
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے وفاقی دارالحکومت میں ہونے والی ایک اہم اجلاس میں بعض سیاسی رہنماؤں کی عدم شرکت پر شدید تنقید کی ہے۔انہوں نے کہا کہ "اسلام آباد میں دہشت گردی کی روک تھام، گندم کی تقسیم اور سیلاب کی تباہ کاریوں جیسے اہم قومی امور پر اعلیٰ سطحی میٹنگ ہوتی ہے، مگر احتجاج کے ’چیمپئن‘ صاحب اس میں شرکت سے یہ کہہ کر انکار کر دیتے ہیں کہ انہیں اپنے ’خان‘ سے اجازت نہیں ملی۔”ایمل ولی خان نے طنزیہ انداز میں سوال اٹھایا کہ "کل جو ون آن ون ملاقات ہوئی، کیا اس کی اجازت بھی لی گئی تھی؟”انہوں نے مزید کہا کہ "بند کمروں میں فیصلے نہ کرنے کی باتیں کرنے والے کو کل بند کمرے میں اپنی اصل حیثیت کا بخوبی اندازہ ہو گیا ہوگا۔”اے این پی سربراہ نے صوبائی سیاست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "یہ صوبہ اب بس ڈرامہ بازوں کے سپرد ہے، ایک جاتا ہے، دوسرا آ جاتا ہے، سٹیج وہی رہتا ہے، اور ہم تماشائی بن کر انجوائے کرتے رہتے ہیں۔”ایمل ولی خان کے اس بیان کو سیاسی حلقوں میں آئندہ کے سیاسی محاذ آرائی کی جھلک قرار دیا جا رہا ہے۔
![]()