

پشاور (محمد منیر)پشاور ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی گئی ہے جس میں وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ موٹرویز اور ہائی ویز کے اطراف زیتون کے پودے لگانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔ درخواست گزار ایم زیڈ نادم خٹک ایڈووکیٹ کا مؤقف ہے کہ زیتون کی کاشت نہ صرف ملکی معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے بلکہ یہ ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں زیتون کی کاشت کے لیے وسیع اور موزوں زمین دستیاب ہے، بالخصوص موٹرویز اور قومی شاہراہوں کے اطراف ایسی زمینیں موجود ہیں جہاں زیتون کے درخت کامیابی سے اگائے جا سکتے ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق اس اقدام سے ملکی سطح پر زیتون کے تیل کی پیداوار میں اضافہ ہوگا، جس سے درآمدات پر انحصار کم اور زرِ مبادلہ کی بچت ممکن ہو سکے گی۔درخواست میں حکومت کی ذمہ داریوں پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ زیتون کی کاشت کے فروغ کے لیے ایک جامع، منظم اور طویل المدتی پالیسی تشکیل دی جائے اور اس پر مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ حکومت کو پابند کیا جائے کہ وہ اس منصوبے پر عملی پیش رفت کرے تاکہ اس کے معاشی اور ماحولیاتی فوائد عوام تک پہنچ سکیں۔درخواست میں بین الاقوامی تعاون کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس کے مطابق پاکستان نے زیتون کی تحقیق اور جدید کاشت کے فروغ کے لیے اٹلی کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت جدید تحقیق، مشترکہ منصوبوں اور پاکستانی ماہرین و تکنیکی عملے کی خصوصی تربیت کے مواقع فراہم کیے جائیں گے، جس سے ملک میں زیتون کی کاشت کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے گا۔مزید برآں درخواست میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 9 اور آرٹیکل 38 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ریاست پر لازم ہے کہ وہ شہریوں کو صحت مند ماحول اور معاشی بہبود فراہم کرے۔ درخواست گزار کے مطابق ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے، جسے پورا کرنے کے لیے زیتون کی کاشت ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔پشاور ہائی کورٹ میں اس درخواست کی سماعت جاری ہے، جہاں درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ حکومت کو فوری اقدامات کا پابند بنایا جائے۔ عدالت نے معاملے کی اہمیت کے پیش نظر سماعت مقرر کر رکھی ہے۔درخواست گزار کا کہنا ہے کہ زیتون کی کاشت سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی، درجہ حرارت میں اعتدال اور زمین کے کٹاؤ کو روکنے میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اس قومی مفاد کے منصوبے پر سنجیدگی سے عمل درآمد کریں گے۔
![]()