
امان علی سے
خیبر: طورخم بارڈر پر گزشتہ کئی روز سے جاری کشیدگی کے دوران پڑی لاش کو اٹھانے کیلئے پاکستان اور افغانستان کے قبائلی مشران پر مشتمل مشترکہ وفد موقع پر پہنچ گیا۔ دونوں جانب کے عمائدین نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اس اقدام کو یقینی بنانے کیلئے مشترکہ طور پر کوششیں شروع کر دیں۔
ذرائع کے مطابق جرگے کے فیصلے کے تحت طورخم بارڈر پر شام 5:30 بجے تک سیز فائر کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ لاش کو محفوظ طریقے سے تحویل میں لیا جا سکے۔ مشران کے مطابق لاش کو اٹھانے کے بعد اس کی شناخت کی جائے گی اور بعد ازاں متعلقہ ملک کے حکام کے حوالے کیا جائے گا تاکہ اسے باعزت طریقے سے لواحقین تک پہنچایا جا سکے۔
قبائلی مشران کا کہنا ہے کہ جنگ اور کشیدگی کے باوجود انسانی اقدار کو مقدم رکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق ہر معاشرے اور ہر جنگ کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں اور میت کی تدفین ایک بنیادی انسانی حق ہے جس کا احترام کیا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ گزشتہ 13 روز سے طورخم بارڈر پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ اس دوران وقفے وقفے سے ہونے والی فائرنگ کے باعث سرحدی علاقوں میں رہنے والی سول آبادی بھی متاثر ہوئی ہے جبکہ متعدد افراد زخمی ہونے اور گھروں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
مشران نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ مشترکہ جرگے کی کوششوں سے نہ صرف لاش کو احترام کے ساتھ لواحقین تک پہنچایا جائے گا بلکہ سرحدی صورتحال میں بھی بہتری لانے کیلئے مثبت پیش رفت ممکن ہو سکے گی۔
![]()