
ایک دن میں پاکستان میں ایک آدمی سے بات کر رہا تھا۔ اُس نے جو الفاظ کہے، اُن کے لیے میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں۔ اُس نے کہا، “نماز کیوں پڑھوں؟ مجھے کیا مل رہا ہے؟” یہ جملہ میرے دل میں بجلی بن کر گرا۔ میں سوچنے لگا کہ یہ سوال صرف اُس شخص کا نہیں، بلکہ آج کے دور کے بہت سے لوگوں کے دلوں میں چھپا ہوا سوال ہے۔ ہم میں سے کتنے ہیں جو زبانی تو اللہ کو مانتے ہیں، مگر عملی طور پر اُس سے دور جا چکے ہیں۔مجھے افسوس اس بات کا نہیں کہ اُس نے نماز پر سوال اٹھایا، بلکہ اس بات کا ہے کہ وہ اپنے رب کو ایک لین دین کے رشتے میں تولنے لگا۔ جیسے عبادت کا مقصد کوئی دنیاوی فائدہ ہو۔ ہم بھول گئے ہیں کہ عبادت رب کے حکم کی تعمیل ہے، نہ کہ کسی نفع کے لیے سودا۔
یہ سوال دراصل ہماری روحانی کمزوری کی علامت ہے۔ ہم نے دین کو ایک رسم بنا دیا ہے۔ مسجد جانا، قرآن پڑھنا، یا روزہ رکھنا، سب کچھ محض عادت کے طور پر کرتے ہیں، نہ کہ ایمان کے تقاضے کے تحت۔ہم یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ہم نے دین کو سمجھنے کے بجائے صرف دہرانے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ ہماری نسلیں قرآن پڑھتی ہیں مگر سمجھتی نہیں۔ ہم اللہ سے مانگتے ہیں مگر شکر ادا نہیں کرتے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب دلوں میں زنگ لگنا شروع ہوتا ہے۔
میں نے اُس شخص سے نرمی سے کہا کہ بھائی، نماز اس لیے نہیں کہ اللہ کو ہماری ضرورت ہے، بلکہ اس لیے کہ ہمیں اللہ کی ضرورت ہے۔ انسان جب رب سے جڑتا ہے تو اُس کے دل کو سکون ملتا ہے، ورنہ دنیا کے شور میں سب کچھ کھو جاتا ہے۔وہ میری بات پر مسکرایا، مگر اُس مسکراہٹ میں ایک خالی پن تھا۔ شاید وہ خود نہیں جانتا تھا کہ اس نے اپنے رب کے ساتھ تعلق توڑ کر خود کو کتنا محروم کر لیا ہے۔ہم میں سے بہت سے لوگ ایسی ہی حالت میں ہیں۔ زبان سے ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر عمل میں دنیا کے غلام بن چکے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ دولت، شہرت، اور آرام ہی اصل کامیابی ہیں۔ مگر جب رات کی تنہائی میں دل بے چین ہوتا ہے، تو پتہ چلتا ہے کہ سکون کہیں اور ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:“یاد رکھو، اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔” (سورۃ الرعد: 28)سکون نہ دولت میں ہے، نہ طاقت میں، بلکہ اُس یاد میں ہے جسے ہم بھول گئے ہیں۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ایمان کا تعلق محض عقیدے سے نہیں، بلکہ عمل سے ہے۔ اگر نماز ہمیں نہیں بدل رہی، تو مسئلہ نماز میں نہیں، ہمارے دل میں ہے۔ عبادت کا مقصد انسان کو اللہ کے قریب کرنا ہے، نہ کہ دکھاوا یا رسم ادا کرنا۔ہمیں دعوتِ دین کا کام صرف دوسروں کے لیے نہیں، خود اپنے لیے بھی کرنا چاہیے۔ جب ہم کسی کو اللہ کی طرف بلاتے ہیں، تو دراصل اپنے دل کو بھی یاد دہانی کراتے ہیں کہ ہمارا اصل مقصد کیا ہے۔
آج کے دور میں لوگ دین سے نہیں، دینداروں سے بھاگتے ہیں۔ کیونکہ ہم نے دین کو محبت کے بجائے بحث کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم دین کو کردار کے ذریعے پیش کریں، نہ کہ زبانی دعوؤں کے ذریعے۔عبادت صرف سجدے میں نہیں، بلکہ لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک میں بھی ہے۔ جب ہم نرم گفتگو، خلوص، اور محبت سے پیش آتے ہیں تو یہی دعوتِ دین ہے۔بدقسمتی سے آج ہم نے دین کو آسان چھوڑ کر مشکل بنا لیا ہے۔ ہم ایک دوسرے پر فتوے لگاتے ہیں، مگر خود کو بہتر نہیں بناتے۔ ہم دوسروں کی غلطیوں کو بڑھا چڑھا کر دکھاتے ہیں، مگر اپنی اصلاح پر توجہ نہیں دیتے۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک امت بنایا ہے، مگر ہم ٹکڑوں میں بٹ گئے ہیں۔ کوئی مسلک کے نام پر، کوئی قومیت کے نام پر، کوئی سیاست کے نام پر۔ جب تک ہم دوبارہ اللہ کی طرف نہیں لوٹیں گے، ہماری روحانی غلامی ختم نہیں ہوگی۔ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایمان صرف زبانی نہیں، عملی انقلاب کا نام ہے۔ جب ایک انسان اپنے رب سے جڑتا ہے، تو اُس کی زندگی کے ہر پہلو میں تبدیلی آتی ہے۔ اُس کی آنکھوں میں عاجزی، دل میں نرمی، اور زبان پر شکر ہوتا ہے۔
ہمیں دوبارہ سے اپنے دلوں کو جگانا ہوگا۔ نماز، روزہ، اور قرآن کو بوجھ نہیں بلکہ خوشی بنانا ہوگا۔ ہمیں اپنے بچوں کو دین محبت سے سکھانا ہوگا، ڈرا کر نہیں۔ہر انسان کے اندر ایک خالی جگہ ہے جو صرف اللہ کے ذکر سے بھرتی ہے۔ ہم اُس خالی پن کو دنیاوی چیزوں سے پُر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر ناکام رہتے ہیں۔ سکون صرف اُس وقت آتا ہے جب دل کہتا ہے، “اے رب! میں تیرے حکم کے سامنے جھک گیا۔”میں اُس دن کے شخص کو یاد کرتا ہوں، اور دل سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ اُس کے دل کو ہدایت دے۔ شاید وہ کسی لمحے سجدے میں گرے اور اپنے رب کو پہچان لے۔ کیونکہ اللہ کسی کو بھی بدلنے پر قادر ہے۔
ہم سب کو اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم نے ایمان کو صرف لفظوں میں رکھا ہے یا عمل میں بھی؟ کیا ہم نماز صرف ادا کرتے ہیں یا اُس سے جڑتے ہیں؟دنیا ختم ہو جائے گی، مال و دولت مٹ جائے گا، مگر ایمان ہی وہ سرمایہ ہے جو قبر میں روشنی بنے گا۔ ہمیں آج فیصلہ کرنا ہے کہ ہم دنیا کے لیے جئیں گے یا رب کے لیے۔یہ زندگی عارضی ہے، مگر آخرت دائمی۔ اللہ ہمیں وہ بصیرت دے کہ ہم اس دنیا کے دھوکے سے بچ سکیں اور اُس کی رضا حاصل کر سکیں۔
آخر میں، یہی دعا ہے:اے اللہ! ہمیں اُن بندوں میں شامل کر جو تیری یاد میں سکون پاتے ہیں، اور ہمیں اُن لوگوں میں نہ لکھ جو دنیا کے عیش میں تجھ سے غافل ہو جاتے ہیں۔ آمین۔
![]()