انتخابی عملہ اور ووٹنگ بوتھ، خیبر پختونخوا سینیٹ ضمنی انتخابات.


پشاور(احتشام طورو) خیبر پختونخوا میں سینیٹ کی خالی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے لیے اپوزیشن جماعتوں نے مشترکہ امیدوار لانے پر اصولی اتفاق کر لیا ہے۔ حتمی اعلان آئندہ دو روز میں پارلیمانی پارٹیوں سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کا ایک اہم اجلاس پشاور میں واقع مفتی محمود مرکز میں منعقد ہوا، جس کی صدارت جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے صوبائی امیر اور سینیٹر مولانا عطاء الرحمن نے کی۔ اجلاس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے اہم رہنماؤں نے شرکت کی، جن میں جے یو آئی، پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹرینز کے نمائندے شامل تھے۔
اجلاس میں سینیٹ کے ضمنی انتخابات کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی گئی۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کے درمیان موجود ہم آہنگی کو برقرار رکھتے ہوئے ایک متفقہ امیدوار سامنے لایا جائے تاکہ انتخابی عمل میں بہتر حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔
اجلاس کے بعد غیر رسمی گفتگو میں بعض رہنماؤں نے بتایا کہ مشترکہ امیدوار لانے کا مقصد اپوزیشن ووٹ کو تقسیم ہونے سے بچانا اور انتخابی عمل میں مؤثر کردار ادا کرنا ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں ووٹ تقسیم ہونے کے باعث اپوزیشن کو نقصان اٹھانا پڑا، جس سے سبق سیکھتے ہوئے اس بار مشترکہ لائحہ عمل اپنایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں شریک رہنماؤں، جن میں مختلف جماعتوں کے سینیٹرز اور صوبائی اسمبلی کے اراکین شامل تھے، نے اس بات پر اتفاق کیا کہ حتمی فیصلے سے قبل اپنی اپنی پارلیمانی پارٹیوں سے باضابطہ مشاورت کی جائے گی۔ اس کے بعد صوبائی قیادت مشترکہ طور پر امیدوار کے نام کا اعلان کرے گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق سینیٹ کے ضمنی انتخابات میں مشترکہ امیدوار لانے کا فیصلہ صوبائی سیاست میں ایک اہم پیش رفت ہے، جو نہ صرف اپوزیشن کے اتحاد کو مضبوط کر سکتا ہے بلکہ انتخابی نتائج پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ خیبر پختونخوا کی سیاسی تاریخ میں اس نوعیت کے اتحاد وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں، خاص طور پر جب ایوان بالا کی نشستوں کے لیے مقابلہ سخت ہو۔
اعداد و شمار کے مطابق سینیٹ کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے اراکین کی ووٹنگ کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اور معمولی عددی برتری بھی نتیجہ تبدیل کر سکتی ہے۔ اس لیے سیاسی جماعتیں اتحاد اور حکمت عملی کو خصوصی اہمیت دیتی ہیں۔
مستقبل کے حوالے سے دیکھا جائے تو اگر اپوزیشن جماعتیں اپنے اتحاد کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہتی ہیں تو یہ نہ صرف سینیٹ کے ضمنی انتخاب بلکہ آئندہ سیاسی معاملات میں بھی ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم حتمی صورتحال امیدوار کے اعلان اور حکومتی اتحاد کے ردعمل کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے