پشاور(ایم منیر) خیبر پختونخوا میں انسدادِ پولیو مہم 2026 کے دوسرے مرحلے کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا، جس کے تحت صوبہ بھر میں پانچ سال سے کم عمر تقریباً 65 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔ صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان اور چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے مختلف تقریبات میں بچوں کو قطرے پلا کر مہم کا افتتاح کیا اور پولیو کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔
بدھ کے روز شروع ہونے والی اس مہم کے لیے حکام کے مطابق 35 ہزار 500 سے زائد پولیو ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو گھر گھر جا کر بچوں کو ویکسین فراہم کریں گی۔ اس کے ساتھ ہی 50 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں تاکہ ٹیمیں محفوظ ماحول میں اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے سکیں۔
صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان نے کہا کہ حکومت کی مؤثر حکمت عملی اور عوامی تعاون کے باعث رواں سال اب تک صوبے میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، جو ایک مثبت پیشرفت ہے۔ انہوں نے والدین، اساتذہ اور علما کرام سے اپیل کی کہ وہ اس قومی مہم میں بھرپور تعاون کریں تاکہ ہر بچے تک رسائی ممکن بنائی جا سکے۔
دوسری جانب پولیس سروسز ہسپتال پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے روٹین امیونائزیشن نظام کو مضبوط بنانا کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے 2027 تک 90 فیصد آبادی کو حفاظتی ٹیکوں کی سہولت فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس سے نہ صرف پولیو بلکہ دیگر مہلک بیماریوں پر بھی قابو پایا جا سکے گا۔
چیف سیکرٹری نے اعتراف کیا کہ جنوبی اور ضم شدہ اضلاع میں اب بھی بعض چیلنجز موجود ہیں، تاہم بہتر سیکیورٹی انتظامات اور مقامی کمیونٹی کی بڑھتی ہوئی شمولیت کے باعث صورتحال میں بہتری آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین سے انکار کے رجحان کو ختم کرنے کے لیے مسلسل آگاہی مہم ناگزیر ہے۔
میڈیا کے سوالات کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ پشاور سمیت ان اضلاع میں جہاں پہلے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا تھا، اب صورتحال بہتر ہو چکی ہے اور حالیہ نمونوں میں پشاور سے وائرس کی موجودگی رپورٹ نہیں ہوئی۔
بعد ازاں چیف سیکرٹری نے انسدادِ پولیو ٹاسک فورس کے اجلاس کی صدارت بھی کی، جس میں بین الاقوامی شراکت داروں، محکمہ صحت کے حکام، کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور ایمرجنسی آپریشنز سنٹر کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اپریل مہم کے دوران لاکھوں بچوں کو ویکسین دی جائے گی اور اس کے لیے تمام تر انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
ماہرین صحت کے مطابق پولیو ایک خطرناک اور لاعلاج بیماری ہے جو بچوں کو مستقل معذوری کا شکار بنا سکتی ہے، تاہم بروقت ویکسینیشن کے ذریعے اس کا مکمل سدباب ممکن ہے۔ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو کے خاتمے کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں، اور خیبر پختونخوا اس جدوجہد میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
اختتام پر حکام نے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومتی اقدامات، سیکیورٹی، اور عوامی تعاون کے ذریعے صوبہ جلد پولیو فری حیثیت حاصل کر لے گا اور یہ کامیابی ملک بھر کے لیے ایک مثال بنے گی۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے