
فرانسیسی پولسٹر ’’اوڈوکسا‘‘ کے تازہ سروے کے مطابق 30 سالہ انتہائی دائیں بازو کے رہنما جورڈن بارڈیلا 2027 کے صدارتی انتخابات میں ممکنہ طور پر کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی بڑے سروے نے انہیں تمام ممکنہ امیدواروں کے مقابلے میں واضح برتری دی ہے۔
اوڈوکسا کی جانب سے 19 اور 20 نومبر کو ایک ہزار افراد سے رائے لی گئی، جس میں بتایا گیا کہ اگر آج انتخابات ہوں تو بارڈیلا پہلے مرحلے میں 35 سے 36 فیصد ووٹ حاصل کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق وہ دوسرے مرحلے میں بھی تمام بڑے امیدواروں کو شکست دیتے دکھائی دیتے ہیں۔
تاہم سروے رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ انتخابات سے کئی ماہ قبل ’غیر معمولی فیورٹ‘ ہونا لازمی طور پر کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتا۔ ماضی میں بارڈیلا کی پیش رو میرین لی پین اور ان کے والد ژاں ماری لی پین کو بھی دوسرے مرحلے میں وسیع سیاسی اتحادوں نے تین مرتبہ شکست دی۔
سالہ میرین لی پین اس وقت پانچ سالہ پابندی کے باعث عوامی عہدہ رکھنے سے محروم ہیں، جو مارچ میں پارٹی فنڈز کے غلط استعمال کے الزام میں عدالتی فیصلے کے نتیجے میں عائد ہوئی تھی۔ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کر چکی ہیں۔ اگر پابندی برقرار رہی تو بارڈیلا کو پارٹی کا فطری صدارتی امیدوار سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً اس لیے کہ ان کی مقبولیت اپنی سرپرست لی پین سے بھی آگے نکل چکی ہے۔
اوڈوکسا نے سروے میں بارڈیلا کا تقابل بائیں بازو کے رہنما ژاں لوک میلانشوں، معتدل بائیں بازو کے رافائل گلوکسمان اور سابق وزرائے اعظم گیبریل اَتال و ایڈوارڈ فلیپ سے کیا۔ دوسرے مرحلے میں بارڈیلا میلانشوں کے خلاف 74 فیصد ووٹ کے ساتھ بھاری برتری حاصل کرتے نظر آئے، جب کہ فلیپ کے مقابلے میں انہیں 53 فیصد ووٹ ملنے کی پیشگوئی کی گئی۔ سروے کا ممکنہ خطائے نمونہ 2.5 فیصد تھا۔
اس سے قبل رواں ماہ کیے گئے ایک اور سروے میں بارڈیلا کو فلیپ کے خلاف معمولی فرق سے پچھڑتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ موجودہ صدر ایمانوئل میکرون کے سیاسی جانشینوں کی کمزور کارکردگی کا تعلق اس مقبولیت میں نمایاں کمی سے جوڑا جا رہا ہے، جو 2024 کے وسط میں عام انتخابات کے اچانک اعلان اور نتیجتاً غیر فعال پارلیمان کی تشکیل کے بعد سامنے آئی۔
![]()