
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی افواج نے وینزویلا میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں کیں، جن کے دوران صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا۔ کسی بھی موجودہ سربراہِ مملکت کی اس نوعیت کی گرفتاری کو عالمی سیاست میں ایک غیر معمولی اور سنسنی خیز واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکا اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں۔ وینزویلا کی حکومت طویل عرصے سے یہ الزام عائد کرتی رہی ہے کہ امریکا دراصل دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر تک رسائی چاہتا ہے۔ ناقدین کے مطابق مادورو کی گرفتاری اور وینزویلا پر بمباری اسی وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتی ہے۔
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ نکولس مادورو خطے میں منشیات اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس میں ملوث رہے ہیں۔ جولائی میں امریکا نے مادورو کے سر کی قیمت 50 ملین ڈالر مقرر کی تھی اور انہیں عالمی سطح پر بڑے منشیات فروشوں میں شامل کیا گیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق نومبر میں مادورو کو اقتدار چھوڑنے کے بدلے محفوظ راستہ دینے کی پیشکش بھی کی گئی، جسے انہوں نے مسترد کر دیا۔
امریکا اور وینزویلا کے تعلقات سنہ 1999 میں ہیوگو شاویز کے اقتدار میں آنے کے بعد سے مسلسل تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ شاویز کی سوشلسٹ اور امریکا مخالف پالیسیاں، کیوبا اور ایران سے قربت، اور عراق و افغانستان پر امریکی حملوں کی مخالفت نے واشنگٹن کو سخت ناپسند کیا۔ سنہ 2002 کی ناکام بغاوت، جس کا الزام شاویز نے امریکا پر عائد کیا، دونوں ممالک کے درمیان خلیج مزید گہری کر گئی۔
سنہ 2013 میں نکولس مادورو کے اقتدار میں آنے کے بعد حالات مزید بگڑتے گئے۔ سنہ 2019 میں امریکا نے مادورو کو آمر قرار دیتے ہوئے اپوزیشن رہنما خوآن گوایدو کو وینزویلا کا عبوری صدر تسلیم کر لیا۔ سنہ 2024 کے انتخابات میں مادورو کی شکست کے شواہد سامنے آئے، تاہم انہوں نے اپوزیشن پر امریکی پشت پناہی کا الزام لگا کر طاقت کے ذریعے اقتدار برقرار رکھا۔
یہ امر تسلیم کیا جاتا ہے کہ مادورو کا دورِ حکومت آمرانہ طرزِ حکمرانی، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، سیاسی مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن اور ریاستی اداروں کی کمزوری کے حوالے سے شدید تنقید کا نشانہ رہا۔ تاہم سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا کسی آمر کی موجودگی کسی بیرونی طاقت کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ ایک خودمختار ملک کو میدانِ جنگ بنا دے اور اس کے حکمران کو گرفتار کر لے؟
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہی اصول اپنایا جائے تو دنیا کے کئی ممالک ایسے ہیں جہاں اسی طرز کی مداخلت کو جواز فراہم کیا جا سکتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حقیقت میں وینزویلا کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ وہ دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر رکھتا ہے اور طویل عرصے تک واشنگٹن کے دائرۂ اثر سے باہر رہا ہے۔
![]()