
پشاور پریس کلب میں جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگی اور صحافیوں کو ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنے کے مقصد کے تحت مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر ایک روزہ جامع تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ میں 50 سے زائد صحافیوں نے شرکت کی۔ اس کا اہتمام خیبر یونین آف جرنلسٹس نے خیبر پختونخوا آئی ٹی بورڈ کے تعاون سے کیا، جس کا مقصد میڈیا نمائندگان کو جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل سکیورٹی اور اے آئی کے عملی استعمال سے آگاہ کرنا تھا۔
کے پی آئی ٹی بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر عاکف خان نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ معروف ٹرینر ڈاکٹر نعمان نے تفصیلی سیشنز کے ذریعے شرکاء کو مصنوعی ذہانت کی بنیادی سمجھ، مختلف عملی ٹولز اور صحافت میں اس کے مؤثر استعمال پر رہنمائی فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی خبر نویسی کے عمل کو تیز اور مؤثر بنانے کے ساتھ ساتھ ڈیٹا اینالیسز، تحقیقاتی رپورٹس، فیک نیوز کی نشاندہی، ویڈیو و آڈیو ویریفکیشن اور سوشل میڈیا مانیٹرنگ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
ڈاکٹر نعمان نے عملی مظاہروں کے ذریعے مختلف اے آئی ٹولز کا استعمال بھی سکھایا اور بتایا کہ کس طرح صحافی محدود وقت میں زیادہ مستند اور جامع مواد تیار کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اے آئی انسانی صحافت کا متبادل نہیں بلکہ ایک معاون ٹیکنالوجی ہے، جس کا استعمال خبر کی صداقت، تحقیق اور اخلاقی اصولوں کو برقرار رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔
خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر کاشف الدین سید اور جنرل سیکرٹری ارشاد علی نے اس موقع پر کہا کہ عالمی سطح پر میڈیا تیزی سے ڈیجیٹلائزیشن کی طرف بڑھ رہا ہے، اور اگر صحافی جدید ٹیکنالوجی سے خود کو ہم آہنگ نہ کریں تو وہ پیشہ ورانہ میدان میں پیچھے رہ جائیں گے۔ انہوں نے یونین کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اراکین کو عالمی معیار کی تربیت فراہم کرنا اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے کے پی آئی ٹی بورڈ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کے تعاون سے صحافیوں کو جدید مہارتیں سیکھنے کا بہترین موقع ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافت کا مستقبل ڈیٹا جرنلزم، ڈیجیٹل میڈیا اور مصنوعی ذہانت سے جڑا ہوا ہے، اس لیے باقاعدہ تربیتی پروگرامز وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
ورکشاپ میں جنرل سیکرٹری عالمگیر خان، نائب صدر پشاور پریس کلب ضیاء الحق، چیئرمین کیپسٹی بلڈنگ کمیٹی عرفان موسٰی زئی، سینئر نائب صدر خیبر یونین آف جرنلسٹس عمران ایاز، نائب صدر شہزاد احمد، جائنٹ سیکرٹری شاہد خان، ارشد ڈار سمیت دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔ اختتام پر سوال و جواب کا سیشن منعقد ہوا جس میں شرکاء نے اے آئی کے اخلاقی پہلوؤں، ڈیٹا سکیورٹی اور فیک نیوز کے تدارک سے متعلق سوالات اٹھائے۔ منتظمین نے مستقبل قریب میں مزید ایڈوانس ٹریننگ سیشنز کے انعقاد کا اعلان بھی کیا۔
![]()