یہ واقعہ دل دہلا دینے والا، روح کو جھنجھوڑ دینے والا اور انسانیت کو شرما دینے والا سانحہ ہے، جس نے نہ صرف ایک خاندان بلکہ پوری قوم کے ضمیر پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ایاز نامی نوجوان، جو محنت مزدوری کے لیے وطن سے دور سعودی عرب میں مقیم تھا، چند لمحوں کی ہوسِ زر اور بے رحمی کا نشانہ بن کر اس دنیا سے رخصت ہو گیا، مگر اپنے پیچھے آنسوؤں، سسکیوں اور نہ ختم ہونے والے سوالات کا انبار چھوڑ گیا۔

ایاز کا تعلق ملاکنڈ درگئی سے تھا، ایک سادہ، محنتی اور ذمہ دار نوجوان، جو بہتر مستقبل کی تلاش میں پردیس گیا تھا۔ وہ سعودی عرب کے شہر ریاض کے علاقے منفوحہ میں مقیم تھا اور وہاں اس نے اپنے خون پسینے کی کمائی سے ایک چھوٹا سا پرفیوم اسپرے کا کاروبار بھی قائم کر رکھا تھا، جو اس کی محنت، لگن اور حلال روزی کی علامت تھا۔

یہ ایاز اپنے خاندان کا واحد بھائی تھا، جس کی چار بہنیں تھیں اور وہ ان سب کے لیے سائبان کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس کے اپنے گھر میں ایک معصوم بچی اور ایک ننھا سا بیٹا تھا، جو ابھی زندگی کی حقیقتوں سے ناواقف تھے اور اپنے باپ کے سائے کے محتاج تھے، مگر قسمت نے انہیں بہت جلد یتیمی کی تلخ حقیقت سے روشناس کرا دیا۔

پردیس میں رہتے ہوئے بھی ایاز کا دل اپنے رشتہ داروں اور اہلِ وطن کے لیے نرم تھا۔ اسی جذبے کے تحت اس نے اپنے خالہ کے بیٹا کے لیے سعودی عرب آنے کا بندوبست کیا، اس کی ویزا لگوائی اور اسے اپنی رہائش گاہ پر جگہ دی، تاکہ وہ بھی محنت کر کے اپنی زندگی سنوار سکے۔

مگر افسوس کہ جس رشتے کو ایاز نے اعتماد، محبت اور خلوص سے سینچا، وہی رشتہ اس کے لیے موت کا سبب بن گیا۔ وہ جسے اپنا سمجھتا تھا، جسے اپنا دست و بازو بنانا چاہتا تھا، اسی نے لالچ اور شیطانی سوچ کے تحت اس کی جان لینے کا منصوبہ بنا لیا۔

مختلف اطلاعات کے مطابق، ایاز اور اس کےخالہ کے بیٹےکے درمیان مالی معاملات پر کچھ اختلافات موجود تھے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایاز نے اسے تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے قرض دیے تھے، جن کی واپسی کا تقاضا کیا جا رہا تھا، جبکہ بعض کے مطابق سعودی عرب میں تقریباً 2500 ریال کے لین دین پر تنازعہ چل رہا تھا۔

دوسری جانب یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ایاز کے پاس تقریباً دو لاکھ ریال کی رقم موجود تھی، جس کا ذکر اس نے خود اپنے ترور زوی اور اس کے دوستوں کے سامنے کیا تھا، اور یہ بھی کہا تھا کہ وہ اس رقم سے کوئی نیا کاروبار شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

یہی بات شاید لالچ کی آگ کو ہوا دینے کے لیے کافی ثابت ہوئی۔ دولت کی ہوس نے رشتوں کی حرمت، انسانیت کی قدر اور خون کے احترام کو روند ڈالا، اور شیطان نے ان کے دلوں میں ایسا زہر بھر دیا کہ وہ ایک بہیمانہ فیصلے پر آمادہ ہو گئے۔

یہ فیصلہ کسی لمحاتی غصے کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ بظاہر ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔ ایاز کے اپنے ترور زوی اور اس کے ساتھ شامل دیگر افراد نے سازش کے تحت اسے تنہا کیا اور پھر تین افراد نے مل کر اسے بے دردی سے قتل کر دیا۔

قتل کا طریقہ اتنا وحشیانہ تھا کہ سن کر روح کانپ اٹھتی ہے۔ ایاز کو ایک بے زبان جانور کی طرح ذبح کر دیا گیا، اس کی لاش وہیں چھوڑ دی گئی اور قاتل فرار ہونے کی کوشش میں لگ گئے، گویا انہیں اس انسان کی کوئی قدر ہی نہ تھی جس نے انہیں سہارا دیا تھا۔

سعودی پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایاز کے ایک قاتل کو گرفتار کر لیا، جبکہ دیگر ملزمان کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔ یہ تفتیش اس بات کو واضح کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اصل محرک کیا تھا اور یہ انسانیت سوز جرم کن مراحل سے گزر کر وقوع پذیر ہوا۔

تاہم قانون اپنی جگہ، مگر جو زخم ایک ماں کے دل پر لگا، جو سناٹا ایک باپ کے وجود پر چھا گیا، اور جو قیامت چار بہنوں کے سروں پر ٹوٹ پڑی، اس کا کوئی مداوا ممکن نہیں۔ ان کے لیے ایا ز صرف ایک فرد نہیں بلکہ امید، سہارا اور فخر تھا۔

پردیس میں قتل ہونے والے ایاز کی میت کو بعد ازاں پاکستان منتقل کیا گیا، جہاں ملاکنڈ درگئی میں اس کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ جنازے میں لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی، ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہر زبان پر ایک ہی سوال تھا کہ آخر ہم کس سمت جا رہے ہیں۔

وہ معصوم بچے، جو اپنے باپ کا چہرہ آخری بار بھی نہ دیکھ سکے، آج زندگی کے سب سے بڑے سہارے سے محروم ہو چکے ہیں۔ ان کی ماں پر کیا گزری ہو گی، یہ سوچ کر بھی دل دہل جاتا ہے کہ ایک عورت نے اپنے شوہر کو پردیس میں اس حال میں کھو دیا۔

یہ واقعہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ جب لالچ دل میں گھر کر لے تو رشتے، خون اور احسان سب بے معنی ہو جاتے ہیں۔ انسان اتنا گر جاتا ہے کہ اپنے ہی ہاتھوں سے کسی کا چراغ گل کرنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی۔

ہم فخر سے کہتے ہیں کہ ہم غیرت مند قوم ہیں، ہمارا ہزاروں سال کا شاندار تاریخ ہے، مگر ایسے واقعات اس دعوے کو جھوٹا ثابت کرتے ہیں۔ اگر غیرت زندہ ہوتی تو ایک بھائی نما رشتہ دار کے ساتھ یہ سلوک کبھی نہ کیا جاتا۔

یہ سانحہ صرف ایک قتل نہیں بلکہ ہماری اجتماعی اخلاقی شکست کا اعلان ہے۔ یہ ہمیں آئینہ دکھاتا ہے کہ ہم نے دولت کو انسانیت پر ترجیح دے دی ہے اور رشتوں کو مفاد کی ترازو میں تولنے لگے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خود احتسابی کریں، اپنے معاشرے میں اخلاق، دیانت اور خوفِ خدا کو دوبارہ زندہ کریں، ورنہ ایسے سانحات بار بار جنم لیتے رہیں گے اور ہم صرف افسوس کے بیانات تک محدود رہ جائیں گے۔

ایاز تو چلا گیا، مگر اس کی کہانی ایک سوال چھوڑ گئی ہے، جو ہر باشعور انسان سے جواب مانگتی ہے۔ کیا ہم واقعی وہی قوم ہیں جس کا ہمیں مان ہے، یا ہم صرف کھوکھلے نعروں میں جیتے ہیں؟

اللہ تعالیٰ ایاز مرحوم کی مغفرت فرمائے، اس کے درجات بلند کرے اور اس کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ کاش یہ دردناک واقعہ ہمارے لیے عبرت بن جائے، تاکہ آئندہ کسی اور ماں کی گود، کسی اور بچے کا سر اور کسی اور بہن کا مان اس طرح نہ اجڑے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے