
پشاور: گزشتہ سال 15 رمضان المبارک کو ارمڑ میں ہونے والے بم دھماکے میں شہید ہونے والے مذہبی اسکالر مفتی منیر شاکر کے فرزند اور ادارہ ندائے قرآن کے سربراہ عبداللہ شاکر نے حکومت اور تحقیقاتی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے اب تک ہونے والی تحقیقات کو عوام کے سامنے لایا جائے۔
پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عبداللہ شاکر نے کہا کہ واقعے کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے مگر آج تک نہ تو اصل قاتل سامنے لائے گئے اور نہ ہی اہل خانہ کو تحقیقات سے آگاہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف مذہبی جماعتوں کی جانب سے اب بھی انہیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں، تاہم وہ ملک میں امن کے مفاد میں خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے خاندان پر حملے بھی ہوئے اور الٹا ان ہی کے خلاف ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ عبداللہ شاکر کے مطابق بعض افراد کو گرفتار کر کے انہیں کہا جاتا ہے کہ عدالت جا کر دعویداری کریں، جبکہ ایک موقع پر 13 سال کے بچے کو حملے کا ذمہ دار قرار دینے کی کوشش بھی کی گئی، جسے انہوں نے تحقیقات کا رخ موڑنے کی کوشش قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں اور ان کے خاندان کو سیکیورٹی فراہم نہیں کی جا رہی، نہ ہی اسلحہ لائسنس جاری کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے قومی شناختی کارڈ بلاک کیے گئے اور پاسپورٹ بھی فراہم نہیں کیا جا رہا، جس پر انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا انہیں دہشت گرد سمجھا جا رہا ہے۔
عبداللہ شاکر کا کہنا تھا کہ ان کے والد کو سوشل میڈیا اور ویڈیوز کے ذریعے کھلم کھلا دھمکیاں دی گئیں مگر ان افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے حکومت، تحقیقاتی اداروں اور صوبائی حکام سے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو بے نقاب کر کے قانون کے مطابق سزا دی جائے اور اب تک ہونے والی تمام تحقیقات کو عوام کے سامنے لایا جائے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مفتی منیر شاکر پاکستان تحریک انصاف کے علماء ونگ کے رکن تھے، مگر ایک سال گزرنے کے باوجود صوبائی حکومت کی جانب سے نہ تو قاتلوں کی گرفتاری کے لیے مؤثر اقدامات کیے گئے اور نہ ہی اہل خانہ سے تعزیت کی گئی۔
*مفتی منیر شاکر کے قاتلوں کو گرفتار اور اب تک ہونے والی تحقیقات پبلک کی جائیں۔ عبداللہ شاکر* *ایک سال گزرنے کے بعد بھی مفتی منیر شاکر کے قاتل گرفتار نہ ہو سکے۔ عبداللہ شاکر* *عام لوگوں کو گرفتار کر کے ہمیں کہا جا رہا ہے کہ اپ عدالتوں میں جا کر ان پر دعویداری کریں۔ عبداللہ شاکر عبداللہ شاکر فرزند مفتی منیر شاکر* *ہمیں اج بھی مختلف مذہبی جماعتوں سے دھمکیاں مل رہی ہیں لیکن ہم ملک میں امن کی خاطر خاموش بیٹھے ہوئے ہیں۔ عبداللہ شاکر* *ہم پر حملے ہو رہے ہیں اور الٹا ہم پر ہی ایف ائی ارز کاٹی جا رہی ہیں۔ عبداللہ شاکر* *نہ ہمیں سیکیورٹی کے لیے اسلحہ لائسنس جاری کیے جا رہے ہیں اور نہ ہمیں سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔ عبداللہ شاکر* *کیا ہم دہشت گرد ہیں کہ ہمارے شناختی کارڈ بلاک کیے گئے اور نہ ہمیں پاکستانی پاسپورٹ فراہم کیے جا رہے ہیں۔ عبداللہ شاکر* پشاور ۔ گزشتہ سال 15 رمضان کریم کو ارمڑ بم دھماکے میں شہید ہونے والے مفتی منیر شاکر کہ فرزند اور ادارہ ندائے قران کے سربراہ عبداللہ شاکر نے پشاور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اج ایک سال مکمل ہو گیا ہے لیکن ہمارے شہید والد بزرگوار کے قاتل اج تک معلوم نہ ہو سکے۔ اور نہ اداروں نے اس واقعے میں دلچسپی لی ہے کہ ہمیں اج بھی قتل اور بم دھماکوں کی دھمکیاں دینے والے گرفتار ہو سکیں ہمارے قومی شناختی کارڈ بلاک کیے جا رہے ہیں اور نہ ہمیں قومی پاسپورٹ مہیا کیا جا رہا ہے کیا ہم دہشت گرد ہیں کہ ہمارے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ پشاور پریس کلب میں ندائے قران کے دیگر اراکین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم پر حملے ہوئے اور الٹا ہم پہ ہی ایف ائی ارز کاٹی گئیں کیا ہم اس ملک کے شہری نہیں ہم جہاں بھی جاتے ہیں ہمیں کہا جا رہا ہے کہ اپ کے والد بزرگوار کے قتل پر تحقیقات ہو رہی ہیں۔ لیکن نہ تو قاتل سامنے لائے جا رہے ہیں اور نہ ہمیں تحقیقات سے اگاہ کیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ہمیں کہا گیا کہ اپ عدالت ائیں ایک قاتل گرفتار ہوا ہے اپ اس پر دعوی داری کر دیں کیا 13 سال کا بچہ بم دھماکہ کر سکتا ہے انہوں نے کہا کہ ہم جہاں بھی گئے ہم پر قاتلانہ حملے ہوئے تو الٹا ہم پہ ہی ایف ائی ار کاٹی گئی یہ کہاں کا انصاف ہے۔ عبداللہ شاکر نے مزید کہا کہ ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ مفتی منیر شاکر کے قاتلان کو منظر عام پر لایا جائے اور اب تک ہونے والی تحقیقات کو بھی پبلک کیا جائے کیونکہ قاتل اج بھی ازادی سے گھوم پھر رہے ہیں اور ہمیں قتل کی دھمکیاں دے رہے ہیں لیکن تحقیقاتی اور دیگر اداروں کو پشت نظر نہیں ارہا۔ عبداللہ شاکر نے کہا کہ تحقیقات کا رخ موڑنے کے لیے الٹا ہمیں کہا گیا کہ مفتی منیر شاکر کو ان کے بیٹے نے بم دھماکے کے ذریعے شہید کیا ہے یہ کون سی منطق تھی جس کے بعد مفتی منیر شاکر کو ویڈیو کے ذریعے اور سوشل میڈیا پر کھلم کھلا قتل کی دھمکیاں دینے والے لوگوں کو کھلا چھوڑا گیا نہ ان سے تحقیقات کی گئی اور نہ انہیں قانون کے شکنجے میں لایا گیا الٹا وہ لوگ اج ہمیں دھمکیاں دے رہا ہے اور مجھے بھی گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت سے اپنی سیکیورٹی کا جب مطالبہ کرتے ہیں تو نہ ہمیں اسلحہ لائسنس دیے جا رہے ہیں اور نہ ہم اس سیکیورٹی مہیا کی جا رہی ہے۔ اس سے کیا بات اخذ کی جائے کہ ریاستی ادارے الٹا ہمارے خلاف ہی کام کر رہے ہیں۔ مفتی منیر شاکر کے فرزند نے کہا کہ مفتی منیر شاکر پاکستان تحریک انصاف کے علماء ونگ کے ممبر بھی تھے لیکن ایک سال گزر گیا پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے ان کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے بھی کوئی اہم کردار ادا نہیں کیا اور نہ ان سے تعزیت کی گئی۔ انہوں نے صوبائی حکومت تحقیقاتی اداروں اور اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ مفتی منیر شاکر کے قاتلوں کو منظر عام پر لایا جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے اور اور اب تک جتنی تحقیقات ہوئی ہیں ان کو پبلک کیا جائے۔
![]()