
جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر سراج الحق نےکہا ہے کہ مرکز اور صوبے میں برسراقتدار حکمرانوں کی لڑائی ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کےلئے نہیں ہے نہ کرپشن کا خاتمہ ان کی ترجیح ہے اور نہ ہی نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی اوردہشت گردی و بدامنی کے خاتمہ کے لئے یہ آپس میں لڑ رہے ہیں۔مرکز میں ن لیگ ،پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی حکومتوں نے عملی طور پر ثابت کردیا ہے کہ ان کی لڑائی کرسی اور اقتدار کی لڑائی ہے اور ان تینوں پارٹیوں کا ایجنڈا ایک ہے اور وہ ورلڈ بینک،آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کی غلامی کے زریعے اپنی حکومتوں کا قیام ان کی اولین ترجیح ہے۔مشرقی پاکستان اس لئے بنگلہ دیش بنا کہ اس وقت ہمارے حکمران آئین وقانون کے بجائے پسند وناپسند کی بنیاد پر فیصلے کرتے تھے۔آج بھی ہماری عدالتیں اسی سوچ کے تحت فیصلے کرتی ہیں جس کی وجہ سے اس وقت دنیا میں انصاف کی فراہمی میں ہمارا عدالتی نظام 129نمبر پر ہے۔کسی ملک کے نظام میں انصاف دینے والے جج کے بارے میں جب ایسی خبریں عام ہو کہ جج کی ڈگری جعلی نکلی ہے تو اس جج کے فیصلوں پر سوالیہ نشان کھڑا ہونا فطری عمل ہے۔سودی نظام آئین اور شریعیت کے منافی ہے لیکن تینوں بڑی جماعتوں کی ترجیحات میں یہ شامل ہے۔ٹراس جینڈرایکٹ پر ہماری حکومتوں کااتفاق ہے اور مغرب کی ایماء پر 18سال سے پہلے شادی پر پابندی لگانا نہ صرف ماورائے اسلام عمل ہے بلکہ یہ بنیادی انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر سراج الحق نے جامعہ احیائے العلوم سپین جماعت پشاور میں سالانہ ختم بخاری اور تقریب تقسیم اسناد کے موقع پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ملک اور قوم کو درپیش مسائل کا واحدحل ملک میں اسلامی نظام حیات کے عملی نفاذ میں مضمر ہے جس کے لئے دینی مدارس اور علماے کرام کلیدی کردار ادا کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ میں اس وقت برسراقتدار تینوں بڑی پارٹیاں مخلص نہیں ہیں۔جماعت اسلامی ملک میں حقیقی تبدیلی کے لئے کوشاں ہے اور مینار پاکستان لاہور میں گزشتہ ماہ جماعت اسلامی نے بدل دو نظام کے عنوان سے ملک گیر اجتماع عام کا انعقاد کیا ہے جس میں ملک بھر سے لاکھوں کی تعداد میں عوام نے بھرپور شرکت کرکے موجودہ فرسودہ نظام سے نجات کے لئے جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے بھرپور جدوجہد کا اعلان کیا ہے۔ اس موقع پر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا وسطی کے امیر عبدالواسع،سابق سینئر صوبائی وزیر اور شمالی پختونخوا کے امیر عنایت اللہ خان،صوبائی نائب امیر مولانا ڈاکٹر محمد اسماعیل،جنرل سیکرٹری صابرحسین اعوان امیر ضلع بحراللہ خان ایڈوکیٹ،جامعہ احیائے العلوم سپین جماعت کے مہتمم مولانا ظہیر حسن اورخطیب مولانا نسیم اللہ سمیت صوبہ بھر سے آئے ہوئے علماے کرام جماعت اسلامی کے قائدین اور طلبہ کے عزیزواقارب نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ آج دورہ حدیث اور درس نظامی میں مہارت رکھنے والے شیوخ اور اکابرین کے نام زندہ ہیں لیکن کسی کو بھی امام بخاری رح،امام مالک رح ،ابوحنیفہ رح یا دیگر جید صحابہ کرام کے دور میں برسراقتدار بڑے بڑے حکمرانوں کے نام یاد نہیں ہیں جبکہ قرآنی تعلیمات اور حدیث کے علوم عام کرنے والے اکابرین کے کارناموں سے دنیا واقف ہیں۔مقررین نے کہا کہ قرآن وہ واحد کتاب ہے جو آج تک اپنی اصلی حالت میں انسانوں کی رہنمائی کے لئے موجود ہے اور یہ سینہ بہ سینہ آج کے دور تک اپنی اصلی حالت میں پہنچا ہے اس موقع پر مہمان خصوصی سراج الحق اور دیگر مہمانان نے تقریب میں 61حفاظ کرام،30 طلبہ کودورہ حدیث اور 29 طلبہ کو ناظرہ قرآن کورس مکمل کرنےپر دستار بندی کی اور انہیں اسناد فراہم کئے گئے۔
![]()