ٹانک(گوہر ترین) انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کی ہدایات پر عملدرآمد کرتے ہوئے ریجنل پولیس آفیسر ڈیرہ اسماعیل خان غلام مبشر میکن اور ریجنل پولیس آفیسر سرگودھا ڈاکٹر شہزاد آصف نے صوبہ خیبرپختونخوا اور پنجاب کی سرحد پر واقع سی پیک موٹروے ایم-14 کا مشترکہ دورہ کیا، جس کا مقصد بین الصوبائی سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ اور باہمی رابطہ کاری کو مزید مؤثر بنانا تھا۔
دورے کے دوران اعلیٰ پولیس حکام نے موٹروے کے مختلف سیکیورٹی پوائنٹس کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس موقع پر ڈی پی او ڈیرہ ضیاء الدین احمد، ڈی پی او میانوالی وقار عظیم، ڈی پی او لکی مروت نذیر خان، ایس پیز موٹر وے عتیق خان، سی ٹی ڈی ڈیرہ ریجن ون افتخار علی شاہ اور ایس پی پہاڑپور اقبال خان سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ افسران نے سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی، رسپانس میکانزم اور حفاظتی اقدامات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔
حکام کے مطابق سی پیک موٹروے ایم-14 نہ صرف بین الصوبائی آمدورفت کے لیے اہم شاہراہ ہے بلکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تناظر میں اس کی اسٹریٹجک اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے۔ آر پی اوز نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے اور اس کی حفاظت قومی ذمہ داری ہے، جس میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
دونوں ریجنل پولیس افسران نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سی پیک روٹ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں دہشت گردی اور جرائم کے تدارک کے لیے انٹیلیجنس بیسڈ مشترکہ آپریشنز کو مزید تیز کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا اور پنجاب پولیس کے درمیان مربوط کوآرڈینیشن، معلومات کے تبادلے اور مشترکہ حکمت عملی سے خطے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔
دورے کے دوران پولیس جوانوں سے بھی ملاقات کی گئی اور ان کی رہائش، میس اور دیگر سہولیات کا جائزہ لیا گیا۔ آر پی اوز نے جوانوں کو درپیش مسائل کے فوری حل کے احکامات جاری کیے اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور خدمات کو سراہا۔ عینی شاہدین اور موقع پر موجود اہلکاروں کے مطابق سیکیورٹی انتظامات کو مزید بہتر بنانے کے لیے فوری ہدایات دی گئیں۔
پس منظر کے طور پر، سی پیک منصوبہ پاکستان اور چین کے درمیان ایک بڑا اقتصادی منصوبہ ہے جس کے تحت سڑکوں، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے متعدد منصوبے مکمل کیے جا رہے ہیں۔ ماضی میں بھی سی پیک روٹس پر سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر خصوصی اقدامات کیے جاتے رہے ہیں تاکہ سرمایہ کاری اور تجارتی سرگرمیوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق بین الصوبائی سطح پر پولیس کا اس نوعیت کا مشترکہ تعاون نہ صرف جرائم کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوتا ہے بلکہ عوام کے اعتماد میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ اس کے اثرات مقامی معیشت، تجارت اور سفری سہولیات پر بھی مثبت انداز میں مرتب ہوتے ہیں۔
آخر میں، پولیس حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سی پیک موٹروے کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، جبکہ مستقبل میں بھی اس طرح کے مشترکہ دوروں اور آپریشنز کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے