پشاور: امامیہ علماء کونسل کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا ہے کہ دنیا کے بڑے اور متنازعہ ایپسٹین اسکینڈل میں ملوث امریکی اور اسرائیلی قیادت نے اس اسکینڈل سے توجہ ہٹانے کے لیے ایران پر حملہ کر کے پوری انسانیت کو ایک نئے امتحان میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران دشمن قوتوں کے خلاف پوری مسلم امہ ایک پیج پر کھڑی ہے اور دنیا بھر کے مظلوم عوام ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کر رہے ہیں۔
یہ بات امامیہ علماء کونسل کے جنرل سیکرٹری مولانا تقی زیدی اور مدرسہ شہید عارف حسین الحسینی کے علامہ عابد حسین شاکری نے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر امامیہ علماء کونسل کے صدر علامہ جمیل اظہر، مولانا نزیر حسین مطاہری، مولانا زکی الحسین الحسینی اور امامیہ جرگہ کے مظفر علی اخونزادہ بھی موجود تھے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا تقی زیدی نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل خود کو انصاف اور انسانی حقوق کے علمبردار قرار دیتے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ دنیا کو جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور فلسطین سمیت دنیا بھر میں شہید ہونے والے مسلمانوں کو خراجِ عقیدت اور ہدیہ تعزیت پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے مجلس خبرگان کے فیصلے کے مطابق آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی بطور نئے رہبر تقرری کا خیر مقدم بھی کیا۔
علامہ عابد حسین شاکری نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایران میں بچوں کے اسکول پر بمباری کر کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی گئی ہے جس میں 186 طالبات سمیت متعدد افراد شہید ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان معصوم شہداء کا خون عالمی طاقتوں کے چہرے سے نقاب اتارنے کا سبب بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر گولیاں چلانے والے عناصر کو فوری گرفتار کیا جائے اور مظاہروں کے دوران گرفتار کیے گئے تمام افراد کو رہا کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جمعۃ الوداع کے موقع پر دنیا بھر میں یوم القدس منایا جا رہا ہے اور اسی سلسلے میں پشاور میں بھی اہل سنت اور اہل تشیع کی جانب سے نماز جمعہ کے بعد شہر کے مختلف مقامات سے ریلیاں نکالی جائیں گی۔ رہنماؤں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں شرکت کر کے فلسطین اور ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔
علماء نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ خلیجی ریاستوں میں قائم غیر ملکی اڈے پاکستان، ایران اور دیگر مسلم ممالک کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں، تاہم تمام مسلم ممالک کو ایک دوسرے کی خودمختاری اور سرحدوں کا احترام کرنا چاہیے۔ انہوں نے پاکستان میں شیعہ، سنی، دیوبندی اور بریلوی مکاتب فکر کے اتحاد کو ایک مثبت مثال قرار دیا۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے