
خیبرنامہ رپورٹ
اسلام آباد میں معروف شاعر، ادیب اور صحافی سردار یوسفزئی کی ادبی و صحافتی خدمات کے اعتراف اور نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے حالیہ انتخابات میں ان کی کامیابی کے موقع پر ایک باوقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں اہلِ علم، صحافیوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات نے شرکت کر کے ان کی خدمات کو سراہا۔
یہ تقریب اکادمی ادبیاتِ پاکستان اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت ممتاز شاعر و دانشور سید محمود احمد نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض احساس خٹک نے انجام دیے۔ تقریب میں مہمانِ خصوصی کے طور پر نور الامین یوسفزئی، گل محمد بیتاب، پروفیسر حنیف خلیل اور قمر یوسفزئی شریک ہوئے۔
تقریب کے دوران مقررین نے سردار یوسفزئی کی ہمہ جہت شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صحافت، ادب اور تنظیمی میدان میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ مقررین میں عبدالحمید زاہد، ڈاکٹر منظور مضطر آفریدی، خورشید ابنِ لبید، ریاض بنگش اور دیگر شامل تھے، جنہوں نے منظوم و منثور انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا۔
مقررین کے مطابق، سردار یوسفزئی نے ریڈیو پاکستان میں بطور نیوز کاسٹر، وائس آرٹسٹ اور ریسرچ رائٹر خدمات انجام دیں، جہاں ان کی منفرد آواز اور مؤثر اندازِ بیان نے سامعین کو متاثر کیا۔ اسی طرح وہ مشرق ٹی وی سے بھی وابستہ رہے، جہاں انہوں نے پشتو نیوز ڈیسک کے انچارج کے طور پر ادارے کی پیشہ ورانہ ساکھ کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کیا۔
ڈیجیٹل صحافت کے میدان میں بھی ان کی خدمات قابلِ ذکر قرار دی گئیں، خصوصاً وائٹ نیوز کے ساتھ بطور بانی رکن پشتو ڈیسک ان کی کاوشوں کو سراہا گیا، جہاں انہوں نے پشتو صحافت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔
ادبی حوالے سے، سردار یوسفزئی کی شاعری اور نثر میں معاشرتی مسائل، طبقاتی ناہمواری، اور انسانی حقوق جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔ ان کی معروف تصنیف ستا غمونو سودائی کړم کو ایک اہم شعری مجموعہ قرار دیا گیا، جس میں سماجی شعور اور فکری گہرائی پائی جاتی ہے۔ اسی طرح ان کی کتاب داجی کو پشتو ادب میں ایک منفرد اضافہ قرار دیا گیا، جو والد کی شخصیت پر مبنی اپنی نوعیت کی اہم تصنیف ہے۔
تقریب میں موجود شرکاء کے مطابق، سردار یوسفزئی گزشتہ دو دہائیوں سے پشتو زبان و ادب کے فروغ کے لیے سرگرم ہیں اور پشتو ادبی سوسائٹی اسلام آباد کے پلیٹ فارم سے ادبی سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں۔ ان کی کاوشوں نے نہ صرف ادبی حلقوں کو متحرک کیا بلکہ بین الصوبائی ہم آہنگی کو بھی تقویت دی۔
تقریب کے دوران انہیں اعزازی شیلڈز، پھولوں کے ہار اور روایتی پگڑی پیش کی گئی، جسے شرکاء نے ان کی خدمات کے اعتراف کی علامت قرار دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق تقریب نہایت منظم اور باوقار انداز میں منعقد ہوئی، جہاں مہمانوں کی میزبانی اور انتظامات کو بھی سراہا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں علاقائی زبانوں کی صحافت کو درپیش چیلنجز کے باوجود پشتو زبان میں ڈیجیٹل اور الیکٹرانک میڈیا کی ترقی میں ایسے افراد کا کردار کلیدی اہمیت رکھتا ہے، جو زبان و ثقافت کے فروغ کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔
اختتام پر سردار یوسفزئی نے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آئندہ بھی ادب اور صحافت کے میدان میں اپنی خدمات جاری رکھیں گے۔ یہ تقریب نہ صرف ان کی کامیابیوں کا اعتراف تھی بلکہ ادبی و صحافتی برادری کے مابین روابط کو مزید مستحکم کرنے کا ذریعہ بھی بنی۔
مستقبل کا منظرنامہ:
ادبی و صحافتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اسی تسلسل کے ساتھ علاقائی زبانوں اور ذمہ دار صحافت کو فروغ دیا جاتا رہا تو نہ صرف ثقافتی ورثہ محفوظ ہوگا بلکہ نئی نسل کے لیے مثبت فکری راہیں بھی ہموار ہوں گی۔
![]()