پشاور: ملاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے تائیکوانڈو کے کھلاڑیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل اسپورٹس کی ہدایات پر انہیں انڈر 21 گیمز سے باہر کر دیا گیا اور پولیس کی مدد سے رات کی تاریکی میں ہال خالی کرایا گیا۔
پشاور پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے گولڈ میڈلسٹ اور تائیکوانڈو کیپٹن عامر خان نے کہا کہ مین ایونٹ کے روز ملاکنڈ ڈویژن کے دو کیپٹنوں اور 14 کھلاڑیوں کو اچانک مقابلوں سے باہر کر دیا گیا۔ ان کے مطابق پولیس نے ہال پر دھاوا بول کر کھلاڑیوں کو پانچ منٹ کا الٹی میٹم دیا، جس کے بعد انہیں شدید سردی میں زبردستی ہال سے نکال دیا گیا۔
عامر خان کا کہنا تھا کہ کھلاڑی اور ان کے لواحقین رات بھر ہوٹلوں کے پیچھے در بدر رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ڈی جی اسپورٹس تشفین حیدر اور متعلقہ ریجنل افسر نے من پسند افراد کو میڈلز دلوانے کے لیے اسپورٹس رولز کو نظر انداز کیا اور پولیس کا سہارا لیا۔
گولڈ میڈلسٹ عبداللہ نے بھی شکوہ کیا کہ کھلاڑیوں کے ساتھ ناانصافی کی گئی اور انہیں بغیر کسی واضح وجہ کے ایونٹ سے باہر کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کے اقدامات تو قابل تحسین ہیں، لیکن منتظمین نے کرپشن کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔
کھلاڑیوں نے وزیراعلیٰ اور صوبائی وزیر کھیل سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داران کو بے نقاب کیا جائے، اور متاثرہ کھلاڑیوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر عامر خان اور دیگر کھلاڑیوں نے کہا کہ اگر انہیں انصاف نہ ملا تو وہ احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے