پشاور: خیبر یونین آف جرنلسٹس اور پشاور پریس کلب نے شمالی وزیرستان کے سینئر صحافی اور میرانشاہ پریس کلب کے سابق صدر نور بہرام کے خلاف درج ایف آئی آر کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لینے اور واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
خیبر یونین آف جرنلسٹس کے دفتر سے جاری بیان میں صدر کاشف الدین سید، جنرل سیکرٹری ارشاد علی اور دیگر عہدیداروں نے کہا کہ نور بہرام نے عوامی شکایات کی بنیاد پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میرانشاہ میں خواتین مریضوں کو درپیش مسائل اور زنانہ ہسپتال میں 24 گھنٹے لیڈی ڈاکٹر کی عدم موجودگی کا معاملہ اجاگر کیا۔ ان کے مطابق یہ ایک خالص عوامی مسئلہ تھا جس کی وجہ سے علاقے کی خواتین شدید مشکلات کا شکار تھیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ایک ذمہ دار صحافی کی حیثیت سے نور بہرام نے اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دیتے ہوئے عوامی مسائل کو سامنے لایا، مگر ہسپتال انتظامیہ نے اس پر کارروائی کرنے کے بجائے مبینہ طور پر لیڈی ڈاکٹر نائلہ نور اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی مدعیت میں ان کے خلاف میرانشاہ تھانے میں ایف آئی آر درج کروا دی، جسے یونین نے انتقامی کارروائی قرار دیا ہے۔
خیبر یونین آف جرنلسٹس کے عہدیداروں نے کہا کہ صحافی معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں اور ان کا بنیادی فرض عوامی مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔ کسی بھی ادارے کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی مبینہ کوتاہیوں کو چھپانے کے لیے صحافیوں کو نشانہ بنائے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، وزیر صحت اور آئی جی پولیس سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے کر ایف آئی آر واپس لی جائے اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔
دوسری جانب پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض اور جنرل سیکرٹری عالمگیر خان نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ نور بہرام نے بطور صحافی عوامی شکایات کو اجاگر کیا جو صحافت کے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کی نشاندہی پر صحافی کے خلاف مقدمہ درج کرنا افسوسناک اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی مثال ہے۔
پشاور پریس کلب نے حکومت خیبرپختونخوا، آئی جی پولیس اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ صحافی نور بہرام کے خلاف درج مقدمہ فوری طور پر خارج کیا جائے اور واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔ بیان میں کہا گیا کہ پریس کلب صحافی برادری کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور صحافیوں کے خلاف کسی بھی قسم کی زیادتی یا انتقامی کارروائی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
خیبر یونین آف جرنلسٹس نے خبردار کیا ہے کہ اگر صحافی کے خلاف مقدمہ فوری واپس نہ لیا گیا اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو صوبے بھر کی صحافتی تنظیموں کے ساتھ مل کر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی، جس کی ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔

میرانشاہ: صحافی نور بہرام کے خلاف ایف آئی آر کی مذمت، فوری واپسی کا مطالبہپشاور: خیبر یونین آف جرنلسٹس اور پشاور پریس کلب نے شمالی وزیرستان کے سینئر صحافی اور میرانشاہ پریس کلب کے سابق صدر نور بہرام کے خلاف درج ایف آئی آر کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لینے اور واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔خیبر یونین آف جرنلسٹس کے دفتر سے جاری بیان میں صدر کاشف الدین سید، جنرل سیکرٹری ارشاد علی اور دیگر عہدیداروں نے کہا کہ نور بہرام نے عوامی شکایات کی بنیاد پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میرانشاہ میں خواتین مریضوں کو درپیش مسائل اور زنانہ ہسپتال میں 24 گھنٹے لیڈی ڈاکٹر کی عدم موجودگی کا معاملہ اجاگر کیا۔ ان کے مطابق یہ ایک خالص عوامی مسئلہ تھا جس کی وجہ سے علاقے کی خواتین شدید مشکلات کا شکار تھیں۔بیان میں کہا گیا کہ ایک ذمہ دار صحافی کی حیثیت سے نور بہرام نے اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دیتے ہوئے عوامی مسائل کو سامنے لایا، مگر ہسپتال انتظامیہ نے اس پر کارروائی کرنے کے بجائے مبینہ طور پر لیڈی ڈاکٹر نائلہ نور اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی مدعیت میں ان کے خلاف میرانشاہ تھانے میں ایف آئی آر درج کروا دی، جسے یونین نے انتقامی کارروائی قرار دیا ہے۔خیبر یونین آف جرنلسٹس کے عہدیداروں نے کہا کہ صحافی معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں اور ان کا بنیادی فرض عوامی مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔ کسی بھی ادارے کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی مبینہ کوتاہیوں کو چھپانے کے لیے صحافیوں کو نشانہ بنائے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، وزیر صحت اور آئی جی پولیس سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے کر ایف آئی آر واپس لی جائے اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔دوسری جانب پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض اور جنرل سیکرٹری عالمگیر خان نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ نور بہرام نے بطور صحافی عوامی شکایات کو اجاگر کیا جو صحافت کے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کی نشاندہی پر صحافی کے خلاف مقدمہ درج کرنا افسوسناک اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی مثال ہے۔پشاور پریس کلب نے حکومت خیبرپختونخوا، آئی جی پولیس اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ صحافی نور بہرام کے خلاف درج مقدمہ فوری طور پر خارج کیا جائے اور واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔ بیان میں کہا گیا کہ پریس کلب صحافی برادری کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور صحافیوں کے خلاف کسی بھی قسم کی زیادتی یا انتقامی کارروائی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔خیبر یونین آف جرنلسٹس نے خبردار کیا ہے کہ اگر صحافی کے خلاف مقدمہ فوری واپس نہ لیا گیا اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو صوبے بھر کی صحافتی تنظیموں کے ساتھ مل کر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی، جس کی ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے