ہومیو پیتھی ایسا علاج ہے جو مریض کی مجموعی صحت کو بہتر بنانے پر زور دیتا ہے،ماہرین کے پینل میں شامل ڈاکٹر جہانزیب سے خیبرنامہ کی خصوصی گفتگو
پشاور(انٹرویو: مدثر زیب) ہومیو پیتھک علاج دنیا بھر میں آزمودہ خیال کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے ہر شہر میں ہومیو پیتھک کے بڑے بڑے ڈاکٹرز موجود ہیں جن سے ایک عالم شفایاب ہوا اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ پشاور میں بھی ہومیو پیتھک کی دنیا میں اپنا نام کمانے اور شہرت کے جھنڈے گاڑنے والے ڈاکٹرز موجود ہیں جن میں ڈاکٹر جہانزیب کا نام سرفہرست خیال کیا جاتا ہے،34 سال سے ڈاکٹر جہانزیب کا کلینک دکھی انسانیت کی خدمت میں پیش پیش ہے۔ خیبرنامہ کی ٹیم نے ہومیو پیتھک علاج اور طریقہ کار کے حوالے سے ڈاکٹر جہانزیب کا انٹرویو کیا ہے جس کے مندرجات ذیل ہیں۔

ڈاکٹر جہانزیب 1986 میں ہومیو پیتھک کی فیلڈ سے منسلک ہوئے، دوران انٹرویو انہوں نے بتایا کہ 1986 میں خیبرپختونخوا میں جب فرنٹیئر کالج کی منظوری دی گئی تو میں اس کالج کے اولین طالب علموں میں سے تھا۔1990 میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد 21 اپریل 1991ء سے کلینک کی دنیا میں آیا اور اللہ پاک کے فضل سے کلینک میں مریضوں کی مسلسل خدمت ابھی تک جاری و ساری ہے۔ ڈاکٹر جہانزیب نے بتایا کہ روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 80 سے 100 کے درمیان مریض آتے ہیں اور بحکم خدا شفا پاتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہومیو پیتھک لائف میں ہر قسم کے مریض آتے ہیں، مجھے نہیں یاد پڑتا کہ 34 سالہ دور میں کوئی ایسا مریض آیا ہو جسے ہم نے ٹریٹ نہ کیا ہو، ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کلینک آتے ہیں، آج کل سائیکالوجیکل مسائل بہت زیادہ بڑھ چکے ہیں، جس کی بنیادی وجہ ہم مہنگائی کو قرار دے سکتے ہیں، جس کی وجہ سے ہر جوان، بوڑھا، مرد و زن نفسیاتی مسائل میں مبتلا ہیں۔
ہومیو علاج کے حوالے سے ڈاکٹر جہانزیب کا کہنا تھا کہ ہومیو پیتھی ایک ایسا علاج ہے جو مریض کی مجموعی صحت کو بہتر بنانے پر زور دیتا ہے۔ یہ قدرتی طریقوں سے بیماریوں کا علاج کرتا ہے۔ڈاکٹر جہانزیب نے بتایا کہ ہومیو پیتھک علاج ڈاکٹری (ایلوپیتھی) علاج سے زیادہ طویل ہو سکتا ہے۔ ہومیو پیتھی میں علاج کا مقصد مریض کی مجموعی صحت کو بہتر بنانا ہوتا ہے، اس لیے یہ علاج زیادہ طویل ہو سکتا ہے۔ ایلوپیتھی میں زیادہ تر بیماری کی علامات کو دبانے کے لیے ادویات دی جاتی ہیں، جس سے جلد آرام آجاتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیماری مکمل طور پر ختم ہو چکی۔ہومیو ڈاکٹرز کا ماننا ہے کہ ہومیو پیتھی میں علاج طویل ہو سکتا ہے، لیکن یہ علاج مریض کی مجموعی صحت کو بہتر بناتا ہے۔ایلوپیتھی میں جلد آرام آجاتا ہے، لیکن بیماری کی وجہ کو ختم نہیں کیا جاتا۔
