
پشاور: جماعت اسلامی پاکستان کے صوبائی قائدین نے جامعہ پشاور کے ملازمین کو درپیش مالی مشکلات پر فوری توجہ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جاری ہڑتال سے تعلیمی نظام بری طرح متاثر ہو سکتا ہے اور طلبہ کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق جماعت اسلامی خیبرپختونخوا وسطی کے امیر عبدالواسع اور سابق رکن قومی اسمبلی و صوبائی جنرل سیکرٹری صابر حسین اعوان نے مشترکہ بیان میں کہا کہ جامعہ پشاور کے ملازمین طویل عرصے سے تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں، جس کے نتیجے میں وہ احتجاج پر مجبور ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق منگل کے روز یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے ملازمین کی بڑی تعداد وائس چانسلر آفس کے باہر جمع ہوئی، جہاں انہوں نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ کئی ماہ سے تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی نے ان کے گھریلو نظام کو متاثر کیا ہے اور وہ شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ احتجاج کے دوران ملازمین نے یونیورسٹی کے داخلی راستے بند کرنے کا اعلان بھی کیا، جس سے تعلیمی اور انتظامی سرگرمیوں میں خلل پڑنے کا خدشہ ہے۔
جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے اپنے بیان میں صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جامعہ پشاور کے مالی معاملات میں مسلسل غفلت برتی جا رہی ہے، جس سے ملازمین میں بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال نے ملازمین کو ہڑتال جیسے سخت اقدام پر مجبور کیا، جو کسی بھی تعلیمی ادارے کے لیے نقصان دہ ہے۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے واضح کیا کہ یہ احتجاج صرف تنخواہوں کے حصول تک محدود نہیں بلکہ ملازمین کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ باہمی احترام کے دائرے میں رہتے ہوئے مسئلے کا حل چاہتے ہیں، تاہم اگر مطالبات پورے نہ کیے گئے تو وہ تدریسی و انتظامی امور کی انجام دہی سے دستبردار ہونے پر مجبور ہوں گے۔
پس منظر کے طور پر دیکھا جائے تو پاکستان میں سرکاری جامعات کو مالی خسارے، فنڈز کی کمی اور حکومتی گرانٹس میں تاخیر جیسے مسائل کا سامنا رہا ہے۔ ماہرین تعلیم کے مطابق ایسے حالات نہ صرف ملازمین بلکہ طلبہ کی تعلیمی کارکردگی اور اداروں کی ساکھ پر بھی منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق جامعہ پشاور صوبے کی قدیم اور بڑی جامعات میں شمار ہوتی ہے، جہاں ہزاروں طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ اس تناظر میں جاری احتجاج اور ممکنہ تعلیمی تعطل طلبہ کے قیمتی وقت کے ضیاع کا سبب بن سکتا ہے، جس کے اثرات امتحانات اور تعلیمی شیڈول پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
جماعت اسلامی کے قائدین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی یقینی بنائی جائے اور مستقبل میں اس طرح کے بحران سے بچنے کے لیے ایک پائیدار مالیاتی نظام وضع کیا جائے۔ ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ دیگر تعلیمی اداروں تک بھی پھیل سکتا ہے۔
اختتامیہ طور پر کہا جا سکتا ہے کہ جامعہ پشاور کا موجودہ بحران صرف ایک ادارے کا مسئلہ نہیں بلکہ صوبے کے تعلیمی نظام کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ہے، جس کے حل کے لیے فوری، مؤثر اور دیرپا اقدامات ناگزیر ہیں۔
جامعہ پشاور میں تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی پر احتجاج، تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہپشاور: جماعت اسلامی پاکستان کے صوبائی قائدین نے جامعہ پشاور کے ملازمین کو درپیش مالی مشکلات پر فوری توجہ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جاری ہڑتال سے تعلیمی نظام بری طرح متاثر ہو سکتا ہے اور طلبہ کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔پریس ریلیز کے مطابق جماعت اسلامی خیبرپختونخوا وسطی کے امیر عبدالواسع اور سابق رکن قومی اسمبلی و صوبائی جنرل سیکرٹری صابر حسین اعوان نے مشترکہ بیان میں کہا کہ جامعہ پشاور کے ملازمین طویل عرصے سے تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں، جس کے نتیجے میں وہ احتجاج پر مجبور ہوئے۔رپورٹس کے مطابق منگل کے روز یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے ملازمین کی بڑی تعداد وائس چانسلر آفس کے باہر جمع ہوئی، جہاں انہوں نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ کئی ماہ سے تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی نے ان کے گھریلو نظام کو متاثر کیا ہے اور وہ شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ احتجاج کے دوران ملازمین نے یونیورسٹی کے داخلی راستے بند کرنے کا اعلان بھی کیا، جس سے تعلیمی اور انتظامی سرگرمیوں میں خلل پڑنے کا خدشہ ہے۔جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے اپنے بیان میں صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جامعہ پشاور کے مالی معاملات میں مسلسل غفلت برتی جا رہی ہے، جس سے ملازمین میں بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال نے ملازمین کو ہڑتال جیسے سخت اقدام پر مجبور کیا، جو کسی بھی تعلیمی ادارے کے لیے نقصان دہ ہے۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے واضح کیا کہ یہ احتجاج صرف تنخواہوں کے حصول تک محدود نہیں بلکہ ملازمین کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ باہمی احترام کے دائرے میں رہتے ہوئے مسئلے کا حل چاہتے ہیں، تاہم اگر مطالبات پورے نہ کیے گئے تو وہ تدریسی و انتظامی امور کی انجام دہی سے دستبردار ہونے پر مجبور ہوں گے۔پس منظر کے طور پر دیکھا جائے تو پاکستان میں سرکاری جامعات کو مالی خسارے، فنڈز کی کمی اور حکومتی گرانٹس میں تاخیر جیسے مسائل کا سامنا رہا ہے۔ ماہرین تعلیم کے مطابق ایسے حالات نہ صرف ملازمین بلکہ طلبہ کی تعلیمی کارکردگی اور اداروں کی ساکھ پر بھی منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق جامعہ پشاور صوبے کی قدیم اور بڑی جامعات میں شمار ہوتی ہے، جہاں ہزاروں طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ اس تناظر میں جاری احتجاج اور ممکنہ تعلیمی تعطل طلبہ کے قیمتی وقت کے ضیاع کا سبب بن سکتا ہے، جس کے اثرات امتحانات اور تعلیمی شیڈول پر بھی پڑ سکتے ہیں۔جماعت اسلامی کے قائدین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی یقینی بنائی جائے اور مستقبل میں اس طرح کے بحران سے بچنے کے لیے ایک پائیدار مالیاتی نظام وضع کیا جائے۔ ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ دیگر تعلیمی اداروں تک بھی پھیل سکتا ہے۔اختتامیہ طور پر کہا جا سکتا ہے کہ جامعہ پشاور کا موجودہ بحران صرف ایک ادارے کا مسئلہ نہیں بلکہ صوبے کے تعلیمی نظام کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ہے، جس کے حل کے لیے فوری، مؤثر اور دیرپا اقدامات ناگزیر ہیں۔
![]()