
مصور قریشی

عالمی سیاست میں ایسے لمحات کم آتے ہیں جب کوئی ملک جنگ کے دہانے پر کھڑی دنیا کو امن کی راہ دکھانے میں کامیاب ہو جائے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان نے یہی کردار ادا کرتے ہوئے ایک بڑی سفارتی کامیابی حاصل کی ہے، جس کے نتیجے میں ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی ممکن ہوئی۔ عالمی میڈیا اس پیش رفت کو پاکستان کی ایک غیر معمولی سفارتی فتح قرار دے رہا ہے، جس نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو ایک بڑے تصادم سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
تازہ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید حملے روکنے کا اعلان کیا، جبکہ ایران نے بھی اس عارضی جنگ بندی کو قبول کرتے ہوئے عالمی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی راہ ہموار کی۔ یہ جنگ بندی پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں کے بعد ممکن ہوئی، جن میں وزیراعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت نے اہم کردار ادا کیا۔
اس پیش رفت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ جنگ بندی کے بعد اسلام آباد کو مزید مذاکرات کے لیے مرکزی مقام کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق 10 اپریل کو اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مزید بات چیت متوقع ہے، جسے مستقل امن کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
اس جنگ بندی کی ایک بڑی شرط آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا تھی، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے اس راستے کو عارضی طور پر کھولنے پر آمادگی ظاہر کی، جس سے عالمی منڈیوں میں مثبت ردعمل دیکھنے میں آیا اور تیل کی قیمتوں میں استحکام کی امید پیدا ہوئی۔
یاد رہے کہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے، اور اس کی بندش نے عالمی معیشت کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا تھا۔
جنگ بندی کی کوششوں کے دوران ایک اور اہم مسئلہ سعودی عرب کی صنعتی اور تیل تنصیبات پر حملوں کا بھی رہا۔ اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے سعودی صنعتی مراکز کو نشانہ بنانے کے واقعات نے مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنانے کا خدشہ پیدا کیا۔
یہ صورتحال پاکستان کے لیے بھی ایک امتحان تھی، کیونکہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ قریبی دفاعی اور سفارتی تعلقات موجود ہیں۔ ایسے نازک حالات میں پاکستان نے متوازن پالیسی اختیار کرتے ہوئے نہ صرف سعودی عرب کی حمایت کی بلکہ ایران کو بھی مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش جاری رکھی۔
پاکستان کی اس سفارتی کامیابی کو عالمی سطح پر مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔ مختلف عالمی رہنماؤں اور اداروں نے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور اسے خطے میں امن کے لیے ایک مثبت مثال قرار دیا۔ عالمی مبصرین کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو پاکستان کو مستقبل میں عالمی تنازعات کے حل میں ایک اہم ثالث کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
اسی دوران امریکہ کے اندر بھی اس جنگ اور اس کی حکمت عملی پر تنقید سامنے آئی، جہاں بعض سیاسی حلقوں نے جنگی فیصلوں اور تاخیر سے ہونے والی سفارت کاری پر سوالات اٹھائے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ اسلام آباد عالمی سفارت کاری کا مرکز بنا ہو، لیکن حالیہ پیش رفت نے اسے ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ اگر اسلام آباد مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ ممکن ہے کہ ایک مستقل امن معاہدے کی بنیاد رکھی جا سکے، جسے بعض حلقے غیر رسمی طور پر “اسلام آباد معاہدہ” قرار دے رہے ہیں۔
اس مجوزہ معاہدے کے تحت نہ صرف جنگ بندی کو مستقل شکل دینے کی کوشش کی جائے گی بلکہ خطے میں توانائی کی ترسیل، اقتصادی استحکام اور سلامتی کے معاملات بھی زیر بحث آئیں گے۔
پاکستان نے ماضی میں بھی کئی مواقع پر ثالثی کا کردار ادا کیا، لیکن موجودہ بحران میں اس کی کامیابی نے اس کے امن پسند تشخص کو مزید مضبوط کیا ہے۔ اگر یہ عمل کامیابی سے آگے بڑھتا ہے تو پاکستان نہ صرف ایک علاقائی طاقت بلکہ عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور بااثر ریاست کے طور پر ابھر سکتا ہے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ اگر یہ جنگ طول پکڑتی تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا اور عالمی معیشت کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا تھا۔ ایسے حالات میں پاکستان کی سفارتی کامیابی نے دنیا کو ایک ممکنہ تباہی سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی محض ایک عارضی وقفہ نہیں بلکہ ایک اہم موقع ہے جسے مستقل امن میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس پوری پیش رفت میں پاکستان کا کردار ایک ایسے امن کے پیامبر کا رہا ہے جس نے مشکل ترین حالات میں بھی سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا۔
اگر 10 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک تاریخی لمحہ ثابت ہو سکتا ہے .
![]()