
پشاور(فیاض شاداب) خیبر پختونخوا پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے پٹرول پر ڈیلر مارجن 6 فیصد سے بڑھا کر 8 فیصد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو صوبے بھر میں پٹرول پمپس بند کر کے پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی۔ تنظیم کے مطابق موجودہ معاشی حالات میں کاروبار جاری رکھنا مشکل ہو چکا ہے۔
ایسوسی ایشن کے صدر گل نواز آفریدی نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بجلی و عملے کے اخراجات اور بینکنگ چارجز کے باعث ڈیلرز کا عملی منافع کم ہو کر تقریباً 1.5 فیصد رہ گیا ہے، جو کاروبار کو چلانے کے لیے ناکافی ہے۔ ان کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے سبب ڈیلرز کو کمپنیوں کو پیشگی ادائیگیاں کرنا پڑتی ہیں، جس سے مالی دباؤ میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹیکسوں کی ادائیگی کے باوجود بعض سرکاری اہلکار، جن میں پولیس اور ریونیو عملہ شامل ہے، ڈیلرز کو ہراساں کرتے ہیں اور غیر قانونی مطالبات کرتے ہیں۔ گل نواز آفریدی کے مطابق یہ صورتحال کاروباری ماحول کو مزید غیر یقینی بناتی ہے۔
ایسوسی ایشن نے غیر قانونی ’ڈبہ پمپس‘ کے خلاف بھی سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ غیر رجسٹرڈ پمپس کھلے عام پٹرول فروخت کر رہے ہیں جس سے نہ صرف قانونی کاروبار متاثر ہو رہا ہے بلکہ معیار اور حفاظت کے مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ متعلقہ ادارے مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام ہیں۔
تنظیم کے عہدیداران کے مطابق صوبائی سطح پر حتمی لائحہ عمل مرکزی قیادت کے فیصلے سے مشروط ہے۔ اگر مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا کے ڈیلرز ملک گیر ہڑتال میں بھرپور شرکت کریں گے، جس سے ٹرانسپورٹ، اشیائے ضروریہ کی ترسیل اور عوامی زندگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
پس منظر کے طور پر یاد رہے کہ ماضی میں بھی پٹرولیم ڈیلرز مارجن میں اضافے کے لیے احتجاج اور ہڑتالوں کا سہارا لیتے رہے ہیں، جبکہ حکومت وقتاً فوقتاً مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالتی رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق پٹرولیم سپلائی چین میں ڈیلرز کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے اور ان کے مسائل حل نہ ہونے کی صورت میں ایندھن کی دستیابی متاثر ہو سکتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین بین الاقوامی مارکیٹ اور مقامی ٹیکسوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، جبکہ ڈیلرز کا مارجن اس مجموعی قیمت کا محدود حصہ ہوتا ہے۔ اس تناظر میں ڈیلرز کا مؤقف ہے کہ بڑھتے ہوئے آپریشنل اخراجات کے پیش نظر مارجن میں نظرثانی ناگزیر ہو چکی ہے۔
آخر میں مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اور ڈیلرز کے درمیان بروقت مذاکرات نہ ہوئے تو ممکنہ ہڑتال سے نہ صرف عوام کو مشکلات کا سامنا ہوگا بلکہ معیشت کے مختلف شعبے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں مرکزی قیادت کے فیصلے اور حکومتی ردعمل سے صورتحال کا رخ متعین ہوگا۔
![]()