پشاور (احتشام طورو) محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات خیبر پختونخوا کے زیرِ انتظام ڈیرہ اسماعیل خان وائلڈ لائف ڈویژن کی جانب سے چکور (Chakor Partridge) کی افزائشِ نسل کا ایک جامع، سائنسی اور دور اندیش پروگرام کامیابی کے ساتھ جاری ہے، جو نہ صرف جنگلی حیات کے تحفظ کی ایک روشن مثال بن کر ابھرا ہے بلکہ ماحولیاتی توازن کی بحالی کی جانب ایک مضبوط اور پائیدار قدم بھی ثابت ہو رہا ہے۔ یہ پروگرام محض ایک حیاتیاتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت کنزرویشن ماڈل ہے، جس کا مقصد قدرتی ماحول میں چکور کی دوبارہ آبادکاری، حیاتیاتی تنوع کا تحفظ، اور فطرت کے نازک توازن کو برقرار رکھنا ہے۔
چکور، جو پاکستان کے پہاڑی اور نیم پہاڑی علاقوں کی خوبصورتی اور ثقافتی ورثے کی علامت سمجھا جاتا ہے، حالیہ برسوں میں غیر قانونی شکار، قدرتی مساکن کی تباہی، موسمیاتی تبدیلیوں اور خوراک و پانی کی کمی جیسے عوامل کے باعث شدید دباؤ کا شکار رہا ہے۔ انہی چیلنجز کے پیشِ نظر محکمہ جنگلی حیات نے ایک مربوط اور سائنسی حکمتِ عملی کے تحت اس نایاب پرندے کی افزائشِ نسل کا آغاز کیا، تاکہ اس کی معدوم ہوتی نسل کو نہ صرف محفوظ بنایا جا سکے بلکہ اسے دوبارہ اس کے فطری ماحول میں بحال کیا جا سکے۔
اس سلسلے میں سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات، خیبر پختونخوا کی ہدایات پر 18 جولائی 2025 کو کراچی سے حاصل کیے گئے چکوروں کو منظم انداز میں صوبے کے مختلف وائلڈ لائف ڈویژنز میں تقسیم کیا گیا، جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان وائلڈ لائف ڈویژن میں 100 چکوروں کو خصوصی سائنسی نگرانی میں رکھا گیا۔ یہاں ان پرندوں کے لیے ایسا ماحول فراہم کیا گیا جو قدرتی مسکن سے ہم آہنگ ہو—جہاں متوازن خوراک، صاف پانی کی مسلسل فراہمی، ماہر ویٹرنری نگرانی، اور شکاری خطرات سے مکمل تحفظ یقینی بنایا گیا۔ ان تمام اقدامات کے نتیجے میں چکوروں نے نہایت جلد قدرتی انداز میں افزائشِ نسل کا عمل شروع کر دیا، جو اس پروگرام کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔
مزید برآں، افزائش کے عمل کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جدید لیبارٹری سہولیات، انکیوبیٹرز اور ہیچنگ سسٹمز بھی قائم کیے گئے، جہاں درجہ حرارت اور نمی کو خودکار انداز میں کنٹرول کر کے انڈوں کی بہتر نگہداشت ممکن بنائی گئی۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 7 اپریل 2026 تک 100 چکوروں سے 451 انڈے حاصل ہوئے، جن میں سے 85 صحت مند چوزے کامیابی کے ساتھ نکل چکے ہیں، جبکہ باقی انڈے انکیوبیٹر میں محفوظ ہیں اور مزید افزائش کی امید روشن ہے۔ یہ نتائج اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ پروگرام نہایت مؤثر انداز میں اپنی منزل کی جانب گامزن ہے۔
اس منصوبے کا حتمی ہدف محض افزائش تک محدود نہیں بلکہ ان پرندوں کی قدرتی ماحول میں باوقار واپسی ہے۔ اس مقصد کے لیے موزوں مساکن کی نشاندہی، ریلیز سے قبل قدرتی ماحول سے ہم آہنگی، اور بعد ازاں مسلسل مانیٹرنگ جیسے اقدامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی مقامی کمیونٹی کی شمولیت کو بھی اس پروگرام کا لازمی جزو بنایا گیا ہے، تاکہ عوام میں جنگلی حیات کے تحفظ کا شعور بیدار ہو اور مشترکہ ذمہ داری کا احساس فروغ پائے۔
یہ کامیاب اقدام اس حقیقت کا مظہر ہے کہ محکمہ جنگلی حیات خیبر پختونخوا جدید سائنسی اصولوں، مؤثر انتظام اور پیشہ ورانہ مہارت کے امتزاج سے نہ صرف نایاب انواع کے تحفظ کو یقینی بنا رہا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک متوازن، سرسبز اور پائیدار ماحول کی بنیاد بھی استوار کر رہا ہے۔ یہ پروگرام فطرت سے ہم آہنگ ترقی کے اس عزم کی عملی تصویر ہے، جس میں انسان اور ماحول ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے