
کیا واقعی اب عوام کو ایک بار پھر نیا خواب دکھایا جا رہا ہے؟ کیا ہم واقعی نہیں سمجھتے کہ سیاست، پارٹیاں اور انتخابات کس کے کنٹرول میں ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب برسوں سے ایک ہی اسٹیج پر چلنے والا پرانا کھیل ہے، بس کردار بدلتے رہتے ہیں، چہرے نئے آ جاتے ہیں، مگر اسکرپٹ ہمیشہ وہی رہتا ہے۔ عوام کے سامنے انصاف، تبدیلی اور قیادت کے نعرے بلند کیے جاتے ہیں، مگر اقتدار کا تاج ہمیشہ اُنہی کے سر پر سجتا ہے جنہوں نے اس نظام کو اپنی جیبوں میں قید کر رکھا ہے۔ یہ تماشہ برسوں سے جاری ہے، اور اب لگتا ہے کہ اس میں ایک نیا اداکار داخل ہو چکا ہے۔
اقرار الحسن نے جو باتیں حالیہ دنوں میں کیں، وہ سننے میں بلاشبہ بہت پرکشش لگتی ہیں۔ ایک ایسا نعرہ جو نوجوانوں کے دلوں میں امید جگا دے، ایک ایسا وعدہ جو تبدیلی کی خوشبو لے کر آئے۔ مگر افسوس کہ یہ قوم دہائیوں سے وعدوں کے انبار میں دفن ہے۔ جب بھی کوئی نیا چہرہ آتا ہے، اُس کے لبوں پر انقلاب کا نعرہ ہوتا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہی نعرہ اقتدار کی خاموش دیواروں میں گم ہو جاتا ہے۔ آج بھی یہی ہو رہا ہے ایک نیا خواب، ایک نیا چہرہ، اور شاید ایک نیا فریب۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اقرار الحسن آج کل اپنی ہر پوسٹ، ویڈیو یا بیان کا آغاز "اللہ کی قسم” سے کرتے ہیں۔ سمجھ نہیں آتا کہ وہ اپنی بات پر عوام کا اعتماد بحال کرنا چاہتے ہیں یا خود اپنے الفاظ پر یقین کھو چکے ہیں۔ کیونکہ جو شخص اپنی ہر گفتگو کے آغاز میں قسم کھائے، وہ دراصل یہ تاثر دیتا ہے کہ اُس کی بات کو یقین کے بغیر قبول نہیں کیا جائے گا۔ شاید انہیں لگتا ہے کہ عوام اب لفظوں پر نہیں بلکہ قسموں پر یقین کرتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ایک سچا انسان اپنی سچائی ثابت کرنے کے لیے بار بار اللہ کو گواہ کیوں بنائے؟ کیا سچ کے لیے الفاظ کمزور ہو گئے ہیں؟ یا پھر عوام کا اعتماد اتنا مجروح ہو چکا ہے کہ بغیر قسم کے کسی بات کو سچ ماننا ممکن نہیں رہا؟
سچ بولنے والا کبھی اپنی سچائی کی قسم نہیں کھاتا، کیونکہ اُس کا کردار خود اُس کی گواہی بن جاتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور اپنی قسموں کو آپس میں دھوکے کا ذریعہ نہ بناؤ۔” (سورۃ النحل: 94)
یہی وجہ ہے کہ جو شخص ہر بات میں قسم کھانے لگے، اُس کے الفاظ میں تاثیر باقی نہیں رہتی۔ اقرار الحسن کو یہ سمجھنا چاہیے کہ عوام اب صرف الفاظ نہیں سنتی، وہ کردار دیکھتی ہے۔ سچ کو کبھی قسم کی ضرورت نہیں ہوتی، وہ تو خود اپنی سب سے بڑی دلیل ہوتا ہے۔
ہم نے ہمیشہ دیکھا ہے کہ ہر نیا چہرہ "تبدیلی” کے نعرے سے آتا ہے، اور عوام ایک بار پھر امید کے سمندر میں کود جاتی ہے۔ مگر وقت کے ساتھ وہی چہرہ پرانے نظام کا حصہ بن جاتا ہے۔ پرانی چالیں، پرانے وعدے، اور وہی طاقت کے کھیل۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کے دلوں میں اب نہ یقین باقی رہا ہے، نہ اُمید۔ لوگ اب جان چکے ہیں کہ سیاست ایک کھیل ہے، اور اس کھیل میں عوام صرف مہرے ہیں، کھلاڑی نہیں۔
ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں حکومت عوام نہیں بناتی۔ الیکشن سے پہلے ہی سب کچھ طے کر لیا جاتا ہے، کون جیتے گا، کون ہارے گا، اور کس کے حصے میں کتنی وزارت آئے گی۔ ووٹ دینا بس ایک رسمی کارروائی بن چکا ہے، جیسے کسی رسمِ وفا کو نبھانا ہو۔ عوام کے جذبات سے کھیلا جاتا ہے، وعدوں کی گونج میں خواب بیچے جاتے ہیں، اور اقتدار کے ایوانوں میں عوام کے آنسوؤں سے چراغ جلائے جاتے ہیں۔
اب اقرار الحسن کے نام پر ایک نیا “پراجیکٹ” شروع ہو رہا ہے، ایک نیا چہرہ، ایک نیا نعرہ، اور ایک نئی امید۔ مگر افسوس، یہ سب بھی پرانے کھیل کی نئی قسط معلوم ہوتی ہے۔ عوام کو ایک بار پھر احساس دلایا جا رہا ہے کہ شاید اب تبدیلی ممکن ہے، مگر دراصل یہ سب ایک اور اسکرپٹ ہے جس کے مصنف وہی پرانے طاقتور لوگ ہیں جو پسِ پردہ بیٹھے رہتے ہیں اور عوام کو نئے ناموں میں مصروف رکھتے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ اقرار الحسن سچے ہیں یا جھوٹے، سوال یہ ہے کہ کیا یہ نظام کسی سچ کو زندہ رہنے دے گا؟ کیا طاقتور طبقہ ایک عام آدمی کو آگے آنے دے گا؟ کیا یہاں کسی کو سچ بولنے کی اجازت ملتی ہے؟ جواب سب کے سامنے ہے، یہاں طاقت سچ کو برداشت نہیں کرتی، بلکہ اُسے دبا دیتی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ جمہوریت صرف کتابوں اور تقریروں میں باقی رہ گئی ہے۔ پارٹیاں خاندانوں کی ملکیت بن چکی ہیں، اور الیکشن ایک تماشہ۔ عوام کا ووٹ صرف ایک عدد ہے، اس کی آواز کی کوئی اہمیت نہیں۔ جو چاہے کتنے بھی وعدے کر لے، فیصلہ پہلے ہی تحریر کیا جا چکا ہوتا ہے۔ یہی وہ تلخ حقیقت ہے جس سے ہم آنکھیں چرانے کے عادی ہو چکے ہیں۔
اقرار الحسن کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے “سرِ عام” جیسے سچے، بے خوف اور طاقتور پروگرام کو مزید مضبوط کرتے۔ وہاں وہ ایک عوامی آواز تھے، ظلم کے خلاف کھڑے ہونے والے ایک حقیقی نمائندہ۔ مگر اب وہ خود اس کھیل کا حصہ بنتے دکھائی دیتے ہیں۔ سیاست ایک ایسا میدان ہے جہاں سچ بولنے والے کو پہلے خاموش کیا جاتا ہے، اور پھر اُس کے نام سے نئے کھیل کھیلے جاتے ہیں۔
شاید نیت ان کی اچھی ہو، یہاں جو داخل ہوتا ہے، صاف نہیں رہتا۔ عوام اب تماشائی بن چکی ہے، جو بار بار نئے کردار دیکھتی ہے، تالیاں بجاتی ہے، اور پھر مایوسی کے اندھیرے میں واپس چلی جاتی ہے۔ ہر چند سال بعد ایک نیا نعرہ، ایک نیا لیڈر، ایک نیا وعدہ، مگر نتیجہ وہی پرانا۔
اب عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کب تک تماشائی بنے رہیں گے۔ ہر نئی تحریک، ہر نیا چہرہ، اور ہر نیا وعدہ صرف ایک نئے ڈرامے کا منظرنامہ ہو سکتا ہے۔ اصل انقلاب اُس دن آئے گا جب عوام کو یہ احساس ہو جائے گا کہ طاقت ان کے ووٹ میں نہیں، ان کے شعور میں ہے۔ اور جب شعور جاگ جائے، تو کوئی ڈرامہ، کوئی چہرہ، اور کوئی نظام اُس سچائی کو روک نہیں سکتا۔
شاید اُس دن ہمیں کسی نئے اقرار کی نہیں، بلکہ ایک سچے انقلاب کی ضرورت ہوگی، ایسا انقلاب جو “اللہ کی قسم” سے نہیں، بلکہ کردار، ایمان اور عمل سے جنم لے۔
![]()