دبئی : سعدیہ عباسی

دوبئی میں “میڈیا فورم” کے تحت یو اے ای میں مقیم پاکستانی صحافیوں کے زوم پر ایک اہم مباحثے نے ایک نہایت سنجیدہ سوال کو پھر نمایاں کر دیا ہے: کیا یو اے ای کے بارے میں پاکستان میں میڈیا کے بعض حلقوں میں جاری منفی، جذباتی اور سنسنی خیز تجزیے محض ایک رائے ہیں، یا وہ درحقیقت یہاں مقیم بیس لاکھ پاکستانیوں کے مفادات، اعتماد، روزگار اور مستقبل کو متاثر کرنے والی ایک غیر ذمہ دارانہ روش یا سازش بنتے جا رہے ہیں؟

حالیہ دنوں پاکستان میں سوشل میڈیا اور بعض پلیٹ فارمز پر خطے میں کشیدگی اور جنگی ماحول کے تناظر میں غیر سنجیدہ طرزِ اظہار دیکھنے میں آیا۔ خاص طور پر متحدہ عرب امارات کے بارے میں ایسا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی جیسے یہاں نظام کمزور پڑ چکا ہو، معیشت آخری سانسیں لے رہی ہو، یا معمولاتِ زندگی شدید بحران کا شکار ہوں۔ یو اے ای میں مقیم پاکستانی سینئر صحافیوں کی جانب سے منعقدہ مباحثے میں شریک یو اے ای میں مقیم سینئر پاکستانی صحافیوں نے واضح کیا کہ اس نوعیت کا بیانیہ نہ زمینی حقائق سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ ہی اسے صحافتی ذمہ داری کے دائرے میں درست قرار دیا جا سکتا ہے۔

اس مباحثے میں صدر پی جے ایف طاہر منیر طاہر، صدر پی ایف یو جے یو اے ای خالد ملک، جنرل سیکرٹری پی ایف یو جے یو اے ای اور نمائندہ بول نیوز انصر اکرم، سینئر نائب صدر پی جے ایف اور نمائندہ نیو نیوز سعدیہ عباسی، جبکہ نمائندہ دنیا نیوز اور سینئر صحافتی شخصیت سید مدثر خوشنود نے شرکت کی۔ گفتگو میں مختلف زاویے سامنے آئے، مگر مجموعی اتفاق یہی تھا کہ یو اے ای کے بارے میں غیر متوازن تجزیہ صرف میڈیا کی لغزش نہیں بلکہ ایک ایسا رویہ ہے جس کے اثرات براہِ راست اوورسیز، بالخصوص یو اے ای میں مقیم پاکستانی کمیونٹی تک پہنچتے ہیں۔

سعدیہ عباسی نے گفتگو میں اس پہلو کو نمایاں کیا کہ بین الدولتی تعلقات اور مالی معاملات کو جذباتی نعروں کے بجائے سنجیدہ، باوقار اور ذمہ دارانہ تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یو اے ای پاکستان سے اپنے دیے گئے مالی وسائل، قرض یا تعاون کی واپسی یا اس سے متعلق وضاحت کا تقاضا کرتا ہے تو اسے منفی رنگ دینا درست نہیں۔ ان کے مطابق جس ملک نے مشکل وقت میں تعاون کیا ہو، اس کے مالی تقاضوں کو دباؤ یا ناراضی کی کہانی بنا دینا صحافتی توازن کے خلاف ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایسے معاملات کو حقیقت پسندی، سفارتی سنجیدگی اور باہمی احترام کے ساتھ دیکھا جانا چاہیے۔

انصر اکرم نے اس بحث میں الفاظ کی ذمہ داری کو مرکزی نکتہ قرار دیا۔ ان کے مطابق اگر بار بار یہ تاثر دیا جائے کہ یو اے ای میں نظام کمزور پڑ گیا ہے، معیشت بیٹھ گئی ہے، یا روزمرہ زندگی بحران میں ہے، تو اس کا براہِ راست اثر یہاں مقیم پاکستانیوں کے ذہنی سکون، سماجی اعتماد اور معاشی تحفظ پر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافت میں تجزیہ ضرور ہونا چاہیے، مگر ایسا تجزیہ جو معلوماتی، متوازن اور اوورسیز پاکستانیوں کے مفاد کے مطابق ہو۔

خالد ملک نے زور دیا کہ یو اے ای کے بارے میں ہر رائے کو زمینی حقائق کے تناظر میں دیکھنا ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق بنیادی خدمات، کاروباری سرگرمیاں، صحت، ٹرانسپورٹ، مارکیٹیں، ہوائی اڈے اور روزمرہ نظام پوری فعالیت کے ساتھ چل رہے ہیں، اس لیے محدود دباؤ کو مکمل انہدام یا ریاستی ناکامی کا رنگ دینا درست نہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اگر میڈیا غیر متوازن تاثر بنائے گا تو اس کے اثرات صرف کمیونٹی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پاکستان کے معاشی اور سفارتی مفادات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

طاہر منیر طاہر نے اس بحث کو وسیع تر قومی تناظر میں رکھا۔ ان کے مطابق یو اے ای صرف ایک میزبان ملک نہیں بلکہ پاکستان کے لیے ایک اہم معاشی، انسانی اور اسٹریٹجک شراکت دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں بیس لاکھ کے قریب پاکستانی خدمات انجام دے رہے ہیں، اپنے خاندانوں کی کفالت کر رہے ہیں، اور پاکستان کی معیشت میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان میں بیٹھ کر یو اے ای کے بارے میں سنسنی آمیز یا غیر ذمہ دارانہ بیانیہ اپنانا دراصل اپنے ہی لوگوں کے مفادات کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