ہومیو پیتھی اور ڈاکٹری (ایلوپیتھی) علاج میں فرق کے حوالے سے ڈاکٹر جہانزیب کا کہنا تھا کہ ایلوپیتھی میں بیماری کی علامات کو دبانے پر زور دیا جاتا ہے، جبکہ ہومیو پیتھی میں مریض کی مجموعی صحت اور اس کی ذہنی و جسمانی حالت کو مدنظر رکھ کر علاج کیا جاتا ہے۔ہومیو پیتھی میں علاج زیادہ personalized ہوتا ہے، یعنی ہر مریض کے لیے انفرادی طور پر علاج تجویز کیا جاتا ہے۔ہومیو پیتھی میں بیماریوں کا علاج قدرتی اور نرم طریقوں سے کیا جاتا ہے، جبکہ ایلوپیتھی میں اکثر شدید کیمیائی ادویات استعمال کی جاتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہومیو پیتھی کے فوائد میں یہ شامل ہیں کہ یہ قدرتی ہے، اس کے کم سائیڈ ایفیکٹس ہیں، اور یہ مریض کی مجموعی صحت کو بہتر بناتی ہے۔ہومیو پیتھی میں "Like Cures Like” کا اصول استعمال کیا جاتا ہے، یعنی جو چیز کسی صحت مند انسان میں علامات پیدا کرتی ہے، وہی چیز بیمار انسان میں اسی طرح کی علامات کو ختم کرتی ہے۔ایلوپیتھی میں زیادہ تر بیماری کی علامات کو دبانے کے لیے ادویات دی جاتی ہیں، جبکہ ہومیو پیتھی میں مریض کی مجموعی صحت کو بہتر بنانے پر زور دیا جاتا ہے۔ہومیو پیتھی میں علاج زیادہ personalized ہوتا ہے، یعنی ہر مریض کے لیے انفرادی طور پر علاج تجویز کیا جاتا ہے۔
ہومیو پیتھی میں علاج کی مدت کے حوالے سے ڈاکٹر جہانزیب نے بتایا کہ ہومیو پیتھی میں علاج کی مدت مریض کی حالت اور بیماری کی نوعیت پر منحصر ہوتی ہے۔ بعض اوقات جلد آرام آجاتا ہے، جبکہ بعض اوقات زیادہ وقت لگتا ہے۔- ہومیو پیتھی کے سائیڈ ایفیکٹس کے حوالے سے ڈاکٹر جہانزیب کا کہنا تھا کہ ہومیو پیتھی کے بہت کم سائیڈ ایفیکٹس ہوتے ہیں، کیونکہ یہ قدرتی طریقوں سے علاج کرتا ہے۔
ہومیو پیتھی اور ایلوپیتھی کے ایک ساتھ استعمال کے حوالے سے ڈاکٹر جہانزیب نے بتایا کہ ہومیو پیتھی اور ایلوپیتھی کو ایک ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ادویات نہیں لینی چاہئیں۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر جہانزیب نے بتایا کہ ہومیو پیتھی میڈیسن نسبتاًسستا علاج ہے جبکہ اس کی دوائیں ایکسپائر نہیں ہوتیں۔ لیکن ایسا بھی ممکن نہیں کہ ادویات کے استعمال سے مرض پلک جھپکتے ہی ختم ہو جائے، علاج طویل ہے لیکن دیرپا ہے۔ ڈاکٹری علاج کہتا ہے کہ جراثیم کو ادویات کے ذریعے دبا دیں، الرجی کے لئے اینٹی الرجک دے دیں، نہیں ہمارا یہ کلیہ نہیں ہے، ہمارا یہ کلیہ ہے کہ جس چیز سے یا جس کیفیت کی بناء پر جس کو مرض لاحق ہوا ہو اسی میں اس کا علاج موجود ہے۔ جیسے اگر ہم ماضی کی مثال لیں تو کسی کی ایڑھ میں کوئی کیل وغیرہ چلا جاتا تھا تو اسی کیل کو گرم کر کے علاج کیا جاتا تھا اور کئی جگہوں پر آج بھی یہ طریقہ مستعمل ہے ۔
سردی کے موسم میں احتیاطی تدابیر کے حوالے سے ڈاکٹر جہانزیب نے بتایا کہ بارش نہ ہونے کی وجہ سے اس خشک موسم میں شہد کا استعمال اور نیم گرم سب سے زیادہ مفید ہے۔ بچوں، بزرگوں کے لئے اس موسم میں سرد پانی انتہائی زیادہ نقصان دہ ہے، نیم گرم پانی میں ایک چمچ شہد ڈال کر پینے سے سینے اور دیگر امراض سے بچا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر جہانزیب کا کہنا تھا کہ ٹھنڈی اور کھٹی چیزیں، چاول ااور چکنائی سے پرہیز بھی لازمی فیکٹر ہے۔
![]()