امجد ہادی یوسفزئی

یکم مئی کا دن دنیا بھر میں مزدوروں کے حقوق کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے، مگر شانگلہ کے ان مزدوروں کے لیے یہ دن کسی جشن کا نہیں بلکہ ایک کربناک حقیقت کی یاد دہانی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو روزگار کی تلاش میں اپنے خوبصورت مگر پسماندہ ضلع کو چھوڑ کر ملک کے مختلف حصوں، خصوصاً بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی کوئلہ کانوں میں اترتے ہیں، جہاں زندگی اور موت کے درمیان فاصلہ صرف ایک سانس کا ہوتا ہے۔ شانگلہ میں صنعت نہ ہونے کے برابر ہے، سرکاری نوکریاں محدود ہیں اور نجی شعبہ تقریباً ناپید، اس لیے نوجوانوں کے پاس کوئی اور راستہ نہیں بچتا سوائے اس کے کہ وہ زمین کے سینے میں دفن ان کانوں کا رخ کریں جہاں اندھیرا صرف باہر نہیں بلکہ ان کے مستقبل پر بھی چھایا ہوتا ہے۔
بین الاقوامی مزدور تنظیموں اور تحقیقی اداروں کی رپورٹس اس المیے کو محض ایک مقامی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی سانحہ قرار دیتی ہیں۔ IndustriALL Global Union کی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں ایک لاکھ سے زائد مزدور کوئلہ کانوں میں کام کرتے ہیں، جہاں حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں اور مزدوروں کو بنیادی سہولیات تک میسر نہیں۔ انہی رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ چند ہی برسوں کے دوران درجنوں حادثات میں سینکڑوں مزدور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے—ایک تحقیق کے مطابق 53 بڑے حادثات میں 312 مزدور ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر اموات کانوں کے بیٹھ جانے اور زہریلی گیس کے دھماکوں کی وجہ سے ہوئیں۔ صورتحال یہیں نہیں رکتی، بلکہ حالیہ برسوں میں بھی اموات کا سلسلہ جاری ہے؛ 2023 میں کم از کم 100 مزدور جان کی بازی ہار گئے جبکہ بعض برسوں میں یہ تعداد 100 سے 200 کے درمیان رہی۔ یہ اعداد و شمار دراصل شانگلہ جیسے علاقوں کے ان گھروں کی کہانیاں ہیں جہاں کم عمر نوجوان روزی کی تلاش میں جاتے ہیں مگر واپس لاش بن کر لوٹتے ہیں یا پھر کبھی لوٹ ہی نہیں پاتے۔
کوئلہ کانوں میں کام کرنے والا مزدور زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہتا، اور اگر زندہ بھی رہے تو صحت مند نہیں رہتا۔ ماہرین کے مطابق ایک مزدور زیادہ سے زیادہ پانچ سے دس سال تک اس قابل رہتا ہے کہ وہ کان میں کام کر سکے، اس کے بعد اس کے پھیپھڑے کوئلے کی دھول سے بھر جاتے ہیں اور وہ سانس کی بیماریوں، ٹی بی اور دیگر مہلک امراض کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ بیماریاں خاموشی سے جسم کو کھوکھلا کرتی ہیں، یہاں تک کہ ایک وقت آتا ہے جب مزدور نہ کام کے قابل رہتا ہے اور نہ ہی اس کے پاس علاج کے وسائل ہوتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک وہ مزدور ہیں جو حادثات میں زخمی ہو کر ہمیشہ کے لیے معذور ہو جاتے ہیں—ان کے ہاتھ، پاؤں یا بینائی چھن جاتی ہے اور وہ ساری عمر دوسروں کے محتاج بن کر رہ جاتے ہیں۔
یہ تمام صورتحال کسی قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں بلکہ حکومتی غفلت اور نظام کی ناکامی کا شاخسانہ ہے۔ کانوں میں حفاظتی قوانین موجود تو ہیں مگر ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ مزدور بغیر ہیلمٹ، بغیر ماسک اور بغیر کسی حفاظتی تربیت کے زمین کے سینکڑوں فٹ نیچے اترتے ہیں، جہاں زہریلی گیسیں، دھماکے اور زمین کا دھنس جانا ہر وقت ان کا مقدر بن سکتا ہے۔ حکومت ہر بڑے حادثے کے بعد بیانات دیتی ہے، تحقیقات کا اعلان کرتی ہے، مگر عملی اقدامات کہیں نظر نہیں آتے۔ مالکان کو شاذ و نادر ہی سزا ملتی ہے اور مزدوروں کے لواحقین کو ملنے والا معاوضہ بھی اکثر نا کافی یا تاخیر کا شکار ہوتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ اموات حادثات نہیں بلکہ ایک ایسا مسلسل جرم ہیں جس میں خاموشی بھی شریک ہے۔
شانگلہ کے لوگوں کی مجبوری اپنی جگہ ایک تلخ سچ ہے۔ جب ایک باپ کے پاس اپنے بچوں کو کھلانے کے لیے کچھ نہ ہو، جب تعلیم اور روزگار کے دروازے بند ہوں، تو وہ خطرے کو بھی روزگار سمجھنے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال شانگلہ سے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ان کانوں کا رخ کرتی ہے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ سفر واپسی کا نہ بھی ہو سکتا ہے۔ یہ صرف غربت نہیں بلکہ ریاستی عدم توجہی کا نتیجہ ہے جس نے ایک پورے ضلع کو خطرناک مزدوری کی طرف دھکیل دیا ہے۔
تاہم اس تمام تر المیے کے درمیان ایک پہلو ایسا بھی ہے جس پر بات کرنا ضروری ہے، اور وہ ہے آگاہی۔ یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ بعض نوجوان معمولی اجرت کے لالچ میں اپنی جان کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں، بغیر یہ سمجھے کہ یہ کمائی عارضی ہے مگر اس کے نتائج مستقل اور تباہ کن ہیں۔ ضروری ہے کہ شانگلہ کے لوگوں میں یہ شعور پیدا کیا جائے کہ زندگی چند ہزار روپے سے کہیں زیادہ قیمتی ہے، اور یہ کہ ہنر سیکھنا، تعلیم حاصل کرنا اور متبادل روزگار تلاش کرنا ہی ایک محفوظ مستقبل کی ضمانت ہو سکتا ہے۔
آخر میں سوال وہی ہے جو ہر یومِ مزدور پر اٹھتا ہے مگر جواب نہیں پاتا: کیا ریاست اپنے مزدوروں کو صرف اعداد و شمار سمجھتی رہے گی یا ان کی زندگیوں کو بھی کوئی اہمیت دی جائے گی؟ شانگلہ کے کان کن آج بھی اندھیری سرنگوں میں اترتے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ شاید شام کو اپنے گھروں کو لوٹ آئیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے کئی کبھی واپس نہیں آتے اور ان کے گھروں کے چراغ ہمیشہ کے لیے بجھ جاتے ہیں۔
![]()