اس مباحثے میں سید مدثر خوشنود نے گفتگو کو محض ردِعمل سے نکال کر ایک اصولی صحافتی اور قومی مؤقف میں ڈھال دیا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ یو اے ای کے بارے میں منفی تجزیہ محض ایک رائے نہیں رہتا بلکہ وہ براہِ راست یہاں مقیم بیس لاکھ پاکستانیوں کے مستقبل، اعتماد، روزگار اور سماجی وقار سے جا جڑتا ہے۔ ان کے مطابق جو لوگ یو اے ای پر سنسنی بیچ رہے ہیں، وہ درحقیقت یہ بھول رہے ہیں کہ ان کے الفاظ سب سے پہلے اوورسیز پاکستانیوں کی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

سید مدثر خوشنود نے کہا کہ وہ پچیس برس سے یو اے ای میں مقیم ہیں اور اس ملک نے ہر مرحلے پر اپنائیت، وقار اور محبت کے ساتھ پاکستانی کمیونٹی کو جگہ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سرزمین اور اس کی قیادت کے لیے جتنا بھی خیرسگالی کا اظہار کیا جائے، کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافت کا کام خوف پیدا کرنا نہیں بلکہ حقیقت کو ذمہ داری کے ساتھ بیان کرنا ہے۔ ان کے مطابق یو اے ای نے موجودہ حالات میں جس ادارہ جاتی پختگی، نظم، تحمل اور استحکام کا مظاہرہ کیا ہے، اسے نظر انداز کر کے صرف منفی زاویہ اجاگر کرنا صحافتی دیانت کے خلاف ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ بجلی، پانی، صحت، ٹرانسپورٹ، تجارتی مراکز، ایئرپورٹس، سیاحتی سرگرمیاں اور شہری زندگی کا عمومی بہاؤ معمول کے مطابق جاری ہے، اس لیے یہ کہنا کہ یو اے ای کا نظام بیٹھ گیا یا معیشت آخری سانسیں لے رہی ہے، زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ سید مدثر خوشنود نے مزید کہا کہ اگر پاکستانی میڈیا یو اے ای جیسے اہم ملک کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرتا ہے تو اس سے صرف میڈیا کی ساکھ متاثر نہیں ہوتی بلکہ پاکستان کے اپنے معاشی اور سفارتی مفادات بھی کمزور پڑ سکتے ہیں۔

ان کے مطابق یو اے ای کے ساتھ تعلقات کو محض فوری جذباتی ردِعمل کی عینک سے نہیں بلکہ ایک بڑے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ تعلقات روزگار، ترسیلاتِ زر، کمیونٹی اعتماد، ریاستی وقار اور خطے کے استحکام سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ اہم نکتہ بھی اٹھایا کہ بیرونی یا سنسنی خیز میڈیا بیانیوں کی اندھی نقل پاکستانی میڈیا کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ ان کے مطابق سوال اٹھانا صحافت کا حق ہے، مگر سوال اور سنسنی میں واضح فرق ہوتا ہے۔ سوال روشنی ڈالتا ہے، جبکہ سنسنی دھند پیدا کرتی ہے۔

مباحثے کے اختتام پر شرکاء کی جانب سے اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ یو اے ای نے موجودہ حالات میں اپنے دفاعی اور انتظامی نظام کے ذریعے جس مستعدی، نظم اور اعتماد کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ شرکاء کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق یو اے ای کی قیادت نے ہمیشہ دانش، استحکام اور عوامی فلاح کو مقدم رکھا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ مشکل حالات میں بھی ریاستی اعتماد برقرار رہا۔ فورم کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یو اے ای کی رونقیں بحال ہیں، شہری زندگی متوازن ہے، اور ریاستی نظم و ضبط اس ملک کی مضبوطی کی واضح علامت ہے
اس میڈیا مباحثے سے مجموعی طور پر یہی نتیجہ سامنے آیا کہ یو اے ای کے بارے میں غیر متوازن، جذباتی اور منفی تجزیہ نہ صرف صحافتی معیار کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ پاکستانی کمیونٹی کے لیے بھی غیر مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ تمام شرکاء نے اپنے اپنے انداز میں اس بات پر اتفاق کیا کہ اختلافِ رائے اور تجزیہ اپنی جگہ، مگر یو اے ای جیسے اہم ملک کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ بیانیہ کسی طور درست نہیں۔

اس مباحثے میں طاہر منیر طاہر، خالد ملک، سعدیہ عباسی، انصر اکرم اور سید مدثر خوشنود نے اس پوری گفتگو کو ایک بڑے قومی، کمیونٹی اور صحافتی تناظر میں سمیٹ دیا۔ ان کا بنیادی مؤقف یہی تھا کہ یو اے ای پر سنسنی خیز تجزیہ دراصل پاکستانی مفاد پر وار ہے، اور یہی وہ نکتہ ہے جسے پاکستانی میڈیا کو اب سنجیدگی سے سمجھنا ہوگا۔

آخر میں بات صرف اتنی ہے کہ اس وقت خطے کو شور نہیں، شعور کی ضرورت ہے؛ خوف نہیں، فہم کی ضرورت ہے؛ اور منفی پروپیگنڈا نہیں، ذمہ دارانہ صحافت کی ضرورت ہے۔ یو اے ای محفوظ رہے، پاکستان محفوظ رہے، اور اوورسیز پاکستانی عزت، اعتماد اور استحکام کے ساتھ اپنی زندگیاں آگے بڑھاتے رہیں۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے