
اکیس گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد اگرچہ کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہیں آ سکا، مگر یہ کہنا بالکل غلط نہ ہوگا کہ تاریخ نے ایک اہم موڑ ضرور لیا ہے۔
تین مختلف مراحل، بالواسطہ رابطہ، براہِ راست گفتگو اور تکنیکی سطح کی تفصیلی مشاورت، نے نہ صرف ایک پیچیدہ سفارتی عمل کو جنم دیا بلکہ 47 برس کی جمود زدہ خاموشی کو بھی توڑ ڈالا۔ یہ پیش رفت اس حقیقت کی عکاس ہے کہ عالمی سیاست میں بند دروازے ہمیشہ کے لیے بند نہیں رہتے۔
یہ محض رسمی مذاکرات نہیں تھے بلکہ اعتماد سازی کے ایک نئے باب کا آغاز تھے، جس میں دونوں فریقوں نے پہلی بار ایک دوسرے کو قریب سے سمجھنے کی سنجیدہ کوشش کی۔ ایک ہی میز پر بیٹھنا، ایک ساتھ کھانا کھانا اور غیر رسمی ماحول میں گفتگو کرنا ایسے عوامل ہیں جو سفارتی تعلقات میں برف پگھلانے کا ذریعہ بنتے ہیں اور دلوں کے فاصلے کم کرتے ہیں۔
اگرچہ ایٹمی پروگرام، آبنائے ہرمز کی سلامتی اور لبنان میں اثر و رسوخ جیسے حساس اور پیچیدہ معاملات پر اختلافات برقرار رہے، لیکن ان اختلافات کا کھل کر سامنے آنا بذاتِ خود ایک مثبت قدم ہے۔ کیونکہ جب مسائل کی نوعیت واضح ہو جائے تو ان کے حل کے لیے حکمت عملی تیار کرنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے اور غلط فہمیوں کی گنجائش کم رہ جاتی ہے۔
مذاکرات کے بعد وینس کا یہ بیان کہ "جو بھی کمی رہی، وہ پاکستانیوں کی وجہ سے نہیں” ایک عام جملہ نہیں بلکہ سفارتی دنیا میں ایک غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ الفاظ دراصل پاکستان کے کردار کی تعریف ہی نہیں بلکہ اس کی غیر جانبداری اور مؤثر ثالثی پر مکمل اعتماد کا اظہار بھی ہیں۔
یہ جملہ پاکستان کے لیے ایک اعزاز سے کم نہیں، کیونکہ سفارتی زبان میں اس طرح کے الفاظ کسی ملک کو غیر رسمی طور پر ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر تسلیم کرنے کے مترادف ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان نے نہایت مہارت، دیانت اور توازن کے ساتھ اپنا کردار ادا کیا ہے۔
یہ امکان بھی زور پکڑ رہا ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور دوبارہ اسلام آباد میں منعقد ہو سکتا ہے، جو پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کا واضح ثبوت ہوگا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان نہ صرف ایک میزبان بلکہ ایک کلیدی ثالث کے طور پر عالمی منظرنامے میں مزید نمایاں ہو جائے گا۔
معاہدہ نہ ہونا یقیناً ایک تشویش ناک پہلو ہو سکتا ہے، مگر اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ مذاکرات کے دروازے بند نہیں ہوئے۔ "ابھی تک” اور "وقفہ” جیسے الفاظ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں فریق مکمل طور پر مایوس نہیں ہوئے بلکہ وہ اب بھی بات چیت کے ذریعے حل تلاش کرنا چاہتے ہیں۔
ایران کا یہ کہنا کہ بات چیت جاری رہے گی، ایک مضبوط اور مثبت پیغام ہے جو مستقبل میں مزید پیش رفت کی امید کو زندہ رکھتا ہے۔ اسی طرح دوسری جانب سے "اختتام” کی بجائے "ابھی تک” کا استعمال یہ ظاہر کرتا ہے کہ معاملات ابھی ختم نہیں ہوئے بلکہ ایک نازک موڑ پر کھڑے ہیں۔
یہ وہ حساس لمحہ ہے جہاں سفارتکاری اپنی اصل طاقت دکھاتی ہے۔ جنگ اور امن کے درمیان فاصلہ بہت کم رہ جاتا ہے، اور ایسے میں ایک چھوٹا سا قدم بھی بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔ اس وقت پاکستان اسی باریک لکیر پر کھڑا ہو کر ایک توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اکیس گھنٹوں کے یہ مذاکرات کسی صورت ضائع نہیں گئے، کیونکہ ان میں دہائیوں کی دوری کم کرنے کی سنجیدہ کوشش کی گئی۔ ان گھنٹوں میں نہ صرف بات چیت ہوئی بلکہ ایک دوسرے کے مؤقف کو سمجھنے کی بنیاد بھی رکھی گئی، جو مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے۔
جب دو مخالف قوتیں براہِ راست ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ کر بات کرتی ہیں تو یہ خود ایک بڑی کامیابی ہوتی ہے، کیونکہ مکالمہ ہمیشہ تصادم سے بہتر اور زیادہ مؤثر راستہ ہوتا ہے۔ یہی عمل کسی بھی تنازعے کے حل کی پہلی سیڑھی ہوتا ہے۔
یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ جب فریقین ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے ہیں تو جنگ کے امکانات خود بخود کم ہو جاتے ہیں۔ انسانی رابطہ وہ عنصر ہے جو سخت ترین مؤقف کو بھی نرم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اب تمام نظریں 22 اپریل پر مرکوز ہیں، جو ایک فیصلہ کن تاریخ کے طور پر ابھر رہی ہے۔ یہ دن نہ صرف مذاکرات کے مستقبل کا تعین کرے گا بلکہ خطے کی سلامتی اور عالمی استحکام پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
اگلے دس دن انتہائی حساس اور اہم ہیں، جن میں ہر لمحہ قیمتی ہے۔ ان دنوں میں ہونے والی پیش رفت یا تعطل آنے والے حالات کا رخ متعین کرے گا، اس لیے تمام فریقین کو انتہائی احتیاط اور دانشمندی سے فیصلے کرنا ہوں گے۔
اگر ماہرین کی سطح پر مذاکرات آگے بڑھے تو یہ ایک مثبت اشارہ ہوگا کہ دونوں فریق سنجیدہ ہیں اور حل کی جانب بڑھنا چاہتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر جنگ بندی ختم ہوتی ہے تو صورتحال ایک بار پھر خطرناک حد تک کشیدہ ہو سکتی ہے۔
پاکستان نے اس سارے عمل میں نہایت ذمہ داری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس نے نہ صرف ثالثی کا کردار ادا کیا بلکہ عالمی امن کے لیے اپنی ساکھ کو بھی داؤ پر لگا دیا، جو ایک بڑا قدم ہے۔
یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ دنیا کی دو بڑی حریف قوتیں پاکستان کی میزبانی میں ایک میز پر آئیں اور کھل کر بات کریں۔ یہ پاکستان کی سفارتی صلاحیتوں اور عالمی اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔
پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ صرف ایک علاقائی طاقت نہیں بلکہ ایک ذمہ دار عالمی کردار بھی ادا کر سکتا ہے، جو تنازعات کو کم کرنے اور امن کو فروغ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ موقع اگر ضائع ہو گیا تو اس کے نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں، لیکن اگر اس سے فائدہ اٹھایا گیا تو یہ ایک نئے دور کا آغاز بھی ثابت ہو سکتا ہے، جہاں مکالمہ جنگ پر غالب آ جائے۔
دنیا کے دیگر ممالک کو بھی اب اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، کیونکہ یہ صرف ایک خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی امن کا سوال ہے۔ مشترکہ کوششوں کے بغیر اس مسئلے کا حل ممکن نہیں۔
یہ لمحہ تاریخ میں ایک اہم موڑ بن سکتا ہے، جہاں انسانیت یہ فیصلہ کرے گی کہ وہ تصادم کا راستہ اپناتی ہے یا مکالمے کا۔ یہی فیصلہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کا تعین کرے گا۔
پاکستان نے اپنا حصہ بخوبی ادا کر دیا ہے اور دنیا کو ایک موقع فراہم کیا ہے۔ اب یہ باقی دنیا پر منحصر ہے کہ وہ اس موقع کو ضائع ہونے دیتی ہے یا اسے امن کی بنیاد بنا دیتی ہے۔
معاہدہ نہ ہونے کے باوجود امید باقی ہے، اور جب تک امید باقی ہے، تب تک سفارتکاری کا سفر جاری رہتا ہے اور کہانی کبھی ختم نہیں ہوتی۔
![]()