشتیاق اس وقت بی ایس انجینئرنگ کے چھٹے سمسٹر میں ہیں اور مسلسل تعلیمی و ذاتی ترقی کے سفر پر گامزن ہیں۔ وہ نہ صرف ایک کامیاب انجینئر بننے کا خواب رکھتی ہیں بلکہ اپنے علم، صلاحیت اور کردار کے ذریعے ملک و قوم کی خدمت کا جذبہ بھی رکھتی ہیں۔ بلاشبہ فائزہ اشتیاق کا یہ سفر آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال ہے اور مستقبل میں ان سے مزید نمایاں کامیابیوں کی بھرپور توقع کی جا سکتی ہے۔
پچھلے دنوں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مردان مسعود احمد کی جانب سے مردان تعلیمی بورڈ کے ٹاپر طلبہ کے اعزاز میں ڈی پی او آفس مردان میں ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی، جس میں مردان پولیس کی جانب سے نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو اعزازی گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ اس موقع پر ایس پی انویسٹی گیشن نثار خان سمیت دیگر سینئر پولیس افسران بھی موجود تھے، جنہوں نے طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کی کامیابیوں کو سراہا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈی پی او مردان مسعود احمد نے ٹاپر طلبہ کی محنت، لگن اور شاندار تعلیمی کامیابیوں کی تعریف کی اور کہا کہ یہ باصلاحیت طلبہ نہ صرف اپنے والدین بلکہ پورے ضلع مردان کے لیے باعثِ فخر ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہی نوجوان مستقبل میں ملک و قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔
اس پروقار تقریب میں مردان بورڈ کے ایف ایس سی امتحان میں فرسٹ پوزیشن حاصل کرنے والی فائزہ اشتیاق کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا گیا۔ اس موقع پر انہیں اعزازی سرٹیفیکیٹ پیش کیا گیا، جو نہ صرف ان کی غیر معمولی تعلیمی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ ان کے خاندان اور علاقہ سودھم کے لیے بھی ایک قابلِ فخر اعزاز کی حیثیت رکھتا ہے۔ فائزہ اشتیاق کی یہ کامیابی دیگر طلبہ کے لیے ایک روشن مثال اور علم دوستی کا واضح پیغام ہے۔
![]()