انسان کا دل کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس پر کسی انجانے بوجھ کا پہاڑ رکھ دیا گیا ہو۔ نہ سانس آسانی سے چلتی ہے، نہ بات دل سے نکل پاتی ہے۔ آدمی اپنے ہی اندر کہیں ڈوبنے لگتا ہے اور اسے سمجھ نہیں آتی کہ آخر یہ بھاری پن کیوں ہے۔ حقیقت میں یہ لمحہ کوئی عام لمحہ نہیں ہوتا۔ یہ وہ گھڑی ہوتی ہے جب رب انسان کو اپنی طرف بلا رہا ہوتا ہے، اسے احساس دلا رہا ہوتا ہے کہ وہ اس سے دور چلا گیا ہے اور اب لوٹ آنے کا وقت ہے۔

گناہ انسان کی فطرت میں موجود کمزوری کی ایک جھلک ہے، مگر اصل عظمت اسی میں ہے کہ انسان اپنی خطا کو پہچان لے اور اپنے رب کے در پر جھک جائے۔ وہ در ایسا ہے جو کبھی بند نہیں ہوتا، وہ آغوش ایسی ہے جس میں مایوسی کی کوئی جگہ نہیں۔ مگر لوٹنے کے لیے ایک دروازہ ہے، ایک لفظ ہے، ایک راستہ ہے جس کا نام استغفار ہے۔استغفار صرف زبان سے ادا ہونے والا لفظ نہیں بلکہ دل کی کیفیت کا نام ہے۔ جب بندہ کہتا ہے: “یا اللہ میں غلط تھا، میں کمزور تھا، مجھے تو معاف کر دے” تو وہ دراصل اپنے اندر کی شکستگی کو رب کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ یہ شکستگی ہی اصل حسن ہے، کیونکہ رب کے نزدیک ٹوٹا ہوا دل سب سے قیمتی ہوتا ہے۔

جب دل میں گناہوں کی دھند چھا جاتی ہے تو انسان روشنیاں دیکھنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ اسے اپنے اندر خود سے دوری محسوس ہوتی ہے۔ مگر جیسے ہی استغفار کی نمی دل پر پڑتی ہے، دھند کہیں تحلیل ہونے لگتی ہے اور دل پھر سے روشنی قبول کرنے لگتا ہے۔ یہ روشنی ہی قرب الٰہی ہے جو انسان کو سکون اور قرار عطا کرتی ہے۔اللہ نے انسان کو نہ شرمندہ کرنے کے لیے پیدا کیا اور نہ ہی ہمیشہ خطاؤں میں ڈوب کر رہنے کے لیے۔ رب چاہتا ہے کہ بندہ اس سے بات کرے، اس کے سامنے روئے، اس سے مدد مانگے۔ اور استغفار وہ ذریعہ ہے جو انسان کو براہ راست اس کے رب تک پہنچا دیتا ہے۔

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان نماز پڑھتا ہے مگر دل نہیں لگتا۔ دعائیں مانگتا ہے مگر محسوس نہیں ہوتا کہ وہ اوپر جا رہی ہیں۔ زبان سے ذکر کرتا ہے مگر روح خالی رہتی ہے۔ اس کا اصل سبب دل کا بوجھ ہوتا ہے۔ اور اسی بوجھ کو ہلکا کرنے کا علاج استغفار ہے۔ یہ دل کی صفائی کا عمل ہے، روح کے زخموں کا مرہم ہے۔جب بندہ خاموشی سے، تنہائی میں، آہستہ آہستہ “استغفراللہ” دہراتا ہے تو اندر جو شور ہے وہ کم ہونے لگتا ہے۔ آنسو اگر بہہ جائیں تو یہ اور بھی خوبصورت ہوتا ہے۔ کیونکہ آنسو روح کی زبان ہیں۔ وہ وہ باتیں کہہ دیتے ہیں جو زبان نہیں کہہ پاتی۔

اللہ کے نزدیک بندے کی سچائی سب سے بڑی نعمت ہے۔ جب انسان رب کے سامنے اعتراف کرتا ہے کہ وہ غلط تھا، تو رب اسے صرف معاف نہیں کرتا بلکہ اس کی زندگی میں آسانیاں پیدا کر دیتا ہے۔ انسان حیران رہ جاتا ہے کہ ایک لفظ نے اس کی دنیا کیسے بدل دی۔جو شخص استغفار کو روز مرہ کی عادت بنا لیتا ہے اس کی زندگی میں ایک عجیب سی نرمی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کے دل میں رحم، شکر، برداشت اور روشنی آنے لگتی ہے۔ اس کے چہرے پر ایک وقار آ جاتا ہے جو دنیا دیکھ لیتی ہے۔

استغفار نہ صرف روح کی صفائی کرتا ہے بلکہ زندگی کے معاملات کو بھی سنوارتا ہے۔ رشتوں میں محبت بڑھتی ہے، دل میں سکون پیدا ہوتا ہے، اور نصیب کی سختیاں نرم ہو جاتی ہیں۔ یہ وہ دروازہ ہے جو کبھی بند نہیں ہوتا۔قرآن مجید میں اللہ فرماتا ہے (ترجمہ): “اپنے رب سے بخشش مانگو، وہ بے شک بہت بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے برکتیں برسائے گا اور تمہیں مال اور اولاد سے نوازے گا اور تمہارے لیے باغات اور نہریں پیدا کرے گا۔” (سورۃ نوح 10-12)اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (ترجمہ): “جو شخص کثرت سے استغفار کرتا ہے، اللہ اس کے ہر غم کو خوشی میں بدل دیتا ہے اور ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے۔” (سنن ابو داؤد)

یہ وعدے صرف الفاظ نہیں، زندگی کے تجربات ہیں۔ ہر وہ دل جس نے استغفار کو اپنا سہارا بنایا ہے وہ اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے۔انسان گناہوں سے بچ نہیں سکتا، مگر گناہوں میں ڈوبے رہنا اس کی قسمت نہیں۔ توبہ اور استغفار انسان کو ٹوٹنے سے بچاتے ہیں۔ یہ دل کو دوبارہ دھڑکنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔ یہ روح کو پھر سے جینے کا حق دیتے ہیں۔رب کو وہ بندہ سب سے زیادہ محبوب ہے جو گرتا ہے مگر واپس اٹھ کر اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔ وہ بندہ جو کوشش کرتا رہتا ہے، چاہے ہزار بار گر جائے۔

زندگی کے بوجھ کبھی کبھی بہت بھاری ہو جاتے ہیں۔ دل ٹوٹ جاتا ہے، خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں، امیدیں بجھ جاتی ہیں۔ مگر اس لمحے اگر بندہ استغفار شروع کر دے، تو یہی ٹوٹ پھوٹ رب کی قربت کا دروازہ بن جاتی ہے۔رب کے قریب ہونا ہی اصل سکون ہے۔ اور یہ قرب کسی بڑے عمل کا محتاج نہیں۔ یہ بس ایک سچے دل اور ایک نرم جملے کا محتاج ہے۔آج اگر دل بوجھل ہے تو اسے خاموشی میں لے جاؤ۔ آنکھوں کو نم ہونے کی اجازت دو۔ دل سے کہو:“اے رب، میں تھک گیا ہوں… تو مجھے اپنی طرف کھینچ لے۔” پھر آہستہ آہستہ “استغفراللہ” کہنا شروع کر دو۔ یہ لفظ دل کو بدل دیتا ہے۔ اور جب دل بدل جاتا ہے تو زندگی بدل جاتی ہے۔ یہ لوٹ آنے کا لمحہ ہے۔ یہ دروازہ کھلا ہوا ہے۔ بس قدم بڑھانے کی دیر ہے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے