
نماز اسلام کی بنیادی ترین عبادات میں سے ہے اور مسلمان کی زندگی میں اس کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے۔ قرآن و سنت میں نماز کو نہ صرف فرض قرار دیا گیا ہے بلکہ اس کے آداب، شرائط اور احترام پر انتہائی تاکید کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے۔ انہی آداب میں ایک اہم ادب یہ ہے کہ نماز پڑھنے والے کے سامنے سے گزرا نہ جائے، کیونکہ یہ عمل نماز کی کیفیت اور خشوع میں خلل پیدا کرتا ہے۔
فقہاء کے نزدیک اگر کبھی کسی وجہ سے نماز پڑھنے والے کے سامنے سے گزرنے کی شدید مجبوری ہو، تو بھی پہلی ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ یا تو پیچھے سے گزرا جائے یا کنارے سے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ نہ تو عبادت گزار کی توجہ بٹتی ہے اور نہ ہی وہ اپنی نماز میں کسی ذہنی انتشار کا شکار ہوتا ہے۔ اسلامی فقہ کا اصول بھی یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو عبادت کے ماحول کو پرسکون اور پاکیزہ رکھا جائے تاکہ نماز کی روح، اس کا خشوع اور اس کا اثر دل پر قائم رہے۔
بعض لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ چونکہ مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ میں لوگ نماز کے دوران گزر جاتے ہیں، اس لیے عام مقامات پر بھی ایسا کرنا جائز ہونا چاہیے۔ یہ سوچ دراصل اس غلط فہمی سے پیدا ہوتی ہے کہ حرمین شریفین کے حالات ہر جگہ یکساں ہوتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حرم شریف جیسے بڑے اور رش والے مقام کے حالات دنیا کے کسی عام مقام سے یکسر مختلف ہوتے ہیں۔ وہاں لاکھوں افراد کی آمد و رفت اور عبادات کی وسعت کی وجہ سے بعض ایسی صورتیں پیش آتی ہیں جن کی ہر جگہ مثال نہیں دی جا سکتی۔
جب لوگ یہ دلیل لاتے ہیں تو وہ غیر ارادی طور پر ہجوم کی وجہ سے پیش آنے والے کچھ غیر اختیاری اعمال کو عام معمول سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ شریعت کا اصول یہ ہے کہ حرم کے مخصوص حالات کو عمومی قانون کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔ ہجوم، راستوں کی تنگی اور مسلسل عبادات کے ماحول کی وجہ سے بعض اوقات وہاں ایسی مجبوری پیدا ہو جاتی ہے کہ نمازی کے آگے سے کچھ نہ کچھ آمد و رفت ہوتی رہتی ہے، لیکن اس سے حکم میں تبدیلی نہیں آتی۔ اس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہاں حالات مختلف ہیں، نہ یہ کہ عام جگہوں پر بھی ایسا کرنا جائز ہو جائے۔
حرم شریف میں بھی لوگ کوشش کرتے ہیں کہ نماز کے سامنے سے نہ گزریں، اور وہاں بھی مناسب جگہوں پر راستے بنائے جاتے ہیں تاکہ نمازیوں کی توجہ اور خشوع برقرار رہے۔ ضرورت پڑنے پر ہی رعایت دی جاتی ہے لیکن یہ رعایت کسی طرح بھی عمل کی پسندیدگی کو ثابت نہیں کرتی۔
عام مقامات پر نماز کے سامنے سے گزرنا نہ صرف ناجائز ہے بلکہ نماز کے ادب و احترام کے خلاف بھی ہے۔ لوگ اکثر دوسروں کو ایسا کرتے دیکھ کر خود بھی یہ عمل اختیار کر لیتے ہیں اور رفتہ رفتہ انہیں یہ لگنے لگتا ہے کہ شاید یہ معمول کی بات ہے۔ لیکن شریعت کی نظر میں عمل کی حیثیت لوگوں کے کرنے سے نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم سے طے ہوتی ہے۔ لہٰذا ایسے رویے سے بچنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے تاکہ نماز کی حرمت برقرار رہے۔
ہجوم والے مقامات یا عوامی اجتماعات میں بعض اوقات یہ صورت پیش آتی ہے کہ راستہ تنگ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو صفوں کے قریب سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس کو بعض لوگ مستقل جواز سمجھ لیتے ہیں، جبکہ یہ صرف ضرورت کے درجے کی رعایت ہوتی ہے۔ اگر راستہ کھلا ہو یا کنارے سے گزرا جا سکتا ہو، پھر بھی نمازی کے سامنے سے گزرنا شریعت کے ادب کے خلاف ہے۔ مسلمان کو جہاں تک ممکن ہو نماز پڑھنے والے کے لیے راستہ خالی چھوڑنا چاہیے۔
نماز کے آداب کی پابندی نہ کرنے کی ایک بڑی وجہ علم اور سمجھ کی کمی بھی ہے۔ بہت سے مسلمان شاید نماز کے ادب کے بارے میں واقف نہیں ہوتے اور اسی لاعلمی کی بنیاد پر آگے سے گزرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے۔ اس لیے ضروری ہے کہ معاشرے میں نماز کے آداب کی تعلیم عام کی جائے تاکہ لوگ اس عبادت کی عظمت کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ والدین، استاد اور خطباء اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
بعض لوگ غفلت کے باعث آگے سے گزر جاتے ہیں، وہ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ اس عمل سے نماز میں خلل پیدا ہوتا ہے۔ جب یہ عمل روزمرہ کا معمول بن جاتا ہے تو اس کی قباحت ختم ہونے لگتی ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ غیر شعوری عادت ایک وقت میں عبادت کے تقدس کو کمزور کر دیتی ہے اور مسلمان پر لازم ہے کہ وہ خود بھی اس سے بچے اور دوسروں کو بھی آگاہ کرے۔
لوگ حرم کی مثال دے کر عام جگہوں پر بھی آگے سے گزرتے ہیں، حالانکہ یہ مثال نہ علمی طور پر درست ہے نہ شرعی اصولوں کے مطابق۔ حرم میں آنے والے لاکھوں زائرین اور تنگ جگہوں کے سبب بعض اوقات ایسے حالات بنتے ہیں جو عام مقامات پر نہیں پائے جاتے۔ اس لیے وہاں کی رعایت کو دلیل بنا کر ہر جگہ آگے سے گزرنا درست نہیں۔
مسلمان کا فرض ہے کہ نماز کی عظمت کو ہر حال میں مقدم رکھے۔ چاہے لوگ زیادہ ہوں یا کم، جگہ تنگ ہو یا وسیع، جب تک حقیقی ضرورت پیش نہ آئے، آگے سے گزرنے سے پرہیز کرنا ہی بہتر اور احسن ہے۔ اس سے نہ صرف نماز کا ادب برقرار رہتا ہے بلکہ دل میں خشوع بھی پیدا ہوتا ہے۔
ضرورت کے وقت اگر گزرنا لازم ہو تو بھی آہستہ چلتے ہوئے، خاموشی اختیار کرتے ہوئے اور نمازی سے مناسب فاصلے پر رہتے ہوئے گزرنا چاہیے تاکہ عبادت کی کیفیت متاثر نہ ہو۔ یہ رعایت بھی اسی وقت ہے جب کوئی اور راستہ موجود نہ ہو، ورنہ عام حالت میں یہی حکم ہے کہ آگے سے گزرنے سے مکمل پرہیز کیا جائے۔
نماز کے آداب پر عمل کرنا ایمان کی پختگی اور مسلمان کی اخلاقی تربیت کی علامت ہے۔ جب معاشرے میں لوگ ان اصولوں کا خیال رکھتے ہیں تو پورا ماحول عبادت کی عظمت کا مظہر بن جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف فرد کی عبادت بہتر ہوتی ہے بلکہ مجموعی طور پر معاشرے کا دینی ماحول بھی مضبوط ہوتا ہے۔
بچوں کو چھوٹی عمر سے یہ آداب سکھانا ضروری ہے تاکہ وہ بڑا ہو کر نماز کی حرمت کا پورا خیال رکھیں۔ اگر والدین اور اساتذہ ان پر مناسب وقت پر توجہ دیں تو یہ آداب ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں اور وہ معاشرے کے بہتر افراد بن کر سامنے آتے ہیں۔
بہت سے لوگ غلط فہمی یا عادت کے باعث آگے سے گزرتے ہیں۔ انہیں سمجھانے اور رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں بتایا جانا چاہیے کہ مکہ یا مدینہ کی مثال صرف ضرورت کے حالات میں ہے، عام قواعد کے لیے نہیں۔ اس نقطے کو واضح کرنا بہت ضروری ہے تاکہ لوگ شرعی آداب سے غافل نہ رہیں۔
اسلام کا اصل سبق یہ ہے کہ ہر جگہ نماز کا احترام قائم رکھا جائے۔ چاہے عام جگہ ہو یا خاص مقام، جب تک ضرورت نہ ہو، آگے سے گزرنے سے پرہیز کرنا ایمان، ادب اور عبادت کی پاکیزگی کی علامت ہے۔ یہ رویہ نہ صرف مسلمان کی شخصیت کو نکھارتا ہے بلکہ اسے اللہ کے قریب بھی کرتا ہے۔
نماز کے آداب کی پابندی ہر مسلمان کا انفرادی اور اجتماعی فریضہ ہے۔ مکہ یا مدینہ کے ہجوم والی مثالیں محض اضطراری حالات میں رعایت کے طور پر دی جاتی ہیں اور انہیں عام اصول نہیں بنایا جا سکتا۔ عام حالات میں ہر مسلمان پر لازم ہے کہ نماز کے سامنے سے گزرنے سے مکمل پرہیز کرے تاکہ نماز کی روح، اس کی عظمت اور اس کا وقار قائم رہے اور ایمان مضبوطی کے ساتھ انسان کے دل میں راسخ ہو۔
![]()